برائے اصلاح

گر فسانہ وزیر پر لکھنا
تو گلوں کے اسیر پر لکھنا

جب کہانی فقیر پر لکھنا
تو ذرا اس حقیر پر لکھنا

جس کی ارض سما ہیں مٹھی میں
بس اسی دست گیر پر لکھنا

بس میں انسان کے نہیں کچھ بھی
جو ہے قادر قدیر پر لکھنا

عشق کی داستاں جو لکھنی ہو
شیریں,لیلی پہ ہیر پر لکھنا

کھیلتے ہیں جو خون کی ہولی
ان کے مردہ ضمیر پر لکھنا

جس نے دنیا بنائی ہے ساری
بس اسی بے نظیر پر لکھنا

یادِ یوسف کا بس تقاضہ ہے
ان کے والد کے نیر پر لکھنا

جو مٹائی گئی ہے ہاتھوں سے
تم کبھی اس لکیر پر لکھنا

روٹھ جاتی ہے میری فاقہ کشی
جب بھی چاہوں امیر پر لکھنا

غم کے ماروں کی زندگی کیا ہے
سعدؔ غالبؔ پہ میرؔ پر لکھنا

ارشد سعؔد ردولوی
الف عین
یاسر شاہ
 

یاسر شاہ

محفلین
السلام علیکم
سعد صاحب !مختصر بحر میں طویل و مشکل زمین چنی سو اس انتخاب کا تقاضہ تھا کہ ایک بھی شعر کام کا نہ ہو اور یہی ہوا۔فلاں اور فلاں پر لکھنا کے سوا کوئی خاص بات نہیں کہ غزل رکھی جا سکے لہذا میرا یہی مشورہ ہے اسے محض ایک مشق سخن سمجھا جائے۔
 
وعلیکم السلام در حقیقت ہوا تو یہی کہ فلاں فلاں پر لکھنا غزل میں کوئی ایسی بات پیدا نہ ہو سکی آپ کا مشورہ اچھا لگا شکریہ
 
Top