ایک نظم،'' مجھے مت جلانا''

مجھے مت جلانا​
​
مجھے مت جلانا، میں نازوں پلی ہوں​
خدا نے بناٗی تھی، اچھی بھلی ہوں​
مجھے مت جلانا، میں نازوں پلی ہوں​
​
​
مجھے چھاوں میں آنچ لگتی تھی لیکن​
تُمھارے لیے دھوپ تک میں جلی ہوں​
مجھے مت جلانا، میں نازوں پلی ہوں​
​
​
میں غنچہ دہن ہوں، میں کومل بدن ہوں​
میں رنگین تتلی، میں نازک کلی ہوں​
مجھے مت جلانا، میں نازوں پلی ہوں​
​
​
کسی کی میں بیٹی، کسی کی بہن ہوں​
محبت کے سانچے میں دیکھو ڈھلی ہوں​
مجھے مت جلانا، میں نازوں پلی ہوں​
 

الف عین

لائبریرین
اچھی نظم ہے مگر کچھ تشنگی کا احساس ہوتا ہے۔ بطور خاص تین مصرعوں کے بعد ٹیپ کا مصرع آ جائے تو بہتر رہے۔
مثلا
میں رنگین تتلی، میں نازک کلی ہوں​
خدا نے بنائی تھی، اچھی بھلی ہوں​
۔۔۔۔۔۔۔۔۔​
مجھے مت جلانا، میں نازوں پلی ہوں​

میں غنچہ دہن ہوں، میں کومل بدن ہوں​
کسی کی میں بیٹی، کسی کی بہن ہوں​
محبت کے سانچے میں دیکھو ڈھلی ہوں​

تیسرے بند میں مفہوم نظم کے مجموعی جذبے سے میل نہیں کھاتا۔
 
محفل فورم صرف مطالعے کے لیے دستیاب ہے۔
Top