برائے اصلاح

نمرہ

محفلین
کچھ سادہ سے اشعار اس بحر میں کہنے کی کوشش کی ہے:
فعولن فعولن فعولن فعل
براہِ کرم ہر قسم کی اغلاط سے آگاہ کیجیے۔



تقاضے بہت سے زمانے کے تھے
نہ قائل مگر ہم نبھانے کے تھے
مری سادگی نے عیاں کر دیے
ابھی زخم سارے چھپانے کے تھے
ہیں مدفون وہ میرے دل میں کہیں
فسانے کہ اُنہیں سنانے کے تھے
وہ بارِ دگر میں نے پختہ کیے
نقوشِ کہن کہ مٹانے کے تھے
عجب ہی طوفانوں میں تھی زندگی
گرانے کے تھے ، نہ اٹھانے کے تھے
جو تمغے نمایاں ہیں دیوار پر
جلا کر ہوا میں اڑانے کے تھے
بچا لے گئی میری قسمت مجھے
وہ ناوک تو سب ہی نشانے کے تھے
ہوئے در بدر کچھ عجب طور سے
کہ آوارہ تھے نہ ٹھکانے کے تھے
 
بہت خوب نمرہ بہن، بہت خوبصورت غزل ہے۔
صرف چند ایک چھوٹی چھوٹی صلاحیں پیش کرتے ہیں، گر قبول افتد۔ ویسے تو استادَ محترم تشریف لاتے ہی ہوں گے۔

تقاضے بہت سے زمانے کے تھے
نہ قائل مگر ہم نبھانے کے تھے
مری سادگی نے عیاں کر دیے
ابھی زخم سارے چھپانے کے تھے
ہیں مدفون وہ میرے دل میں کہیں
فسانے کہ اُنہیں جو ان کو سنانے کے تھے
وہ بارِ دگر میں نے پختہ کیے
نقوشِ کہن کہ جو مٹانے کے تھے
عجب ہی طوفانوں ایک طوفاں میں تھی زندگی
گرانے کے تھے ، نہ اٹھانے کے تھے
جو تمغے نمایاں ہیں دیوار پر
جلا کر ہوا میں اڑانے کے تھے
بچا لے گئی میری قسمت مجھے
وہ ناوک تو سب ہی نشانے کے تھے
ہوئے در بدر کچھ عجب طور سے
کہ آوارہ تھے نہ ٹھکانے کے تھے
 

الف عین

لائبریرین
ماشاء اللہ غزل بھی اچھی ہے، اور خلیل میاں نے درست مشورے دئے ہیں، بلا جھجھک قبول کر لو۔ بس اغلاط کی نشان دہی کر دیتا ہوں۔
فسانے کہ اُنہیں جو ان کو سنانے کے تھے
÷÷ انہیں در اصل ان۔ہیں تقطیع میں آتا تھا، جب کہ یہ درست ’نھ‘ جیسے بھ پھ تھ ہے۔
نقوشِ کہن کہجو مٹانے کے تھے
’کہ‘ دو ہجائی کچھ لوگ جائز سمجھ لیتے ہیں اگرچہ غلط ہی مانتا ہوں میں تو۔ یہاں یہ بر وزن فع یا ’لُن‘ آ رہا تھا۔ خلیل نے ’جو‘ میں بدل کر درست کر دیا ہے


عجب ہی طوفانوں ایک طوفاں میں تھی زندگی
طوفان کو تم نے طُفان نظم کیا تھا۔ جو غلط تلفظ تھا۔
 

نمرہ

محفلین
صرف چند ایک چھوٹی چھوٹی صلاحیں پیش کرتے ہیں، گر قبول افتد۔۔

اصلاح اور صلاح کے لیے بے حد شکر گزار ہوں، البتہ کچھ بنیادی سوالات ذہن میں ہیں :
۱۔ کیا 'ان کو' کا استعمال درست ہے، جبکہ اس کا متبادل لفظ 'انھیں ' موجود ہے؟
۲۔ ' وہ بارِ دگر میں نے پختہ کیے نقوشِ کہن جو مٹانے کے تھے '
کیا پہلے مصرعے میں 'وہ' اور دوسرے میں 'جو' کے آنے سے کچھ تکرار کا تاثر نہیں ابھرتا ؟
۳۔ ' عجب ایک طوفاں میں تھی زندگی گرانے کے تھے ، نہ اٹھانے کے تھے '
میری ناقص رائے میں یہاں مصرعہ ثانی کی مطابقت سے مصرعہ اول میں جمع کے صیغے میں بات کرنی چاہیے، یعنی ایک سے زیادہ طوفانوں کی۔اگر اس طرح کر لیا جائے :
عجب تھے وہ طوفاں مرے سامنے
تو کیسا ہے؟
 
بہت خوب نمرہ صاحبہ۔ چند اوزان کی غلطیاں جو کہ پہلے ہی ترمیم کا نشانہ بنچکی ہیں باقی اشعار سارے کمال کے ہیں۔
 
میرا اک سوال تھا وہ یہ کہ آپنے بحر منتخب کرکے اشعار "لکھیں" ہیں اس میں دقت نہیں پیش آئی آپ کو؟ کیا یہ غزل قصداً لکھی گئی ہے؟ امید کرتا ہوں آپ نے مرے سوال کو سمجھا ہوگا۔
 

نمرہ

محفلین
میرا اک سوال تھا وہ یہ کہ آپنے بحر منتخب کرکے اشعار "لکھیں" ہیں اس میں دقت نہیں پیش آئی آپ کو؟ کیا یہ غزل قصداً لکھی گئی ہے؟ امید کرتا ہوں آپ نے مرے سوال کو سمجھا ہوگا۔
دراصل غزل کہنے سے قبل میں نے کوئ خاص بحر منتخب نہیں کی، ذہن میں ایک مصرعہ آ گیا، اس کے ارکان '۲۲۱ ۲۲۱ ۲۲۱ ۲۱ ' لگ رہے تھے، پھر سارے اشعار اسی سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کی۔
بعد میں علم ہوا کہ یہ ایک بحر ہے اور اس کا نام 'بحر متقارب مثمن محذوف' ہے۔ اور رہا دقت پیش آنے کا سوال، تو یہ ایک چھوٹی بحر ہے اور ایک ہی رکن تین مرتبہ آ رہا ہے، تو ایسی بحریں نسبتاََ آسان ہوتی ہیں میرے خیال میں۔۔
امید ہے کہ آپ کے سوال کا جواب مل گیا ہو گا۔
 

الف عین

لائبریرین
اصلاح اور صلاح کے لیے بے حد شکر گزار ہوں، البتہ کچھ بنیادی سوالات ذہن میں ہیں :
۱۔ کیا 'ان کو' کا استعمال درست ہے، جبکہ اس کا متبادل لفظ 'انھیں ' موجود ہے؟
۲۔ ' وہ بارِ دگر میں نے پختہ کیے نقوشِ کہن جو مٹانے کے تھے '
کیا پہلے مصرعے میں 'وہ' اور دوسرے میں 'جو' کے آنے سے کچھ تکرار کا تاثر نہیں ابھرتا ؟
۳۔ ' عجب ایک طوفاں میں تھی زندگی گرانے کے تھے ، نہ اٹھانے کے تھے '
میری ناقص رائے میں یہاں مصرعہ ثانی کی مطابقت سے مصرعہ اول میں جمع کے صیغے میں بات کرنی چاہیے، یعنی ایک سے زیادہ طوفانوں کی۔اگر اس طرح کر لیا جائے :
عجب تھے وہ طوفاں مرے سامنے
تو کیسا ہے؟
پہلی بات۔ نہیں ، کوئی فرق نہیں پڑتا، انہیں یا ان کو ،میں۔ لیکن انہیں یہاں ’ان ہیں‘ نظم ہوا تھا اس لئے ان کو میں تبدیل کیا گیا
2۔ وہ اور جو میں تکرار نہیں، ’وہ جو‘ اکثر استعمال کیا جاتا ہے فیض کو ہی دیکھو
وہ جو قرض رکھتے تھے جان پر، وہ حساب آج چکا دیا
یہاں بس ان دونوں الفاظ کے درمیان فصل ہے۔
3۔ عجب تھے وہ طوفاں مرے سامنے
درست مصرع ہے۔
 

نمرہ

محفلین
پہلی بات۔ نہیں ، کوئی فرق نہیں پڑتا، انہیں یا ان کو ،میں۔ لیکن انہیں یہاں ’ان ہیں‘ نظم ہوا تھا اس لئے ان کو میں تبدیل کیا گیا
2۔ وہ اور جو میں تکرار نہیں، ’وہ جو‘ اکثر استعمال کیا جاتا ہے فیض کو ہی دیکھو
وہ جو قرض رکھتے تھے جان پر، وہ حساب آج چکا دیا
یہاں بس ان دونوں الفاظ کے درمیان فصل ہے۔
3۔ عجب تھے وہ طوفاں مرے سامنے
درست مصرع ہے۔

سمجھ میں آ گیا اب ، رہنمائ کا بہت شکریہ۔۔
 

نمرہ

محفلین
ایک اور سوال ہے، کیایہاں مطلعے اور آخری دو اشعار میں ایطا نہیں ہے؟ کیونکہ نبھا، سنا، اڑا، دکھا وغیرہ تو قافیے ہیں مگر زمان، نشان اور ٹھکانا نہیں۔
 

محمد وارث

لائبریرین
یہاں مسئلہ ایطا کا نہیں جیسا ہے کہا اعجاز صاحب نے لکھا ہے بلکہ یہ مسئلہ ہے کے کئی ایک الفاظ کے ساتھ یائے زإئد لگا کر قافیہ بنایا گیا ہے یعنی الفاظ زمان، نشانہ اور ٹھکانہ میں یائے زائد لگا کر ان کو زمانے، نشانے اور ٹھکانے بنایا گیا ہے یعنی یے اضافی لگا کر لفظ بنایا گیا ہے جبکہ نبھانے وغیرہ میں یے اصلی لفظ کا حصہ ہے اور زائد نہیں ہے۔

ایسا قافیہ بنانا جائز ہوتا ہے، بحر الفصاحت میں مولوسی نجم الغنی نے اس کی مثال میں ایک شعر لکھا ہے جو اس وقت یاد نہیں اس میں قافیے خالی اور خشک سالی کی مثال دی ہے، خالی میں یے اصلی ہے اور خشک سالی میں زائد۔

مزید تائید کیلیے ایک مشہور غزل، داغِ دل ہم کو یاد آنے لگے کا مطالعہ مفید ثابت ہوگا کیونکہ اس غزل میں بھی یہی قافیے ہیں جو آپ کی غزل میں ہیں۔
 

نمرہ

محفلین
جی بہت شکریہ رہنمائ کرنے کا، دراصل کہیں ایطا کی تعریف پڑھی تھی، غالباََ صحیح طرح سمجھ میں نہیں آئ تو اسے بھی ایطا سمجھ لیا۔۔
مزید وضاحت باقی صدیقی کی غزل سے ہو گئ۔
 

یاسر اقبال

محفلین
دراصل غزل کہنے سے قبل میں نے کوئ خاص بحر منتخب نہیں کی، ذہن میں ایک مصرعہ آ گیا، اس کے ارکان '۲۲۱ ۲۲۱ ۲۲۱ ۲۱ ' لگ رہے تھے، پھر سارے اشعار اسی سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کی۔
بعد میں علم ہوا کہ یہ ایک بحر ہے اور اس کا نام 'بحر متقارب مثمن محذوف' ہے۔ اور رہا دقت پیش آنے کا سوال، تو یہ ایک چھوٹی بحر ہے اور ایک ہی رکن تین مرتبہ آ رہا ہے، تو ایسی بحریں نسبتاََ آسان ہوتی ہیں میرے خیال میں۔۔
امید ہے کہ آپ کے سوال کا جواب مل گیا ہو گا۔

مزمل صاحب اور نمرہ صاحبہ ،
آپ نے اپنا تخلیقی تجربہ بیان کر کے بات واضح کر دی ۔ لیکن میری رائے میں بحر کو منتخب کر کے کہنا معیوب نہیں ہے۔ اور اگر بحر پر گرفت ہو تو مشکل بھی نہیں۔ بلکہ اس کی مثالیں ہمیں اساتذہ سے ملتی ہے ۔ خصوصا جب انھوں نے کسی نئی بحر میں کچھ لکھا یا اپنے موضوع کی مناسبت سے بحر چنی۔
 

بھلکڑ

لائبریرین
بہت ہی اچھی غزل ہے۔:zabardast1::good::great::best::princess:
عجب ہی طوفانوں میں تھی زندگی
گرانے کے تھے ، نہ اٹھانے کے تھے
 
Top