1. احباب کو اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں تعاون کی دعوت دی جاتی ہے۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    ہدف: $450
    $255.00
    اعلان ختم کریں

بارہ منٹ

محمداحمد نے 'ہمارا معاشرہ' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جون 8, 2018

  1. باباجی

    باباجی محفلین

    مراسلے:
    3,825
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Curmudgeon
    ہاہاہاہاہاہا۔۔۔ بس تحریر کو غیر ضروری طوالت دےد ی گئی ۔۔ غصے میں بندہ یا تو خاموش رہے یا پھر ری ایکٹ کرکے بھگتے
    حقیقت سے پھر بھی کافی دور ہے یہ تحریر
     
  2. عثمان

    عثمان محفلین

    مراسلے:
    8,978
    موڈ:
    Cheerful
    معلوم ہوتا ہے کہ کچھ تبصرے بھی غصے میں لکھے گئے ہیں۔
    جاوید چوہدری کی تحریر میں اگر نماز کے فضائل پر گفتگو کی گئی ہوتی تو اس پر کوئی بحث ہی نہیں تھی کہ نماز سے دل اور روح کا سکون ایمانیات کا حصہ ہے۔
    تاہم جاوید چوہدری کے کالم کا بیشتر حصہ کسی سائنسی تفصیل کے بیان پر صرف ہوا ہے جس کی جزئیات پر قارئین کی طرف سے سوال اٹھانے میں کوئی مضائقہ نہیں۔
    کوئی بھی مصنف اور خاص طور پر ایک پیشہ ور مصنف یا صحافی اپنی تحریر اور پیش کردہ حقائق کا پوری طرح ذمہ دار ہے۔ بصورت دیگر دو مصنفین کے معیار میں فرق کرنے کا آپ کے پاس کوئی پیمانہ نہیں ہے۔
    ہو سکتا ہے جاوید چوہدری کے ساتھ یہ واقعہ ایسے ہی پیش آیا ہو نیز تحریر کے کردار بھی حقیقی اور سچے ہوں لیکن یہ ذمہ داری کالم نگار کی ہے کہ وہ اپنی بات اور پیش کردہ دعوی کے حق میں دیے گئے ثبوت کی تصدیق کرے اور ان کے ربط لگائے۔ آپ دنیا کے معیاری انگریزی اخبارات کی رپورٹس اور کالم پڑھ لیں جہاں تحریر کے سپورٹنگ ایوڈینس مقالات اور تحقیقاتی رپورٹس کے حوالاجات کے ساتھ پیش کئے جاتے ہیں۔ اردو دنیا غالبا ابھی اس کی عادی نہیں ہے۔
    ورنہ اگر پیشہ ور صحافی اپنی ذمہ داری سے ماورا ہے تو آپ فیس بک پر بیٹھے ان لوگوں پر بھی تنقید نہ کر پائیں جو باتیں بلا تصدیق پیش کرتے ہیں اور آپ سے آگے شریک کرنے کو اصرار کرتے ہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
    • متفق متفق × 2
  3. جان

    جان محفلین

    مراسلے:
    437
    بالکل سوال اٹھانا ہر بندے کا بنیادی حق ہے تاکہ اس سے تحریر کی صحت واضح ہو لیکن سوال اٹھانے کی آڑ میں تضحیک کرنا ہمارا خود ساختہ حق ہے۔
     
  4. صائمہ شاہ

    صائمہ شاہ محفلین

    مراسلے:
    4,637
    جھنڈا:
    England
    موڈ:
    Cool
    معذرت کیساتھ مگر حقائق اگر زیب داستان ہوں تو کیا برا ہے ؟؟ قاری کو عزت دیجیے رعونت نہیں کہ جو اچھا ہے وہ چُن لو جو برا ہے اسے چیلنج نہ کرو ۔
    آپ نے ضرور اچھی نیت اور ارادے سے شئیر کیا ہوگا مگر اب یہ دیومالائی انداز اور اس پر مذہبی تڑکا بہت کمرشل ہو گیا کہ کالم افسانہ ناول شاعری کچھ بھی اس کے بغیر مارکیٹ میں نہیں آ سکتے ۔ غصہ حرام ہے ایسے ہی جیسے دوسری حرام اشیا تو نفس کو ورزش کی نہیں عادت کی ضرورت ہے اس حرام خوری سے بچنے کے لئے تو آپ بھی سچ بولیے ، سچ لکھیے اور سچ سنیے ۔
    شکریہ
     
    آخری تدوین: ‏جون 11, 2018
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • زبردست زبردست × 1
  5. صائمہ شاہ

    صائمہ شاہ محفلین

    مراسلے:
    4,637
    جھنڈا:
    England
    موڈ:
    Cool
    کاش یہ کمنٹ لکھنے سے پہلے آپ جاوید چوھدری صاحب کے دئیے گئے بارہ منٹ کے سائنسی مشورے پر عمل کر لیتے تو آپ رمضان میں اللہ کا کام ( دوسروں کو جج کرنا )اپنے ہاتھ نہ لینا پڑتا خیر خدا آپ کو معاف کرے مگر دوسروں کو نصیحت اور خود میاں فصیحت بھی برا عمل ہے ۔ کوئی داڑھی یا نماز کے بارے میں کیا سوچتا ہے اس کا فیصلہ کرنا آپ کا کام نہیں کیونکہ آپ اس سے افضل نہیں آپ بھی اسی کی طرح کے ایک عام آدمی ہیں جو خود اپنے غصے پر رمضان میں روزے کی حالت میں بھی قابو نہیں رکھ سکتے اور اللہ کا کام اللہ پر چھوڑ دیجیے تیس روزے اور پانچ وقت نماز آپ کی اپنی آخرت سنوارنے کے لئے ہے آپ کو دوسروں کے ایمان کا فیصلہ کرنے کے لئے نہیں ۔
     
    • زبردست زبردست × 1
  6. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    19,713
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    اگر آپ نے پہلے ہی یہ بات اس انداز میں کہی ہوتی تو بات اتنی بڑھتی ہی نہیں!

    لیکن مسئلہ وہی مائنڈ سیٹ کا ہے کہ جہاں مُلا اور نماز روزے کا ذکر آ گیا تو لب و لہجہ ہی بدل گیا۔ ہم نے اپنے جواب میں اسی بات کا احساس دلایا ہے اور بلا اشتعال دلایا ہے۔

    ہم اس بات سے متفق ہیں کہ اچھی تحریر تمام تر ممکنہ حوالہ جات کے ساتھ ہی اچھی لگتی ہے لیکن عمومی اخلاقی و تربیتی تحریروں میں ہمارے ہاں بہت زیادہ عرق ریزی سے کام نہیں لیا جاتا۔ سو آپ کی بات سے اتفاق کرتے ہوئے اتنا عرض ہے کہ اگر آپ کی نشاندہی صرف نشاندہی ہوتی تو ہمیں ہرگز اعتراض نہیں ہوتا۔
     
    • متفق متفق × 1
  7. صائمہ شاہ

    صائمہ شاہ محفلین

    مراسلے:
    4,637
    جھنڈا:
    England
    موڈ:
    Cool
    انداز بدلنے سے بات بدل جاتی ہے ؟؟؟ آپ کے انداز بدلنے کے باوجود بھی آپ کا نماز روزے کے بارے فتویٰ غلط ہی رہا ، آپ رمضان میں رواداری اور نرمی کی بجائے جارحانہ انداز میں دوسروں کے ایمان کا فیصلہ کر رہے ہیں ۔
    دلوں کے حال تو اللہ جانتا ہے آپ کب سے کسی کے دل میں اتر کر نماز روزے اور مائینڈ سیٹ کے بھید جاننے لگے ؟؟ یہ دلوں کے بھید جاننا بھی تو اسی کی خوبی ہے نا ؟
    محترم آپ کی عبادت آپ کو ہرگز یہ حق نہیں دیتی کہ آپ دوسروں کے بارے میں غلط رائے قائم کریں اور پھر اس غلط رائے کو پبلکلی استعمال بھی کریں آپ کی ججمینٹل رائے دوسروں کو کیا تکلیف دے سکتی ہے اس کا احساس تک نہیں آپ کو ۔
     
    • متفق متفق × 1
  8. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    19,713
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    انداز بدلنے سے بات بدل جاتی ہے یہ بات معصوم بچے بھی سمجھتے ہیں۔

    رواداری اور نرمی بہت اچھی چیز ہے لیکن اس کا اطلاق ہر دو فریق پر ہوتا ہے۔
    مائنڈ سیٹ کا مطلب مخصوص نکتہ نگاہ ہوتا ہے نہ کہ کسی کے قلبی ایمان کی کیفیت ۔ مائنڈ سیٹ اور اس سے متعلقہ اطوار کی مثالیں محفل میں جگہ جگہ بکھری ہوئی ہیں، اگر غیر جانبدار ہو کر دیکھا جائے تو انہیں با آسانی دیکھا جا سکتا ہے۔
    اس معاملے میں ہماری عبادت کا تو کوئی دخل ہے ہی نہیں ۔ یہ سب آپ کی اپنی سوچ کی اختراع ہے کہ ہم اپنی عبادت کے زعم میں یہ سب باتیں کہہ گئے ہیں۔ ججمینٹل رائے تو یہ بھی ہے کہ داڑھی اور جائے نماز کو تحریر میں ڈال دو تو مسلمان سب کچھ ماننے پر تیار ہو جاتے ہیں۔ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم اپنے بارے میں تو بہت حساس ہوتے ہیں اور دوسروں کے جذبات کا خیال تک نہیں رہتا۔

    بہرکیف مجھے افسوس ہے کہ بات اتنی بڑھ گئی ۔ میری طرف سے معذرت کہ آپ کی دل آزاری ہوئی۔
     

اس صفحے کی تشہیر