برائے اصلاح: آغوشِ زندگی میں تمنا ہوا کرے

سید ذیشان

محفلین
آغوشِ زندگی میں تمنا ہوا کرے​
بےچارگی میں کوئی تو اپنا ہوا کرے​
عاشق کرے گا ضبط، معین اگر ہو حد​
صحرا نورد ہو، یا تو رسوا ہوا کرے​
تم میرے خستہ حال پہ کرتے ہو یوں ہنسی​
بس اب کے مجھ سے کوئی نہ گویا ہوا کرے​
ہر سوئے گلستاں ہے معطر بہ دمِ گل​
یوں فصلِ گل میں میرا بھی چرچا ہوا کرے​
ہر آدمی جہاں کا ہے اک ورقِ منفرد​
شیرازہ بس تمام کا یکساں ہوا کرے​
 

سید ذیشان

محفلین
کاپی کر لی ہے، لیکن بہت سے اشعار کا مفہوم سمجھ میں نہیں آیا۔
بہت شکریہ استادِ محترم۔ آپکی اصلاح کا انتظار رہے گا۔

اگر ان اشعار کی نشاندہی کر دیں تو میں کوشش کروں گا بتانے کی کہ میں نے کیا سوچ کر یہ اشعار کہے۔
 

سید ذیشان

محفلین
آغوشِ زندگی میں تمنا ہوا کرے​
بےچارگی میں کوئی تو اپنا ہوا کرے​
اس شعر میں "تمنا"، امید کے معنی میں استعمال کیا ہے۔ یعنی زندگی میں کوئی امید ہو کہ بےچارگی میں کوئی تو اپنا ہو۔​
عاشق کرے گا ضبط، معین اگر ہو حد​
صحرا نورد ہو، یا تو رسوا ہوا کرے​
ضبط سے مراد برداشت کے لئے ہیں۔ یعنی عاشق کی برداشت کی بھی کوئی حد ہے۔ یا تو وہ صحرا نورد ہو یا پھر رسوا ہوا کرے۔​
تم میرے خستہ حال پہ کرتے ہو یوں ہنسی​
بس اب کے مجھ سے کوئی نہ گویا ہوا کرے​
یعنی میرے خستہ حال پر، جو تمہارے عشق کی وجہ سے۔ اس کا اوپر سے مذاق بھی اڑاتے ہو۔ اس بات پر عاشق ناراض ہو رہا ہے :)
ہر سوئے گلستاں ہے معطر بہ دمِ گل​
یوں فصلِ گل میں میرا بھی چرچا ہوا کرے​
یعنی بہار میں جسطرح پورا گلستاں گل کی خوشبو سے معطر ہوتا ہے۔ میرا بھی گل کی طرح اس دنیا کے گلستاں میں تزکرہ ہو (خوشبو پھیلے)۔​
ہر آدمی جہاں کا ہے اک ورقِ منفرد​
شیرازہ بس تمام کا یکساں ہوا کرے​
ہر انسان اس جہاں میں ایک کتاب کے صفحے کی طرح منفرد ہے(کہ ہر صفحے پر منفرد مضمون تحریر ہوتا ہے)۔ کہ اس کی انفرادیت بھی ہے لیکن اس کی افادیت اس وقت ہی ہو گی جب ایک کتاب کی شکل میں ہوں، یعنی بکھرے ہوئے نہ ہوں۔ یعنی ان کا شیرازہ (binding) ایک جیسا یا ایک ہو۔​
 

الف عین

لائبریرین
جو مفہوم تم نے بیان کئے ہیں، وہ فورإً برامد نہیں ہوتے۔ مانا کہ شعر کا حسن اس کا ابہام ہے، لیکن اتنا بھی ابہام کیا مطلب؟
 

سید ذیشان

محفلین
جو مفہوم تم نے بیان کئے ہیں، وہ فورإً برامد نہیں ہوتے۔ مانا کہ شعر کا حسن اس کا ابہام ہے، لیکن اتنا بھی ابہام کیا مطلب؟
میری کوشش ہوتی ہے کہ شعر صرف قافیہ بندی نہ ہو اس میں کوئی مضمون بھی ہو۔ لیکن اکثر اس مضمون کے لئے زیادہ الفاظ درکار ہوتے ہیں۔ جہاں جہاں اشعار مبہم ہوں اگر ان کی نشاندہی کر دیں تو میں کوشش کروں گا ان کو درست کروں اور آئندہ خیال رکھوں۔
 

الف عین

لائبریرین
عزیزم اظہر نذیر کو بھی یہی مشکل تھی۔ کہ ؎ کچھ اور چاہئے وسعت مرے بیاں کے لئے۔ تو نظم کہا کریں جس میں موضوع کو کئی مصرعوں میں سمجھایا جا سکتا ہے۔ ویسے ان اشعار میں بھی دو ایک الفاظ کے اضافے سے بات سمجھ میں آ سکتی ہے۔ مثلاً مطلع میں ہی دیکھ لو، مجرد ’تمنا‘ سے یہ کون کہہ سکتا ہے کہ اس سے مراد ’کوئی امید‘ لی جائے!! اور ’آغوش زندگی‘ میں آغوش لفظ بھی قاری کو گمراہ کرتا ہے۔ جب کہ اس کی بجائے محض ’میں‘ سے کام چل جاتا ہے۔
اس سے قطع نظر، ایک بات کی نشان دہی کر ہی دوں جو پہلے نہیں کی تھی۔ ’ورق‘ کا تلفظ۔ درست تلفظ میں ’و‘ اور ’ر‘ دونوں مفتوح اور متحرک ہیں۔ اس مصرع کو یوں کیا جا سکتا ہے۔
ہر آدمی جہاں کا ہے اک منفرد ورق
 

سید ذیشان

محفلین
بہت شکریہ استادِ محترم رائے دینے کا۔
یہ ایک پرانی غزل تھی جس کو اصلاح کے واسطے پیش کیا ہے۔ کافی عرصے سے کوئی غزل نہیں کہی۔ ایک دو نظمیں کہی ہیں وہ بھی نثری۔ کوشش ہو گی کہ ان کو آزاد نظموں میں تبدیل کیا جائے۔
میں اپنے آپ کو شاعر نہیں سمجھتا۔ لیکن کبھی کبھی خواہش ہوتی ہے کہ کچھ کہا جائے تو ایک دو شعر کہہ لیتا ہوں۔ چونکہ کام وغیرہ کا کافی بوجھ ہے تو اِس طرف زیادہ توجہ نہیں دے پاتا۔ لیکن اب سوچتا ہوں کہ علم عروض سے بے بہرہ نہیں رہنا چاہیے اور جو کچھ بھی کہوں وہ فصیح اور عمدہ نہ صحیح کم از کم موزوں تو ہو۔ اسی واسطے یہاں حاظر ہوتا ہوں اور آپ کی قیمتی آرا سے مستفید ہوتا ہوں۔
 

الف عین

لائبریرین
طبیعت میں موشونیت تو ہے، اس سے انکار نہیں۔ ’ورق‘ کی غلطی تو تلفظ کی غلطی ہے، میرے خیال میں تم نے ساکن را بحر کے مطابق ہی باندھا تھا۔ بہر حال بعد میں اصلاح کی کوشش کرتا ہوں۔
 

الف عین

لائبریرین
آغوشِ زندگی میں تمنا ہوا کرے​
بےچارگی میں کوئی تو اپنا ہوا کرے​
اس شعر میں "تمنا"، امید کے معنی میں استعمال کیا ہے۔ یعنی زندگی میں کوئی امید ہو کہ بےچارگی میں کوئی تو اپنا ہو۔​

//اسی خیال کو یوں ظاہر کیا جا سکتا ہے
کوئی نہ ہو تو ساتھ تمنا ہوا کرے
بےچارگی میں کوئی تو اپنا ہوا کرے

عاشق کرے گا ضبط، معین اگر ہو حد​
صحرا نورد ہو، یا تو رسوا ہوا کرے​
ضبط سے مراد برداشت کے لئے ہیں۔ یعنی عاشق کی برداشت کی بھی کوئی حد ہے۔ یا تو وہ صحرا نورد ہو یا پھر رسوا ہوا کرے۔​

//صحرا نوردی اور رسوائی متضاد نوعیت کی نہیں۔ یوں کیا جا سکتا ہے
جب ضبط ہو نہ عشق، نکل جائے دشت میں
محفل میں ہی اگر ہو تو رسوا ہوا کرے
تم میرے خستہ حال پہ کرتے ہو یوں ہنسی​
بس اب کے مجھ سے کوئی نہ گویا ہوا کرے​
یعنی میرے خستہ حال پر، جو تمہارے عشق کی وجہ سے۔ اس کا اوپر سے مذاق بھی اڑاتے ہو۔ اس بات پر عاشق ناراض ہو رہا ہے :)
بات کئے بغیر بھی تو ہنسی اڑا سکتا ہے معشوق؟
اس کو بدل ہی دیا جائے۔

ہر سوئے گلستاں ہے معطر بہ دمِ گل​
یوں فصلِ گل میں میرا بھی چرچا ہوا کرے​
یعنی بہار میں جسطرح پورا گلستاں گل کی خوشبو سے معطر ہوتا ہے۔ میرا بھی گل کی طرح اس دنیا کے گلستاں میں تزکرہ ہو (خوشبو پھیلے)۔​
//پہلا مصرع بحر سے خارج بھی ہے۔ یہی خیال یوں کہہ سکتے ہیں
جیسے مہک رہا ہے گلستاں بنامِ گل
یوں فصلِ گل میں میرا بھی چرچا ہوا کرے


ہر آدمی جہاں کا ہے اک ورقِ منفرد​
شیرازہ بس تمام کا یکساں ہوا کرے​
ہر انسان اس جہاں میں ایک کتاب کے صفحے کی طرح منفرد ہے(کہ ہر صفحے پر منفرد مضمون تحریر ہوتا ہے)۔ کہ اس کی انفرادیت بھی ہے لیکن اس کی افادیت اس وقت ہی ہو گی جب ایک کتاب کی شکل میں ہوں، یعنی بکھرے ہوئے نہ ہوں۔ یعنی ان کا شیرازہ (binding) ایک جیسا یا ایک ہو۔​

//شیرازہ یکساں سے یہ مطلب برآمد ہوتا ہے؟
تکنیکی طور سے بھی قافیہ غلط ہے، یہ نون غنہ کہاں سے آ گیا؟
 
Top