برائے اصلاح: فاعلن فاعلن فاعلن فاعلن

عاطف ملک

محفلین
محترم اساتذہ کرام اور محفلین کی خدمت میں یہ ایک کوشش پیش ہے۔
تمام محفلین سے تنقیدی اور اصلاحی رائے کی درخواست ہے۔

بات میری سکوں سے سنا کیجیے
جی میں جو آئے پھر وہ کیا کیجیے
آج پھر سے چمن نے خزاں اوڑھ لی
کچھ عنادل قفس سے رِہا کیجیے
گھاؤ ہے ناوکِ چشمِ قتَّال کا
اب کے میں مر چلا، کچھ دوا کیجیے
فی زمانہ ہے یہ دوستی کا اصول
فائدہ گر ہو اپنا ، دغا کیجیے
جس زمانے میں کاذب ہوں مسند نشیں
اس زمانے میں حق کیوں کہا کیجیے
مل ہی جائیں گے اس کو نئے ہم نوا
پھر سے عاطف کو بے دست و پا کیجیے
 
آخری تدوین:
آج آپ نے مجھے ٹیگ نہیں کیا لیکن کچھ کہنے کو دل چاہ رہا ہے۔ غیر متعلق لگے تو نظر انداز کر دیجئے گا۔
فی زمانہ ہے یہ دوستی کا اصول
فائدہ گر ہو اپنا ، دغا کیجیے
دوستی فائدہ میں دغا نہیں کرتی جب فائدہ نہ ہو تب دھوکا دیا جاتا ہے، عام طور پر! آپ بھی شاید یہی کہنا چاہ رہے ہیں لیکن الفاظ بغاوت کرتے نظر آ رہے ہیں !
ذرا سی ترتیب سے شعر بہتر ہو سکتا ہے۔
جس زمانے میں کاذب ہوں مسند نشیں
اس زمانے میں حق کیوں کہا کیجیے
یہاں بھی شعر منفی تاثر دے رہا ہے۔ میں ذاتی طور پر اس طرح کے خیال کو طنزیہ لب و لہجے میں کہنا پسند کروں گا۔ باقی آپ بہتر سمجھتے ہیں کہ آپ قاری کے ذہن پر کیا تاثر چھوڑنا چاہتے ہیں۔
مل ہی جائیں گے اس کو نئے ہم نوا
پھر سے عاطف کو بے دست و پا کیجیے
یہ شعر تو سمجھ ہی نہیں آیا !
بہت بہت شکریہ۔
 
آخری تدوین:

عاطف ملک

محفلین
آج آپ نے مجھے ٹیگ نیں کیا لیکن کچھ کہنے کو دل چاہ رہا ہے۔ غیر متعلق لگے تو نظر انداز ر دیجئے گا۔

دوستی فائدہ میں دغا نہیں کرتی جب فائدہ نہ ہو تب دھوکا دیا جاتا ہے، عام طور پر! آپ بھی شاید یہی کہنا چاہ رہے ہیں لیکن الفاظ بغاوت کرتے نظر آ رہے ہیں !
ذرا سی ترتیب سے شعر بہتر ہو سکتا ہے۔

یہاں بھی شعر منفی تاثر دے رہا ہے۔ میں ذاتی طور پر اس طرح کے خیال کو طنزیہ لب و لہجے میں کہنا پسند کروں گا۔ باقی آپ بہتر سمجھتے ہیں کہ آپ قاری کے ذہن پر کیا تاثر چھوڑنا چاہتے ہیں۔

یہ شعر تو سمجھ ہی نہیں آیا !
بہت بہت شکریہ۔
میں آپ کے تبصرے کاہی انتظار کر رہا تھا اور شدت سے کر رہا تھا۔
بہت خوشی ہوئی کہ ٹیگ نہ کرنے کے باوجود آپ نے اپنی رائے کے قابل سمجھا۔
ایسے ہی رائے دیتے رہا کیجیے۔
آپ کی باتیں پہلے سے ہی میرے ذہن میں ہیں۔
سوائے حق گوئی والے شعر کے۔
باقی اساتذہ رائے دیں گے تو پھر ہی کچھ کروں گا :)
 

الف عین

لائبریرین
دغا اور دست و پا والے اشعار میں مَیں کاشف سے اتفاق رکھتا ہوں۔ لیکن تیسرے شعر کے بارے میں یہی کہوں گا کہ یہ شاعر کی صوابدید پر چھوڑ دینا چاہئے۔ اگر اس کو یوں ہی پسند ہے تو ہم آپ مشورہ دینے والے کون؟
البتہ ایک جنرل بات میں یہ ضرور کہوں گا۔ کہ جہاں آسان الفاظ بآسانی دستیاب ہوں، وہاں خواہ مخواہ مچکل الفاظ کیوں استعمال کیے جائیں۔ مثال، عنادل کی جگہ بلبلیں۔ آسان الفاظ سے روانی زیادہ بہتر ہوتی ہے۔
لیکن
گھاؤ ہے ناوکِ چشمِ قتَّال کا
اس ماحول کے شعر میں ’گھاؤ‘ فٹ نہیں ہو رہا، یہاں زخم بہتر ہو گا۔
چشم قتال یا چشم قاتل؟
 

عاطف ملک

محفلین
دغا اور دست و پا والے اشعار میں مَیں کاشف سے اتفاق رکھتا ہوں۔ لیکن تیسرے شعر کے بارے میں یہی کہوں گا کہ یہ شاعر کی صوابدید پر چھوڑ دینا چاہئے۔ اگر اس کو یوں ہی پسند ہے تو ہم آپ مشورہ دینے والے کون؟
البتہ ایک جنرل بات میں یہ ضرور کہوں گا۔ کہ جہاں آسان الفاظ بآسانی دستیاب ہوں، وہاں خواہ مخواہ مچکل الفاظ کیوں استعمال کیے جائیں۔ مثال، عنادل کی جگہ بلبلیں۔ آسان الفاظ سے روانی زیادہ بہتر ہوتی ہے۔
لیکن
گھاؤ ہے ناوکِ چشمِ قتَّال کا
اس ماحول کے شعر میں ’گھاؤ‘ فٹ نہیں ہو رہا، یہاں زخم بہتر ہو گا۔
چشم قتال یا چشم قاتل؟
1-بلبلیں کچھ قفس سے رہا کیجیے
2-زخم بھی تھا ذہن میں،پھر نہ جانے کیوں گھاؤ کر دیا(n)
سر یہ "قتّال" بمعنی "بہت قتل کرنے والا" ہے۔۔۔۔۔۔جیسے قتالہ ہوتی ہے :)
 

عاطف ملک

محفلین
دغا اور دست و پا والے اشعار میں مَیں کاشف سے اتفاق رکھتا
محترم!
دغا والا شعر آپ بیتی ہے :)
اور مقطع کا خیال یہ ہے کہ تم نے پہلے بھی سب سے الگ تھلگ کر دیا تھا لیکن اب پھر سے کچھ لوگ میرے ہم خیال ہو گئے ہیں،
اس لیے آؤ اور مجھے پھر سے بے دست و پا کر دو۔۔۔۔:(
 
Top