ایک غزل - برائے اصلاح و تنقید

ایک غزل اصلاح و تنقید کے لیے لے کر حاضر ہوا ہوں ۔۔

اساتذہ اکرام کے مشوروں کا منتظر رہونگا ۔۔۔۔ شکریہ


سونا آنگن، چپ چپ گوری ، سب کچھ وارے بیٹھی ہے
گھر میں دیکھو کیسے ا داسی پا ؤں پسارے بیٹھی ہے

البیلی، روپہلی جوگن، اپنے گھر کی چوکھٹ پر
گہنے پہنے، بندیا ٹانکے، بال سنوارے بیٹھی ہے

بھرےجام سی آنکھوں والی، سندر گوری ، بھولی بھالی
دل میں جواں ایک خواہش کا ہر رنگ نکھارے بیٹھی ہے

عاشق کادل یارو جیسےایک پرانامندرہے
جنوں کی دیوی تارگریباں گلے میں وارےبیٹھی ہے

ہم بھی جنوں کے مندر میں اس دیوی پر دل وار چلے
دانش وحکمت ہاتھ ملے، کس کس کو پکارے بیٹھی ہے

خواہش تھی اسے چھونے کی، اک عمر سعی کی پانے کی
آرزوِ ناکام بھی اب وہ دل میں ہمارے بیٹھی ہے

جور و جفا کے طوفاں میں وہ گرتی ہوئی دیوار ہوں میں
حسرت میں لٹی اک عمر کا جو بوجھ سہارے بیٹھی ہے

تشنہ وفا، ٹوٹے پھوٹے، تعبیرسےعاری خوابوں کی
بارات ابھی بھی دریائے حیرت کے کنارے بیٹھی ہے

صدق وشجاعت اپنےبڑوں کی ،عالم میں پہچان بنی
تاریخ میں یا آثار میں دیکھو، نقش ابھارے بیٹھی ہے

ہائے پشیمانی نے ہمارے دل کا اب وہ حال کیا
بگڑی طبیعت گن کر اس میں سارے خسارے بیٹھی ہے

کاشفؔ کیسے آج کریں ہم اپنے خیالوں کا اِظہارِ
اجنبیت دل میں تمہارے، گھرمیں ہمارے بیٹھی ہے
 
مدیر کی آخری تدوین:

الف عین

لائبریرین
اچھی غزل ہے۔ بس یہ مصرعے دیکھ لیں

البیلی، روپہلی جوگن، اپنے گھر کی چوکھٹ پر
÷÷روپہلی‘ میں ’روپئے‘ کی طرح ’و‘ معلنہ نہیں ہوتی، محض رُپہلی تقطیع ہونی تھی۔

بھرےجام سی آنکھوں والی، سندر گوری ، بھولی بھالی
۔۔اس مصرع کی تقطیع کریں، آدھا رکن زائد ہے۔ آخر میں ’بھولی سی‘ کر دو درست ہو جائے گا

دل میں جواں ایک خواہش کا ہر رنگ نکھارے بیٹھی ہے
÷÷ایک مکمل نہین آتا، ’اک‘ آتا ہے۔

اجنبیت دل میں تمہارے، گھرمیں ہمارے بیٹھی ہے
۔۔اس میں آدھا رکن کم ہے۔ تقطیع کر لیں

حسرت میں لٹی اک عمر کا جو بوجھ سہارے بیٹھی ہے
۔۔تقطیع سے خارج ہے
 
بہت بہت شکریہ محترم الف عین صاحب ...
میں انشا اللہ درست کر کے دوبارہ حاضر ہوتا ہوں
آپ کی نوازش کا تہ دل سے ممنون ہوں ....
 
آخری تدوین:
محترم الف عین صاحب
تصحیح کے بعد غزل لے کر حاضر ہوا ہوں ....
آپ کی توجہ چاہونگا ...
سونا آنگن، چپ چپ گوری ، سب کچھ وارے بیٹھی ہے
گھر میں دیکھو کیسے ا داسی پا ؤں پسارے بیٹھی ہے

البیلی سی روپہلی جوگن، اپنے گھر کی چوکھٹ پر

گہنے پہنے، بندیا ٹانکے، بال سنوارے بیٹھی ہے

بھرےجام سی آنکھوں والی، سندر گوری ، بھولی سی

دل میں جواں اک خواہش کا ہر رنگ نکھارے بیٹھی ہے

عاشق کادل یارو جیسےایک پرانامندرہے
جنوں کی دیوی تارگریباں گلے میں وارےبیٹھی ہے

ہم بھی جنوں کے مندر میں اس دیوی پر دل وار چلے
دانش وحکمت ہاتھ ملے، کس کس کو پکارے بیٹھی ہے

خواہش تھی اسے چھونے کی، اک عمر سعی کی پانے کی
آرزوِ ناکام بھی اب وہ دل میں ہمارے بیٹھی ہے

جور و جفا کے طوفاں میں وہ گرتی ہوئی دیوار ہوں جو

اک یاس میں گزری عمر کا اب بوجھ سہارے بیٹھی ہے

تشنہ وفا، ٹوٹے پھوٹے، تعبیرسےعاری خوابوں کی
بارات ابھی بھی دریائے حیرت کے کنارے بیٹھی ہے

صدق وشجاعت اپنےبڑوں کی ،عالم میں پہچان بنی
تاریخ میں یا آثار میں دیکھو، نقش ابھارے بیٹھی ہے

ہائے پشیمانی نے ہمارے دل کا اب وہ حال کیا
بگڑی طبیعت گن کر اس میں سارے خسارے بیٹھی ہے

کاشفؔ کیسے آج کریں ہم اپنے خیالوں کا اِظہارِ
اجنبیت ا ب دل میں ترے، اور گھرمیں ہمارے بیٹھی ہے


شکریہ ۔
 
آخری تدوین:
Top