بحر رمل مثمن مشکول پر ... ایک غزل اصلاح کے لیے

اس غزل پر اساتذہ سے اصلاح کی درخواست ہے...
اسے بحر رمل مثمن مشکول پر باندھا ہے .. اور کئی جگہ تسکین اوسط کو لیتے ہوئے
فعلات کو مفعول بھی لیا ہے ....

ترے رخ پہ رنگ بکھرے، کھلتے ہوئے کنول کے
جذبات رہ گئے سب، اپنے اتھل پتھل کے

ترے تیر نیم کش کا، نہ خطا ہوا نشانہ
گویا خوب مشق کر لی تھی، ہدف بدل بدل کے

لیتے مزہ تڑپ کا کچھ یاد میں کسی کی
مرے دل سے دیکھ لیتے، دل کو ادل بدل کے

پھولوں سے ارماں ہوتے، تتلی سی جستجو کے
جذبے تمہیں ستاتے، دل میں مچل مچل کے

کہا جب کہ "تم ہو ظالم" !، ثابت کیا یوں فورا ً
خوابوں کو ایڑیوں میں، کچلا مسل مسل کے

یا پھر ایسے ... پتہ نہیں کون سا بہتر ہے ۔۔

کہا جب کہ "تم ہو ظالم" !، ثابت کیا یوں فورا ً
میرے دل کو ایڑیوں سے، کچلا مسل مسل کے

کیا نرم نرم گال تھے، معصوم سی پری کے
چٹکی نہ لینے پائے، انگلی رہی پھسل کے

جو یہ جانتے ہیں، اس میں کچھ زاد رہ نہیں ہے
وہ رہ وفا میں رکھے ہیں، قدم بڑا سنبھل کے

وہ جو ہمسفر تھے اپنے ، وہی یار سب پرانے
وہ نکل بڑھے ہیں آگے، ارماں مرے کچل کے

ہم دور ہی رہے کچھ، جاہل کی محفلوں سے
روشن رکھے ہیں کاشف، دیے فکر اور عمل کے


سید کاشف

شکریہ .... نوازش ..
 
آپ دونوں حضرات کے بیحد شکریہ ...
جناب شیخ مزمل بسمل صاحب اگر اس بے جا استعمال کی نشاندھی فرما دیں تو میں کوشش کروں کے وہ غلطی دوبارہ نہ ہو
انتہائی ممنون رہونگا ....
شکریہ ...
جزاک الله ...
 

ابن رضا

لائبریرین
آپ دونوں حضرات کے بیحد شکریہ ...
جناب شیخ مزمل بسمل صاحب اگر اس بے جا استعمال کی نشاندھی فرما دیں تو میں کوشش کروں کے وہ غلطی دوبارہ نہ ہو
انتہائی ممنون رہونگا ....
شکریہ ...
جزاک الله ...
جہاں جہاں آپ نے فعِلاتُ کو تسکینِ اوسط کے تحت مفعول باندھا ہے وہ بے جا استعمال ہے (یعنی جب الفاظ کی نشست و برخاست میں معمولی رددبدل سے اسی خیال کی ترسیل باآسانی ممکن ہو تو پھر اس سہولت کا استعمال بے جا ہی کہلائے گا)۔ اب آپ خود دیکھ لیجیے کے کہاں کہاں ایسا کیا ہے
 
Top