براڈ شیٹ تنازع: لندن میں حکومت پاکستان کے بینک اکاؤنٹس پھر منجمد

ابن آدم

محفلین
(24نیوز) براڈ شیٹ کمپنی اور نیب کے درمیان کھڑا ہونے والا تنازع شدت اختیار کرگیا۔۔برطانوی فرم اور قومی احتساب بیورو کے درمیان ہونے والے تنازع کے باعث حکومت پاکستان کے لندن کے ایک پاکستانی بینک میں موجود اکاؤنٹس پھر منجمد کر دیے گئے۔


براڈ شیٹ کی درخواست پر ہائیکورٹ کا پاکستانی اثاثے منجمد کرنے کا نیاحکم نامہ جاری ہوا ہے جس میں عدالت کا کہنا ہے کہ معاملہ حل ہونے تک بینک متعلقہ اکاؤنٹس سے رقم ٹرانسفر یا ادائیگی نہیں کر سکتا۔عارضی تھرڈ پارٹی ڈیبٹ آرڈر لندن ہائیکورٹ کے ماسٹر ڈویژن نے جاری کیا ہے جب کہ لندن میں پاکستانی بینک نے بھی فیصلے کی اطلاع ملنے کی تصدیق کر دی ہے۔عدالتی ذرائع کا کہنا ہے کہ براڈ شیٹ کی درخواست پر نیا حکم نامہ 15 فروری کو جاری کیا گیا۔

براڈ شیٹ نے نیب کے ساتھ ہونے والے تنازع میں حکومت پاکستان سے سود سمیت بقایا رقم کی مد میں تقریباً ایک ملین پاؤنڈ مانگا ہے۔ذرائع کا بتانا ہے کہ بینک حکام نے یقین دہانی کروائی ہے کہ برطانوی عدالت کے حکم کی تعمیل کریں گے۔حکومت پاکستان نے 6 ہفتے قبل بینک کے خلاف کارروائی کا عندیہ دیا تھا لیکن تاحال اس پر عمل نہیں ہوا۔

واضح رہے کہ براڈ شیٹ پاکستانی اکاؤنٹس منجمد کروا کر دسمبر میں 28 ملین ڈالر وصول کر چکا ہے جب کہ حکومت پاکستان سے بقایا رقم نہ ملنے پر برطانوی فرم نے ہائیکورٹ سے دوبارہ رجوع کیا تھا۔عدالتی حکم کے مطابق حکومت پاکستان کی جانب سے براڈ شیٹ کو 892,521,50 پاؤنڈ ادا کیے جانے ہیں۔حتمی تھرڈ پارٹی ڈیبٹ آرڈر کے اجرا سے متعلق سماعت رواں برس 30 جولائی کو ہو گی، اس حکم کے بعد بینک کو تمام پاکستانی اکاؤنٹس کی نشاندہی کرنا ہو گی، بصورت دیگر پابندیاں لگ سکتی ہیں یا بینک کا لائسنس بھی منسوخ ہو سکتا ہے۔

Ali Baba جاسم محمد خالد محمود چوہدری ثمین زارا
 

جاسم محمد

محفلین
براڈ شیٹ نے نیب کے ساتھ ہونے والے تنازع میں حکومت پاکستان سے سود سمیت بقایا رقم کی مد میں تقریباً ایک ملین پاؤنڈ مانگا ہے۔ذرائع کا بتانا ہے کہ بینک حکام نے یقین دہانی کروائی ہے کہ برطانوی عدالت کے حکم کی تعمیل کریں گے۔
ظاہر ہے یہ برطانیہ ہے، پاکستان تو نہیں جہاں بڑے بڑے چوروں لٹیروں کو عدالتی حکم پر سزا دینے کی بجائے جعلی طبی رپورٹس بنا کر ملک سے فرار کروا دیا جاتا ہے۔
 

ابن آدم

محفلین
بالکل یہ برطانیہ ہی ہے اسی لئے نواز شریف پر جھوٹا الزام لگا کر واپس لینے پر بھی براڈ شیٹ کو نواز شریف کے وکلا کو ٤٥ لاکھ روپے دینے پر گئے.
پاکستان ہوتا تو نیب کے وکلاء ایسے ٢٠٠ جھوٹے الزامات لگا کر پریس کانفرنسز کر سکتے تھے.
:LOL::LOL::LOL::LOL::LOL::LOL::LOL::LOL::LOL::LOL::LOL::LOL::LOL::LOL:

Ali Baba جاسم محمد خالد محمود چوہدری ثمین زارا
 

جاسم محمد

محفلین
بالکل یہ برطانیہ ہی ہے اسی لئے نواز شریف پر جھوٹا الزام لگا کر واپس لینے پر بھی براڈ شیٹ کو نواز شریف کے وکلا کو ٤٥ لاکھ روپے دینے پر گئے.
کیس اس لئے واپس لیا کیونکہ براڈ شیٹ کو عدالتی حکم کے مطابق اپنے پیسے پاکستانی ہائی کمیشن کے اکاؤنٹ سے حاصل ہو گئے تھے۔ اس لئے واپس نہیں لیا کہ سزا یافتہ مجرم نواز شریف پر الزام جھوٹا تھا۔
 

جاسم محمد

محفلین
پاکستان ہوتا تو نیب کے وکلاء ایسے ٢٠٠ جھوٹے الزامات لگا کر پریس کانفرنسز کر سکتے تھے.
پاکستان ہوتا تو الیکشن کمیشن ن لیگ کے جھوٹے الزامات پر ہر ہارنے والا الیکشن دوبارہ کرواتا یہاں تک کہ ن لیگ ہر جگہ سے جیت جاتی۔
 

جاسم محمد

محفلین
Top