برائے تنقید: شیشے میں تو جو گردن کے تل کو دیکھتا ہے

ذیشان لاشاری نے 'اِصلاحِ سخن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جولائی 16, 2018

ٹیگ:
  1. ذیشان لاشاری

    ذیشان لاشاری محفلین

    مراسلے:
    99
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    شیشے میں تو جو گردن کے تل کو دیکھتا ہے
    ہے یوں کہ میرے دل کے قاتل کو دیکھتا ہے
    تاروں کی جھرمٹیں ہیں چندا کے گرد لیکن
    حسرت سے وہ بھی تیری محفل کو دیکھتا ہے
    محدود ہو کے رہنا کس کو قبول ہے یاں
    نفرت سے ہر سمندر ساحل کو دیکھتا ہے
    وہ آنکھ میرے دل کو یوں دیکھتی ہے جیسے
    تلوار لے کے قاتل بسمل کو دیکھتا ہے
    ہم دیکھتے ہیں انکی وہ سایہ دار زلفیں
    جیسے کہ اک مسافر منزل کو دیکھتا ہے
     

اس صفحے کی تشہیر