با غیرت مرد

ظفری

لائبریرین
کالم میں عورت کے حوالے سے میڈیا کے توسط سے ہونے والی بے راہ روی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ۔ جیسے جیسے وقت گذرتا جارہا ہے ۔ انداز بھی بدلتے جارہے ہیں ۔ ہمارے معاشرے میں عورت کے ساتھ جو سلوک روا رکھا جاتا ہے ۔ وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے ۔ عورت کبھی حسنِ بازار میں بلکتی ہوئی نظر آتی ہے ۔ کبھی کسی گاؤں میں کسی زمیندار کے ہاتھوں برہنگی کی حالت بازار میں صلیب پر چڑھائی جاتی ہے ۔ کبھی آفس میں مجبوری کا نشانہ بننتی ہے ۔ کبھی سرِ عام اس کی چادر کھنیچی جاتی ہے ۔ عورت کی تذلیل ہمیشہ ہوتی رہی ہے ۔ اشتہاروں اور ٹی وی ڈراموں میں خواتین کی بہتات اور بڑی حد تک قابل اعتراض کرداروں میں آنا اس بات کا مظہر ہے کہ ہمارے معاشرے نے عورت کو دیوار سے لگا دیا ہے ۔ اس کالم میں شاید اسی طرف اشارہ ہے ۔

باقی اعتراض برائے اعتراض پوسٹوں کے متعلق صرف یہ کہنا ہے کہ کبھی کبھی کسی کے نکتہِ نظر کو تعصب کی عینک سے دیکھنے کے بجائے اس میں کوئی مثبت پہلو تلاش کرنے کی کوشش کی جانی چاہیئے کہ اگر وہ واقعی معاشرے کا کوئی اجتماعی مسئلہ ہے تو اس پر کوئی گفتگو کی جاسکے ۔ ہر جگہ اکھاڑہ کھودنا کوئی صحت مندانہ رویہ نہیں ہوتا ۔
 
Top