بلیک ہول کی پیش گوئی اور دریافت کےلیے طبیعیات کا نوبل انعام

جاسم محمد

محفلین
بلیک ہول کی پیش گوئی اور دریافت کےلیے طبیعیات کا نوبل انعام
ویب ڈیسک منگل 6 اکتوبر 2020
2089464-nobelphysicsmedalx-1601966137-603-640x480.jpg

اس سال ہر زمرے میں نوبل انعام کی رقم ایک کروڑ سویڈش کرونا رکھی گئی ہے۔ (فوٹو: فائل)

اسٹاک ہوم: کیرولنسکا انسٹی ٹیوٹ کی نوبل اسمبلی نے اس سال طبیعیات (فزکس) کے نوبل انعام کا اعلان کردیا ہے جس کے مطابق نصف انعام راجر پنروز کو بلیک ہول بننے کے بارے میں درست ترین پیش گوئی پر، جبکہ باقی نصف انعام مشترکہ طور پر رائنہارڈ گینزل اور اینڈریا گیز کو ہماری کہکشاں کے مرکز میں ایک انتہائی ضخیم (سپر میسیو) بلیک ہول دریافت کرنے پر دیا جارہا ہے۔

nobel-physics-laureates-2020-1601979908.jpg


برطانیہ سے تعلق رکھنے والے معروف ریاضی داں، سر راجر پنروز کا شمار اُن سائنسدانوں میں ہوتا ہے جنہوں نے آئن اسٹائن کے نظریہ اضافیت عمومی کی مساواتوں کو بہت باریک بینی کے ساتھ سمجھا اور 1965 میں ناقابلِ تردید ریاضیاتی ثبوتوں کے ساتھ یہ بتایا کہ بلیک ہولز ان ہی مساواتوں کے اطلاق کا منطقی نتیجہ ہیں۔

اسٹیفن ہاکنگ کے دوست اور ہم عصر، ڈاکٹر رچرڈ پنروز نہ صرف بلند پایہ سائنسداں ہیں بلکہ ’’ایمپیررز نیو مائنڈ‘‘ سمیت کئی مشہور سائنسی کتابوں کے مصنف بھی ہیں۔

امریکا سے تعلق رکھنے والی اینڈریا گیز اور جرمنی کے ماہرِ فلکیات رائنہارڈ گینزل نے 1990 کے عشرے میں دریافت کیا تھا کہ ہماری کہکشاں کے مرکز میں ایک بہت بڑا بلیک ہول موجود ہے جس کی کمیت ہمارے سورج کے مقابلے میں بھی 46 لاکھ گنا زیادہ ہے۔ کہکشانی مرکزوں میں ایسے بلیک ہولز کو ’’اے جی این‘‘ یا ’’ایکٹیو گیلیکٹک نیوکلیائی‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ اس دریافت کی بدولت کائنات کے بارے میں ہمارے سابقہ تصورات میں خاصی تبدیلی آئی ہے لیکن نت نئے اسرار بھی ہمارے سامنے آئے ہیں۔

ان سب کے علاوہ اینڈریا گیز وہ چوتھی سائنسدان ہیں جنہیں طبیعیات (فزکس) میں نوبل انعام کا حقدار قرار دیا گیا ہے۔

اس سال ہر زمرے (کٹیگری) میں نوبل انعام کی رقم 10 ملین (ایک کروڑ) سویڈش کرونا رکھی گئی ہے جو پاکستان روپوں میں تقریباً 18 کروڑ 50 لاکھ روپے جتنی بنتی ہے۔ اس میں سے نصف رقم سر راجر پنروز کو ملے گی جبکہ باقی کی نصف رقم اینڈریا گیز اور رائنہارڈ گینزل میں مساوی تقسیم کی جائے گی۔

فزکس (طبیعیات) کے نوبل انعامات: دلچسپ تاریخی معلومات
  • 1901 سے 2019 تک طبیعیات/ فزکس کے شعبے میں 113 مرتبہ نوبل انعامات دیئے گئے ہیں۔ پہلی اور دوسری جنگِ عظیم کے دوران 6 سال ایسے تھے جن میں کوئی نوبل انعام نہیں دیا گیا: 1916، 1931، 1934، اور 1940 سے لے کر 1942 تک۔
  • ان 119 سال میں کُل 213 افراد کو نوبل انعام برائے طبیعیات دیا جاچکا ہے جن میں سے جون بیرڈین وہ واحد سائنسدان تھے جنہوں نے اسی زمرے میں دو مرتبہ نوبل انعام حاصل کیا۔
  • فزکس کے ان 213 نوبل انعام یافتگان میں صرف میری کیوری، ماریا جیوپرٹ مائر اور ڈونا اسٹرکلینڈ وہ تین خواتین سائنسدان رہیں جنہوں نے بالترتیب 1903، 1963، اور 2018 میں یہ انعام حاصل کیا۔
  • اگرچہ جون بیرڈین نے دو مرتبہ فزکس کے شعبے میں نوبل انعام حاصل کیا لیکن میری کیوری کا منفرد اعزاز یہ ہے کہ انہیں 1903 کا نوبل انعام طبیعیات میں جبکہ 1911 کا نوبل انعام برائے کیمیا (کیمسٹری) دیا گیا۔
  • ان میں سے 47 نوبل انعامات برائے طبیعیات ایک ایک سائنسدان کو (بلا شرکتِ غیرے)؛ 32 انعامات دو دو ماہرین کو مشترکہ طور پر؛ جبکہ طبیعیات کے 34 نوبل انعامات میں تین تین تحقیق کاروں کو ایک ساتھ شریک قرار دیا گیا۔
  • نوبل اسمبلی کے دستور کے مطابق کوئی بھی ایک نوبل انعام تین سے زیادہ افراد میں تقسیم نہیں کیا جاسکتا۔
  • 2018 تک طبیعیات (فزکس) کا نوبل انعام حاصل کرنے والوں کی اوسط عمر تقریباً 58 سال اور ڈھائی مہینے رہی ہے۔
  • فزکس کے شعبے میں سب سے کم عمر سائنسداں ولیم لارنس براگ تھے جنہوں نے صرف 25 سال کی عمر میں یہ انعام حاصل کیا۔ وہ اپنے والد سر ولیم ہنری براگ کے ساتھ 1915 کے نوبل انعام برائے طبیعیات میں مساوی طور پر شریک قرار دیئے گئے تھے۔
  • اسی زمرے کے سب سے عمر رسیدہ سائنسداں آرتھر ایشکن تھے جنہیں 2018 میں نوبل انعام برئے طبیعیات دیا گیا؛ تب ان کی عمر 96 سال تھی۔
  • نوبل انعام صرف زندہ افراد کو دیا جاتا ہے یعنی اس کےلیے کسی ایسے شخص کو نامزد نہیں کیا جاسکتا جو مرچکا ہو۔
  • 1974 میں نوبل فاؤنڈیشن کے آئین میں تبدیلی کے ذریعے فیصلہ کیا گیا کہ آئندہ سے کسی بھی شخص کو بعد از مرگ (مرنے کے بعد) نوبل انعام نہیں دیا جائے گا؛ لیکن اگر نوبل انعام کا اعلان ہونے کے بعد متعلقہ فرد کا انتقال ہوجائے تو وہ نوبل انعام اسی کے نام رہے گا۔
  • 1974 سے پہلے صرف 2 افراد کو بعد از مرگ نوبل انعام دیا گیا تھا لیکن اس کے بعد سے اب تک کسی کو مرنے کے بعد نوبل انعام نہیں دیا گیا ہے۔
  • کیوری خاندان کو ’’نوبل گھرانہ‘‘ بھی کہا جاتا ہے کیونکہ اس میں پہلے میری کیوری اور ان کے شوہر پیری کیوری نے 1903 میں فزکس کا نوبل انعام مشترکہ طور پر (ہنری بیکرل کے ہمراہ) حاصل کیا؛ جبکہ ان کی ایک بیٹی آئرین جولیٹ کیوری بھی اپنے شوہر فریڈرک جولیٹ کے ساتھ 1935 کے نوبل انعام برائے کیمیا کی حقدار قرار دی گئی تھیں۔ یوں اس ایک خاندان نے مجموعی طور پر 5 نوبل انعامات جیتے کیونکہ میری کیوری کو 1911 میں بھی کیمسٹری کا نوبل پرائز دیا گیا تھا۔
  • باپ اور بیٹے فزکس کے نوبل انعام یافتگان: ان میں ولیم براگ اور لارنس براگ کو 1915 میں ایک ساتھ نوبل انعام دیا گیا؛ نیلز بوہر نے 1922 میں جبکہ ان کے بیٹے آگی نائلز بوہر نے 1975 میں فزکس کا نوبل پرائز جیتا؛ مین سائیگبان نے 1924 میں جبکہ ان کے بیٹے کائی ایم سائیگبان نے 1981 کے نوبل انعام برائے طبیعیات میں حصہ پایا؛ جبکہ مشہورِ زمانہ سر جوزف جون تھامسن (جے جے تھامسن) نے 1906 میں فزکس کا نوبل پرائز جیتا اور 1937 میں ان کے بیٹے جارج پیگٹ تھامسن نے بھی اس شعبے کا نوبل انعام اپنے نام کیا۔
محمد سعد
 
Top