برائے اصلاح (فاعلن فاعلن فاعلن فاعلن)

نوید ناظم

محفلین
جب بھی سورج زمیں پر اتارا گیا
روشنی کو اندھیروں سے باندھا گیا

میرا گاؤں مجھے کیوں نہیں مل رہا
کیا کسی شہر کو اب وہ رستہ گیا؟

تُونے سچ بولنے کی جسارت کی ہے
بات اب ختم، بس اب تُو مارا گیا

تا کہ برسیں نہ میرے مکاں پر کبھی
اس لیے بادلوں کو بھی جکڑا گیا

بس یہی اک گلہ ہے ہمیں شام سے
ساتھ اپنے جو تھا وہ بھی سایہ گیا

میرا بچپن، مِری عمر ہی لے گئی!
یوں میں اپنی ہی خوشیوں کو خود کھا گیا

بے وجہ پیار کرتا تھا لوگوں سے یہ
شب کو اک اور باغی بھی پکڑا گیا

قتل اُس کو کیا جائے گا شہر میں
جو یہاں پر وفا کرتے دیکھا گیا

میں وہ دیوار، جو تھی بظاہر حسیں
ہاں مگر روز اندر سے گرتا گیا

شہر آیا ہے پڑھنے بہت شوق سے
ماں کے ہاتھوں سے اک اور بیٹا گیا

میرے کمرے میں جالے لگے رہ گئے
اور جو میز تھی اس کو گھن کھا گیا
 

الف عین

لائبریرین
خوب۔ اب پوسٹ مارٹم
جب بھی سورج زمیں پر اتارا گیا
روشنی کو اندھیروں سے باندھا گیا
÷÷یہ تو محض ایک بیان ہے۔ شعر؟

میرا گاؤں مجھے کیوں نہیں مل رہا
کیا کسی شہر کو اب وہ رستہ گیا؟
÷÷ گاؤں بر وزن فاع ہی اچھا لگتا ہے، بر وزن فعلن مجھے کم از کم رواں نہیں لگتا۔

تُونے سچ بولنے کی جسارت کی ہے
بات اب ختم، بس اب تُو مارا گیا
÷÷’کی ہے‘ کو ’کِ ہے‘ باندھنا اچھا نہیں۔ الفاظ بدلیں۔ دوسرا مصرع بھی بہتر اور رواں ہو سکتا ہے۔ کچھ وقت گزارا کرو۔ یہ عادت چھوڑو کہ روز دو دو تین غزلیں کہہ کر یہاں پوسٹ مار دو!!! خود ہی دیکھوق کہ کیا الفاظ، کیسی نشست سے مصرع بہتر ہو سکتا ہے۔

تا کہ برسیں نہ میرے مکاں پر کبھی
اس لیے بادلوں کو بھی جکڑا گیا
÷÷کون ظالم ہے بادلوں کو جکڑنے والا؟

بس یہی اک گلہ ہے ہمیں شام سے
ساتھ اپنے جو تھا وہ بھی سایہ گیا
÷÷درست

میرا بچپن، مِری عمر ہی لے گئی!
یوں میں اپنی ہی خوشیوں کو خود کھا گیا
÷÷واہ، اچھا شعر ہے

بے وجہ پیار کرتا تھا لوگوں سے یہ
شب کو اک اور باغی بھی پکڑا گیا
÷÷ وجہ بر وزن فعو غلط ہے۔ درست تلفظ میں ’ہ‘ پر جزم ہے۔ یہاں ’سبب‘ کر دو۔

قتل اُس کو کیا جائے گا شہر میں
جو یہاں پر وفا کرتے دیکھا گیا
÷÷ٹھیک ہے۔ وفا کرتے یا وفا کرتا؟

میں وہ دیوار، جو تھی بظاہر حسیں
ہاں مگر روز اندر سے گرتا گیا
÷÷دیوار تو مؤنث ہے۔ اگرچہ میں مذکر بھی ہو لیکن مثال تو دیوار کی ہے جو روز گرتی جارہی تھی!

شہر آیا ہے پڑھنے بہت شوق سے
ماں کے ہاتھوں سے اک اور بیٹا گیا
۔۔خوب

میرے کمرے میں جالے لگے رہ گئے
اور جو میز تھی اس کو گھن کھا گیا
÷÷ٹھیک ہے
 

نوید ناظم

محفلین
خوب۔ اب پوسٹ مارٹم
جب بھی سورج زمیں پر اتارا گیا
روشنی کو اندھیروں سے باندھا گیا
÷÷یہ تو محض ایک بیان ہے۔ شعر؟

میرا گاؤں مجھے کیوں نہیں مل رہا
کیا کسی شہر کو اب وہ رستہ گیا؟
÷÷ گاؤں بر وزن فاع ہی اچھا لگتا ہے، بر وزن فعلن مجھے کم از کم رواں نہیں لگتا۔

تُونے سچ بولنے کی جسارت کی ہے
بات اب ختم، بس اب تُو مارا گیا
÷÷’کی ہے‘ کو ’کِ ہے‘ باندھنا اچھا نہیں۔ الفاظ بدلیں۔ دوسرا مصرع بھی بہتر اور رواں ہو سکتا ہے۔ کچھ وقت گزارا کرو۔ یہ عادت چھوڑو کہ روز دو دو تین غزلیں کہہ کر یہاں پوسٹ مار دو!!! خود ہی دیکھوق کہ کیا الفاظ، کیسی نشست سے مصرع بہتر ہو سکتا ہے۔

تا کہ برسیں نہ میرے مکاں پر کبھی
اس لیے بادلوں کو بھی جکڑا گیا
÷÷کون ظالم ہے بادلوں کو جکڑنے والا؟

بس یہی اک گلہ ہے ہمیں شام سے
ساتھ اپنے جو تھا وہ بھی سایہ گیا
÷÷درست

میرا بچپن، مِری عمر ہی لے گئی!
یوں میں اپنی ہی خوشیوں کو خود کھا گیا
÷÷واہ، اچھا شعر ہے

بے وجہ پیار کرتا تھا لوگوں سے یہ
شب کو اک اور باغی بھی پکڑا گیا
÷÷ وجہ بر وزن فعو غلط ہے۔ درست تلفظ میں ’ہ‘ پر جزم ہے۔ یہاں ’سبب‘ کر دو۔

قتل اُس کو کیا جائے گا شہر میں
جو یہاں پر وفا کرتے دیکھا گیا
÷÷ٹھیک ہے۔ وفا کرتے یا وفا کرتا؟

میں وہ دیوار، جو تھی بظاہر حسیں
ہاں مگر روز اندر سے گرتا گیا
÷÷دیوار تو مؤنث ہے۔ اگرچہ میں مذکر بھی ہو لیکن مثال تو دیوار کی ہے جو روز گرتی جارہی تھی!

شہر آیا ہے پڑھنے بہت شوق سے
ماں کے ہاتھوں سے اک اور بیٹا گیا
۔۔خوب

میرے کمرے میں جالے لگے رہ گئے
اور جو میز تھی اس کو گھن کھا گیا
÷÷ٹھیک ہے
سر بہت شکریہ آپ کی شفقت کا۔۔۔اشعار میں جن خامیوں کی طرف اشارہ کیا گیا' انھیں بدل دیا' اب ملاحظہ کیجے گا۔

جب بھی سورج زمیں پر اتارا گیا
روشنی کو اندھیروں سے باندھا گیا
÷÷یہ تو محض ایک بیان ہے۔ شعر؟
سر اپنی طرف سے تو شعر کہنے کی کوشش کی تھی بات بیان تک رہ گئی اب اسی مطلع کے ساتھ گزارہ کر لیتا ہوں

میرا گاؤں مجھے کیوں نہیں مل رہا
کیا کسی شہر کو اب وہ رستہ گیا؟
÷÷ گاؤں بر وزن فاع ہی اچھا لگتا ہے، بر وزن فعلن مجھے کم از کم رواں نہیں لگتا۔
اسے یوں کر دیا۔۔۔۔
کیوں مِرا گاؤں مجھ کو نہیں مل رہا
کیا کسی شہر کو اب وہ رستہ گیا؟

تُونے سچ بولنے کی جسارت کی ہے
بات اب ختم، بس اب تُو مارا گیا
÷÷’کی ہے‘ کو ’کِ ہے‘ باندھنا اچھا نہیں۔ الفاظ بدلیں۔ دوسرا مصرع بھی بہتر اور رواں ہو سکتا ہے۔ کچھ وقت گزارا کرو۔ یہ عادت چھوڑو کہ روز دو دو تین غزلیں کہہ کر یہاں پوسٹ مار دو!!! خود ہی دیکھوق کہ کیا الفاظ، کیسی نشست سے مصرع بہتر ہو سکتا ہے۔

سر یوں کر دیا شعر کو۔۔۔
تجھ سے کس نے کہا تھا کہ سچ بولنا
جھوٹ کا شہر ہے یہ، تُو مارا گیا
ٹھیک سر، اب مزید وقت دے کر غزل پوسٹ کیا کروں گا

تا کہ برسیں نہ میرے مکاں پر کبھی
اس لیے بادلوں کو بھی جکڑا گیا
÷÷کون ظالم ہے بادلوں کو جکڑنے والا؟
وہ مقدر ہے سر!!

قتل اُس کو کیا جائے گا شہر میں
جو یہاں پر وفا کرتے دیکھا گیا
÷÷ٹھیک ہے۔ وفا کرتے یا وفا کرتا؟
سر یہاں وفا کرتا ہی مراد ہے کیا اس کو وفا کرتے کہنا غلط ہو گا؟ عآم محاورہ بھی ہے کہ ایسا کرتے دیکھا گیا تو۔۔۔۔وغیرہ. دوسرا مجھے یہ بھی ڈر تھا کہ آپ یہ نہ کہہ دیں کہ الف کا اسقاط اچھا نہیں لگ رہا:unsure:

میں وہ دیوار، جو تھی بظاہر حسیں
ہاں مگر روز اندر سے گرتا گیا
÷÷دیوار تو مؤنث ہے۔ اگرچہ میں مذکر بھی ہو لیکن مثال تو دیوار کی ہے جو روز گرتی جارہی تھی!
شعر بدل دیا سر' آپ دیکھیں اسے۔۔۔۔
ایک کمزور دیوار کی طرح میں
روز اپنے ہی اندر سے گرتا گیا
 

الف عین

لائبریرین
تجھ سے کس نے کہا تھا کہ سچ بولنا
جھوٹ کا شہر ہے یہ، تُو مارا گیا
خوب ہو گیا اب ماشاء اللہ

تا کہ برسیں نہ میرے مکاں پر کبھی
اس لیے بادلوں کو بھی جکڑا گیا
کچھ بہتر ہے،مگر مجھے پسند نہیں آیا!!!

قتل اُس کو کیا جائے گا شہر میں
جو یہاں پر وفا کرتے دیکھا گیا
اس ضمن میں دوسرے کیا کہتے ہیں؟

ایک کمزور دیوار کی طرح میں
روز اپنے ہی اندر سے گرتا گیا
÷÷اب بہتر ہے، لیکن ’اندر سے‘ محاورے کے خلاٍف ہے۔ قوافی تو بہت مل جائیں گے۔ جیسے
اپنے اندر ہی میں روز ڈھہتا گیا
 

نوید ناظم

محفلین
تجھ سے کس نے کہا تھا کہ سچ بولنا
جھوٹ کا شہر ہے یہ، تُو مارا گیا
خوب ہو گیا اب ماشاء اللہ

تا کہ برسیں نہ میرے مکاں پر کبھی
اس لیے بادلوں کو بھی جکڑا گیا
کچھ بہتر ہے،مگر مجھے پسند نہیں آیا!!!

قتل اُس کو کیا جائے گا شہر میں
جو یہاں پر وفا کرتے دیکھا گیا
اس ضمن میں دوسرے کیا کہتے ہیں؟

ایک کمزور دیوار کی طرح میں
روز اپنے ہی اندر سے گرتا گیا
÷÷اب بہتر ہے، لیکن ’اندر سے‘ محاورے کے خلاٍف ہے۔ قوافی تو بہت مل جائیں گے۔ جیسے
اپنے اندر ہی میں روز ڈھہتا گیا
شکریہ سر۔۔۔
قتل اُس کو کیا جائے گا شہر میں
جو یہاں پر وفا کرتے دیکھا گیا
اس ضمن میں دوسرے کیا کہتے ہیں؟
کوئی کچھ کہتا ہی نہیں سر۔۔۔ راحیل فاروق بھائی اور محمد ریحان قریشی بھائی تبصروں سے نوازتے رہے کچھ عرصہ تو، پھربیمار کو اس کے حال پہ چھوڑ دیا گیا۔

ایک کمزور دیوار کی طرح میں
روز اپنے ہی اندر سے گرتا گیا
÷÷اب بہتر ہے، لیکن ’اندر سے‘ محاورے کے خلاٍف ہے۔ قوافی تو بہت مل جائیں گے۔ جیسے
اپنے اندر ہی میں روز ڈھہتا گیا[/QUOTE]
سر دوسرا مصرعہ بھی بدل دیا' اب دیکھیے۔۔۔
ایک کمزور دیوار کی طرح میں
اپنے ہی بوجھ سے روز ڈھہتا گیا
 
راحیل فاروق بھائی اور محمد ریحان قریشی بھائی تبصروں سے نوازتے رہے کچھ عرصہ تو، پھربیمار کو اس کے حال پہ چھوڑ دیا گیا۔
ہم تو اپنے تئیں آپ کو بھلا چنگا کر کے گئے تھے۔ :laughing::laughing::laughing:
بھائی، ہے یوں کہ اب آپ کافی چیزوں کو خود بہتر سمجھنے لگے ہیں۔ البتہ تجربے کا نعم البدل تو بہترین استاد بھی نہیں ہو سکتا۔ وقت کے ساتھ ساتھ باقی باتیں آپ پر خود کھلتی جائیں گی۔ دوسری بات یہ ہے کہ انسان ہر عمر میں طالبِ علم ہی رہتا ہے۔ مگر گزشتہ کچھ عرصے میں کچھ ایسے احباب جا بجا رائیں دینے لگے ہیں جن کی ابھی خود بہت کچھ سیکھنے کی عمر ہے۔ میں ان آرا کی موجودگی سے بدک جاتا ہوں کہ درست بات کی جانب توجہ دلاؤں تو تکرار ہو جاتی ہے اور کچھ نہ کہوں تو تبصرے کا فائدہ کیا؟
اگر آپ تھک نہ گئے ہوں تو ایک تیسری بات بھی ہے۔ میرے دو امتحانات اکٹھے سر پر ہیں۔ زندگی کی کٹھنائیاں جدا۔ دو تین ماہ تک گوارا فرمائیے۔ اس کے بعد ان شاء اللہ حالات بہتر ہو جائیں گے۔ :):):)
 

نوید ناظم

محفلین
ہم تو اپنے تئیں آپ کو بھلا چنگا کر کے گئے تھے۔ :laughing::laughing::laughing:
بھائی، ہے یوں کہ اب آپ کافی چیزوں کو خود بہتر سمجھنے لگے ہیں۔ البتہ تجربے کا نعم البدل تو بہترین استاد بھی نہیں ہو سکتا۔ وقت کے ساتھ ساتھ باقی باتیں آپ پر خود کھلتی جائیں گی۔ دوسری بات یہ ہے کہ انسان ہر عمر میں طالبِ علم ہی رہتا ہے۔ مگر گزشتہ کچھ عرصے میں کچھ ایسے احباب جا بجا رائیں دینے لگے ہیں جن کی ابھی خود بہت کچھ سیکھنے کی عمر ہے۔ میں ان آرا کی موجودگی سے بدک جاتا ہوں کہ درست بات کی جانب توجہ دلاؤں تو تکرار ہو جاتی ہے اور کچھ نہ کہوں تو تبصرے کا فائدہ کیا؟
اگر آپ تھک نہ گئے ہوں تو ایک تیسری بات بھی ہے۔ میرے دو امتحانات اکٹھے سر پر ہیں۔ زندگی کی کٹھنائیاں جدا۔ دو تین ماہ تک گوارا فرمائیے۔ اس کے بعد ان شاء اللہ حالات بہتر ہو جائیں گے۔ :):):)
شکریہ راحیل بھائی۔۔۔ آپ خوشی خوشی امتحان سے گزر جائیں، ہم انتظار کرتے ہیں۔ ویسے بھی ہم غالب تھوڑے ہی ہیں کہ زلف کے سر ہونے تک جی بھی نہ سکیں۔۔۔:)
 

عاطف ملک

محفلین
میرے دو امتحانات اکٹھے سر پر ہیں۔ زندگی کی کٹھنائیاں جدا۔ دو تین ماہ تک گوارا فرمائیے۔ اس کے بعد ان شاء اللہ حالات بہتر ہو جائیں گے۔ :)
اللہ آپ کو تمام امتحانات میں سرخرو فرمائے۔۔۔۔۔۔
ویسے گزشتہ 6 ماہ سے میرے بھی امتحانات چل رہے ہیں اور
"اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے"
والی حالت ہو گئی ہے :)
 
Top