ایک غزل بقصد اصلاح پیش ہے ،؛؛ ظلمتِ شب میں چھوڑ دیتے ہیں ۔۔

ظلمتِ شب میں چھوڑ دیتے ہیں
رشتے سارے ہی توڑ دیتے ہیں
یہ کہانی تھی بس یہیں تک ہی
اب نیا ایک موڑ دیتے ہیں
رشتے بنتے ہیں ٹوٹ جاتے ہیں
چل کہیں اور جوڑ دیتے ہیں
راز سب کے چھپائے ہانڈی میں
بھر گئی ہے، تو پھوڑ دیتے ہیں
تُم تو منزل تک آ گئے اظہر
لوگ رستے میں چھوڑ دیتے ہیں
 
استاد محترم گو کہ اپنی رائے کا اظہار کر چکے ہیں مگر شروع کے مصرعوں کے حوالے سے راقم الحروف کو اعتراض ہے۔
بقول خدائے سخن حسرت موہانی: حروف اشارہ یا فاعل و مفعول کا استعمال کسی بھی شعر کے کامل ہونے کا ایک بہت اہم جز ہے۔ مذکورہ اشعار خصوصاً مطلع میں یہ ابہام پایا جاتا ہے۔۔
ظلمتِ شب میں چھوڑ دیتے ہیں
رشتے سارے ہی توڑ دیتے ہیں

توڑنے اور چھوڑنے والے کون ہیں ؟ آپ یا وہ؟
 
استاد محترم گو کہ اپنی رائے کا اظہار کر چکے ہیں مگر شروع کے مصرعوں کے حوالے سے راقم الحروف کو اعتراض ہے۔
بقول خدائے سخن حسرت موہانی: حروف اشارہ یا فاعل و مفعول کا استعمال کسی بھی شعر کے کامل ہونے کا ایک بہت اہم جز ہے۔ مذکورہ اشعار خصوصاً مطلع میں یہ ابہام پایا جاتا ہے۔۔
ظلمتِ شب میں چھوڑ دیتے ہیں
رشتے سارے ہی توڑ دیتے ہیں

توڑنے اور چھوڑنے والے کون ہیں ؟ آپ یا وہ؟
یوں دیکھ لیجیے

ظلمتِ شب میں چھوڑ دیتے ہیں
رشتے سارے وہ توڑ دیتے ہیں
یہ کہانی تھی بس یہیں تک ہی
اب نیا ایک موڑ دیتے ہیں
رشتے بنتے ہیں ٹوٹ جاتے ہیں
چل کہیں اور جوڑ دیتے ہیں
راز سب کے چھپائے ہانڈی میں
بھر گئی ہے، تو پھوڑ دیتے ہیں
تُم تو منزل تک آ گئے اظہر
لوگ رستے میں چھوڑ دیتے ہیں
 

الف عین

لائبریرین
ظلمتِ شب میں چھوڑ دیتے ہیں
رشتے سارے وہ توڑ دیتے ہیں
میں نے پچھلے روپ میں بھی یہی مطلب مراد لیا تھا۔
 
Top