بغرض اصلاح

الف عین
وصل تھا لپیٹ میں خفگی کے ظَلال کی
مسکرا کے اُس نے پھر چاندنی بحال کی

مہکتے گلوں کو تو سب سراہتے ہیں پر
دیکھتا نہیں کوئی کس نے دیکھ بھال کی

گلستانِ ہجر میں ہے سماں بہار کا
پھول تیری یاد کے, تتلیاں خیال کی

پھول سب چمن میں تب, رہ گئے سمٹ کے پھر
بات جب نکل پڑی اُس کے خد وخال کی

چھا رہی تھی جب خزاں زندگی کے باغ میں
آپ آئے باغ میں تازگی بحال کی
 

الف عین

لائبریرین
وصل تھا لپیٹ میں خفگی کے ظَلال کی
مسکرا کے اُس نے پھر چاندنی بحال کی
بہت مجہول ہو گیاظلال عربی لفظ بھی اجنبی لگتا ہے چاندنی بحال کرنا بھی سمجھ میں نہیں آتا
مہکتے گلوں کو تو سب سراہتے ہیں پر
دیکھتا نہیں کوئی کس نے دیکھ بھال کی
مہکتے کا تلفظ غلط بندھا ہے، "پر" بھی مستحسن نہیں
الفاظ اور ترتیب بدلو
گلستانِ ہجر میں ہے سماں بہار کا
پھول تیری یاد کے, تتلیاں خیال کی
درست
پھول سب چمن میں تب, رہ گئے سمٹ کے پھر
بات جب نکل پڑی اُس کے خد وخال کی
پہلے مصرع کے الفاظ بھی بدلے جائیں
چھا رہی تھی جب خزاں زندگی کے باغ میں
آپ آئے باغ میں تازگی بحال کی
ٹھیک
 
بہت مجہول ہو گیاظلال عربی لفظ بھی اجنبی لگتا ہے چاندنی بحال کرنا بھی سمجھ میں نہیں آتا

مہکتے کا تلفظ غلط بندھا ہے، "پر" بھی مستحسن نہیں
الفاظ اور ترتیب بدلو

درست

پہلے مصرع کے الفاظ بھی بدلے جائیں

ٹھیک
الف عین بہت شکریہ سر

آگ میں تھا جل رہا پھول اشتعال کی
مسکرا کے اُس نے پھر تازگی بحال کی

شوخیاں گلوں کی تو سب سراہنے لگے
پُوچھتا نہیں کوئی کس نے دیکھ بھال کی

گلستانِ ہجر میں ہے سماں بہار کا
پھول تیری یاد کے, تتلیاں خیال کی

رنگ پھیکے پڑ گئے پھر چمن میں کلیوں کے
بات جب نکل پڑی اُس کے خدوخال کی

چھا رہی تھی جب خزاں زندگی کے باغ میں
آپ آئے باغ میں تازگی بحال کی
 

الف عین

لائبریرین
الف عین بہت شکریہ سر

آگ میں تھا جل رہا پھول اشتعال کی
مسکرا کے اُس نے پھر تازگی بحال کی
یہ زبردستی کا مطلع لگ رہا ہے، اشتعال کے معنی خود شعلگی کے ہیں، اشتعال کی آگ؟
شوخیاں گلوں کی تو سب سراہنے لگے
پُوچھتا نہیں کوئی کس نے دیکھ بھال کی
تو کا طویل کھنچنا ناگوار ہے
مسکراہٹیں گلوں کی سب سراہتے رہے
ایک تجویز
گلستانِ ہجر میں ہے سماں بہار کا
پھول تیری یاد کے, تتلیاں خیال کی

رنگ پھیکے پڑ گئے پھر چمن میں کلیوں کے
بات جب نکل پڑی اُس کے خدوخال کی
باغ کے ہر ایک گل کے رنگ پھیکے پڑ گئے
پھیکے کی ے کا اسقاط اگرچہ اب بھی ہے لیکن کلیوں کا اسقاط درست ہو گیا ہے
چھا رہی تھی جب خزاں زندگی کے باغ میں
آپ آئے باغ میں تازگی بحال کی
درست
 
Top