بسیرا

صدف رباب

محفلین
بسیرا

اداسی روح کے قصوں کو بڑی حیرت سے دیکھے ہے
دراڑوں میں مگر خود کو وہ تکتی ہے تو روتی ہے

شبِ غم پاس آتی ہے یونہی سرگوشیاں کرتی
میری ہمت کو تکتی ہے تو دن بھر سوگ کرتی ہے

سکوتِ شام میں گہرے ہجر کے رنگ آتے ہیں
مجھے ہنستا ہوا پا کر بڑا ہی بین کرتے ہیں

کبھی جو درد آتا ہے فضاؤں میں ٹہلتا ہے
مجھے اُجڑا ہوا پا کر اچانک رونے لگتا ہے

میں تنہائی میں اکثر چاند سے نظریں ملاؤں تو
چُرا کر نظر گہرے بادلوں میں چھپ سا جاتا ہے

کھبی خود کو جو محفل میں لیجانا پڑ ہی جائے تو
میری تنہائی محفل میں بھی آ کر رقص کرتی ہے

کبھی بہتے ہوے پانی کی مجھ پر نظر پڑ جائے
میرے اشکوں سے شرمندہ بڑا لا چار دکھتا ہے

کبھی ساحل پہ آ کے سیپیوں کو ہاتھ میں گر لوں
گوہر انکا میرے غم میں سیاہی اوڑھ لیتا ہے

کھبی پیڑوں کے ساے میں ذرا پل کو بیٹھوں تو
ہمیشہ زرد پتّا ہی میرے دامن میں گرتا ہے

اندھیروں سے ، اداسی سے مجھے تنہائی سے جاناں
بڑا ہی لطف آتا ہے ذرا بھی ڈر نہیں لگتا

میں کہتی ہوں صدف یہ سب اداسی اور تنہائی
یہ مجھ میں رہ رہی ہیں میں کہاں اب ان میں رہتی ہوں
 

عرفان سعید

محفلین
Top