ایک غزل ، اصلاح، تنقید و تبصرہ کے لیے،'' دے گئے ہو ہجر کی آخر نشانی، کس لئے ''

دے گئے ہو ہجر کی آخر نشانی، کس لئے
پھول، گجرا، رات اور پروا سہانی، کس لئے
مجھ سے تیرا واسطہ کچھ بھی نہیں، چل ٹھیک ہے
آنکھ کو دھندلا رہا، ہلکا سا پانی، کس لئے
طربیہ اغیار کے قصے ہیں سارے ، ٹھیک ہے
المیہ تاثیر میں ، میری کہانی، کس لئے
لگ رہا ہے عشق میں کوئی کمی سی آ گئی
ڈھونڈتا ہے بحرُ بر میں اُس کا ثانی، کس لئے
ہو تصور تک ہی کیوں محدود تیرا وصل کیوں
جھونکنی ہے بھاڑ میں، آخر جوانی، کس لئے
یہ اگر ہو گا تو کیسے، وہ ہوا اظہر تو کیا
تُم کو ملنا ہے تو آو، آنا کانی، کس لیے
 
چھوٹی سی ایک تبدیلی

دے گئے ہو ہجر کی آخر نشانی، کس لئے
پھول، گجرا، رات اور پروا سہانی، کس لئے
مجھ سے تیرا واسطہ کچھ بھی نہیں، تو نے کہا
آنکھ کو دھندلا رہا، ہلکا سا پانی، کس لئے
طربیہ اغیار کے قصے ہیں سارے ، ٹھیک ہے
المیہ تاثیر میں ، میری کہانی، کس لئے
لگ رہا ہے عشق میں کوئی کمی سی آ گئی
ڈھونڈتا ہے بحرُ بر میں اُس کا ثانی، کس لئے
ہو تصور تک ہی کیوں محدود تیرا وصل کیوں
جھونکنی ہے بھاڑ میں، آخر جوانی، کس لئے
یہ اگر ہو گا تو کیسے، وہ ہوا اظہر تو کیا
تُم کو ملنا ہے تو آو، آنا کانی، کس لیے
 

الف عین

لائبریرین
دے گئے ہو ہجر کی آخر نشانی، کس لئے
پھول، گجرا، رات اور پروا سہانی، کس لئے


مجھ سے تیرا واسطہ کچھ بھی نہیں، چل ٹھیک ہے
آنکھ کو دھندلا رہا ہلکا سا پانی، کس لئے
//چل ٹھیک ہے‘ اچھا نہیں لگ رہا، اس کو بدل دیں تو اچھا ہے۔ جیسے ‘یہ ٹھیک ہے‘

طربیہ اغیار کے قصے ہیں سارے ، ٹھیک ہے
المیہ تاثیر میں ، میری کہانی، کس لئے
//یہاں بھی ٹھیک ہے دہرایا گیا ہے، اس کو بھی بدل دو۔
طربیہ اغیار کے قصے تو سارے ٹھیک ہیں
کیا جا سکتا ہے۔

لگ رہا ہے عشق میں کوئی کمی سی آ گئی
ڈھونڈتا ہے بحرُ بر میں اُس کا ثانی، کس لئے
// بحرُ؟ کیا بحر و بر مراد ہے؟ کون ڈھونڈتا ہے۔ یہ واضح نہیں۔ اس کو بدلنے کی ضرورت ہے۔

ہو تصور تک ہی کیوں محدود تیرا وصل کیوں
جھونکنی ہے بھاڑ میں، آخر جوانی، کس لئے
//پہلے مصرع میں دو بار ’کیوں‘ کیوں؟ شعر پسند نہیں آیا۔

یہ اگر ہو گا تو کیسے، وہ ہوا اظہر تو کیا
تُم کو ملنا ہے تو آو، آنا کانی، کس لیے
//درست
 
دے گئے ہو ہجر کی آخر نشانی، کس لئے
پھول، گجرا، رات اور پروا سہانی، کس لئے


مجھ سے تیرا واسطہ کچھ بھی نہیں، چل ٹھیک ہے
آنکھ کو دھندلا رہا ہلکا سا پانی، کس لئے
//چل ٹھیک ہے‘ اچھا نہیں لگ رہا، اس کو بدل دیں تو اچھا ہے۔ جیسے ‘یہ ٹھیک ہے‘

طربیہ اغیار کے قصے ہیں سارے ، ٹھیک ہے
المیہ تاثیر میں ، میری کہانی، کس لئے
//یہاں بھی ٹھیک ہے دہرایا گیا ہے، اس کو بھی بدل دو۔
طربیہ اغیار کے قصے تو سارے ٹھیک ہیں
کیا جا سکتا ہے۔

لگ رہا ہے عشق میں کوئی کمی سی آ گئی
ڈھونڈتا ہے بحرُ بر میں اُس کا ثانی، کس لئے
// بحرُ؟ کیا بحر و بر مراد ہے؟ کون ڈھونڈتا ہے۔ یہ واضح نہیں۔ اس کو بدلنے کی ضرورت ہے۔

ہو تصور تک ہی کیوں محدود تیرا وصل کیوں
جھونکنی ہے بھاڑ میں، آخر جوانی، کس لئے
//پہلے مصرع میں دو بار ’کیوں‘ کیوں؟ شعر پسند نہیں آیا۔

یہ اگر ہو گا تو کیسے، وہ ہوا اظہر تو کیا
تُم کو ملنا ہے تو آو، آنا کانی، کس لیے
//درست
یوں دیکھ لیجیے جناب

دے گئے ہو ہجر کی آخر نشانی، کس لئے
پھول، گجرا، رات اور پروا سہانی، کس لئے
مجھ سے تیرا واسطہ کچھ بھی نہیں، تو نے کہا
آنکھ کو دھندلا رہا، ہلکا سا پانی، کس لئے
طربیہ اغیار کے قصے ہیں سارے، غم نہیں
المیہ تاثیر میں ، میری کہانی، کس لئے
اُس سے ملنا کیا ہے مشکل، اپنے اندر جھانک لے
ڈھونڈتا ہے پتھروں میں اُس کا ثانی، کس لئے
وصل جاناں ہو تصور تک اگر محدود تو
جھونکنی ہے بھاڑ میں، آخر جوانی، کس لئے
یہ اگر ہو گا تو کیسے، وہ ہوا اظہر تو کیا
تُم کو ملنا ہے تو آو، آنا کانی، کس لئے
 

الف عین

لائبریرین
ان تینوں اشعار میں کچھ نہ کچھ گڑبڑ ہے
طربیہ اغیار کے قصے ہیں سارے، غم نہیں​
المیہ تاثیر میں ، میری کہانی، کس لئے​
÷÷دوسرے مصرع میں المیہ کا تلفظ مجھ سے چھوٹ گیا تھا۔ یہ لفظ الَ م ی ہ ہے۔ لام متحرک۔ اسے ساکن باندھا گیا ہے۔ اسے ’حزنیہ‘ کر دو​
اُس سے ملنا کیا ہے مشکل، اپنے اندر جھانک لے​
ڈھونڈتا ہے پتھروں میں اُس کا ثانی، کس لئے​
÷÷ابلاغ و ترسیل کا مسئلہ ہے​
وصل جاناں ہو تصور تک اگر محدود تو​
جھونکنی ہے بھاڑ میں، آخر جوانی، کس لئے​
÷÷پہلا مصرع رواں نہیں​
یوں کیا جا سکتا ہے​
وصل جاناں گر تصور ہی تلک محدود ہو​
 
ان تینوں اشعار میں کچھ نہ کچھ گڑبڑ ہے
طربیہ اغیار کے قصے ہیں سارے، غم نہیں​
المیہ تاثیر میں ، میری کہانی، کس لئے​
÷÷دوسرے مصرع میں المیہ کا تلفظ مجھ سے چھوٹ گیا تھا۔ یہ لفظ الَ م ی ہ ہے۔ لام متحرک۔ اسے ساکن باندھا گیا ہے۔ اسے ’حزنیہ‘ کر دو​
اُس سے ملنا کیا ہے مشکل، اپنے اندر جھانک لے​
ڈھونڈتا ہے پتھروں میں اُس کا ثانی، کس لئے​
÷÷ابلاغ و ترسیل کا مسئلہ ہے​
وصل جاناں ہو تصور تک اگر محدود تو​
جھونکنی ہے بھاڑ میں، آخر جوانی، کس لئے​
÷÷پہلا مصرع رواں نہیں​
یوں کیا جا سکتا ہے​
وصل جاناں گر تصور ہی تلک محدود ہو​
جی یوں دیکھ لیجیے جناب
دے گئے ہو ہجر کی آخر نشانی، کس لئے
پھول، گجرا، رات اور پروا سہانی، کس لئے
مجھ سے تیرا واسطہ کچھ بھی نہیں، تو نے کہا
آنکھ کو دھندلا رہا، ہلکا سا پانی، کس لئے
طربیہ اغیار کے قصے ہیں سارے، غم نہیں
حزنیہ تاثیر میں ، میری کہانی، کس لئے
بے ضرر، بے فیض پاوں میں پڑے رہتے ہیں جو
ڈھونڈتا اُن پتھروں میں اُس کا ثانی، کس لئے
وصل جاناں گر تصور ہی تلک محدود ہے
جھونکنی ہے بھاڑ میں، آخر جوانی، کس لئے
یہ اگر ہو گا تو کیسے، وہ ہوا اظہر تو کیا
تُم کو ملنا ہے تو آو، آنا کانی، کس لئے
 

الف عین

لائبریرین
ہاں اب درست ہو گئے ہیں اشعار۔ البتہ ’پاؤں‘ کی جگہ ’پیروں‘ کر دو تو زیادہ روانی آ جائے۔ کیونکہ پاؤں در اصل فعل کے وزن پر ہے، اسے طویل فعلن کرنا اچھا نہیں لگتا۔
 
Top