برائے اصلاح (فاعلاتن فاعلاتن)

نوید ناظم

محفلین
آپ تو نازک بدن ہیں
مان لیں، ایسا نہ کیجے

لوگ پتھر بن چکے ہیں
خود کو آئینہ نہ کیجے

کون کہتا ہے وفا کا
ٹھیک ہے' اچھا! نہ کیجے

زلف کو لہرا رہے ہیں ؟
شب کو شرمندہ نہ کیجے

مت نکالیں خود کو مجھ سے
مجھ کو یوں آدھا نہ کیجے

میرے دل سے کھیلئے آپ
بس اسے پھینکا نہ کیجے

جا رہا ہوں بزم سے میں
ٹھہریں جی! غصہ نہ کیجے
 

الف عین

لائبریرین
اچھی غزل ہے، درست۔
لیکن
میرے دل سے کھیلئے آپ
بس اسے پھینکا نہ کیجے
پہلا مصرع رواں نہیں ہے۔
چاہے میرے دل سے کھیلیں
کہنے میں ہی کیا حرج ہے۔ ’آپ‘ تو understood ہے
 

نوید ناظم

محفلین
اچھی غزل ہے، درست۔
لیکن
میرے دل سے کھیلئے آپ
بس اسے پھینکا نہ کیجے
پہلا مصرع رواں نہیں ہے۔
چاہے میرے دل سے کھیلیں
کہنے میں ہی کیا حرج ہے۔ ’آپ‘ تو understood ہے
بہت شکریہ سر۔۔۔۔
اگر اس مصرعے کو یوں کر دیا جائے تو ؟
دل سے جتنا چاہیں کھیلیں
بس اسے پھینکا نہ کیجے
 
Top