برائے اصلاح (مفعول مفاعلن فعولن)

نوید ناظم

محفلین
اک عرض گزارنی تھی ہم نے
جان آپ پہ وارنی تھی ہم نے

اُس زلف کی طرح خم ہیں اِس میں
تقدیر سنوارنی تھی ہم نے

فرہاد بھی ہم کو یاد رکھتا
وہ نہر نکالنی تھی ہم نے

اُس وقت وجود کھا گیا تھا
جب سوچ اُجالنی تھی ہم نے

ناراض اگر نہ ہوں تو اِس بار
اک بات اچھالنی تھی ہم نے

پھر ڈال دی آنسوؤں میں آخر
یہ عمر تو ڈھالنی تھی ہم نے

اِس دل کی خلش غزل کی صورت
اک دن تو نکالنی تھی ہم نے
 

الف عین

لائبریرین
یہ پنجابی غزل کہہ رہے ہو تو درست ہے، ورنہ اردو میں ردیف ’ہم کو‘ ہونی چاہئے ’ہم نے‘ نہیں۔
یہ دو اشعار سمجھ میں نہیں آئے
اُس وقت وجود کھا گیا تھا
جب سوچ اُجالنی تھی ہم نے

پھر ڈال دی آنسوؤں میں آخر
یہ عمر تو ڈھالنی تھی ہم نے
 
Top