ایک غزل،'' وہ بھی کیا لوگ ہوا کرتے تھے مے خانوں میں ''


وہ بھی کیا لوگ ہوا کرتے تھے مے خانوں میں
مے بھی رقصاں سی رہا کرتی تھی پیمانوں میں

درد غیروں کا بھی محسوس ہوا کرتا تھا
خوف باقی تھا خدا کا ابھی انسانوں میں

سرد موسم بھی نہیں ہے، تو ہے یہ کیوں بارد
خون تو اب بھی رواں ہے وہی شریانوں میں

تُم نہ ملتے تو یہ شائد کہ خطا ہو جاتے
کچھ ہی باقی تھی بچی جان بھی اوسانوں میں

یوں محبت مری نظروں میں لئے پھرتا ہوں
اک شناسا بھی ملے گا کبھی انجانوں میں

قربتیں ہوں بھی تو قابو میں ہی اچھی اظہر
ہوش کھو دوں گا کبھی میں بھی تو ہیجانوں میں​
 

الف عین

لائبریرین
مطلع مقطع اور اوسانوں والے اشعار یا تو تفہیم نہیں دیتے یا کوئی خاص مفہوم نہیں دیتے۔ مثلاً اوسان کیوں خطا ہونے پر تلے ہوئے تھے، یہ واضح نہیں۔؎مجموعی طور پر بہتر غزل ہے کہ باقی اشعار میں معانی موجود ہیں۔
 
بہت شکریہ ، اُستاد محترم،
شعر میں لکھنا یہ چاہا تھا کہ تُم اگر نہ ملتیں اب بحی تو اوسان خطا ہو جاتے، پحر بحی اگر آپ کا ھکم ہو تو تبدیل کر دوں گا
خاکسار
اظہر
 

الف عین

لائبریرین
اوسان خطا ہونے کی کیا بات ہے؟ محبوب کیا اتنا ڈراؤنا ہے؟ اوسان خطا ہونے سے مراد ڈر کے مارے حالت تباہ ہو جانا ہوتا ہے۔
 

یوسف-2

محفلین
اوسان خطا ہونے کی کیا بات ہے؟ محبوب کیا اتنا ڈراؤنا ہے؟ اوسان خطا ہونے سے مراد ڈر کے مارے حالت تباہ ہو جانا ہوتا ہے۔

اگر محبوب مذکر ہو :grin:، اگر محبوب کے عہدے پر از خود اور جبرا" فائز ہوا ہو :grin:، پھر وہ ڈرائونا :grin:بھی ہوسکتا ہے اور اسے دیکھ کر اوسان خطا بھی ہوسکتے ہیں :eek:
 
اُستاد محترم،
شعر تبدیل کر دیا ہے، اب ملاحظہ کیجیے
دعا گو
وہ بھی کیا لوگ ہوا کرتے تھے مے خانوں میں
مے بھی رقصاں سی رہا کرتی تھی پیمانوں میں

درد غیروں کا بھی محسوس ہوا کرتا تھا
خوف باقی تھا خدا کا ابھی انسانوں میں

وقت نے آنچ کی حدت کو گھٹایا ہو گا
خون تو اب بھی رواں ہے وہی شریانوں میں

شہر کے شہر جو ویران بنے جاتے ہیں
آبلہ پائی ہو پھر کس لئے ویرانوں میں

اپنی آنکھون میں محبت جو لئے پھرتا ہوں
اک شناسا تو ملے گا کبھی انجانوں میں

پابجولاں وہ مجھے پیش کریں گے ظالم
سامنے جبر کے، لکھا ہے یہ فرمانوں میں

قید اظہر کو کریں ، دل میں ہی رکھیے خواہش
دم نہیں باقی رہا آُپ کے زندانوں میں
 
وہ بھی کیا لوگ ہوا کرتے تھے مے خانوں میں
مے بھی رقصاں سی رہا کرتی تھی پیمانوں میں

درد غیروں کا بھی محسوس ہوا کرتا تھا
خوف باقی تھا خدا کا ابھی انسانوں میں

وقت نے آنچ کی حدت کو گھٹایا ہو گا
خون تو اب بھی رواں ہے وہی شریانوں میں

شہر کے شہر جو ویران بنے جاتے ہیں
آبلہ پائی ہو پھر کس لئے ویرانوں میں

اپنی آنکھون میں محبت جو لئے پھرتا ہوں
اک شناسا تو ملے گا کبھی انجانوں میں

پابجولاں وہ مجھے پیش کریں گے ظالم
سامنے جبر کے، لکھا ہے یہ فرمانوں میں

قید اظہر کو کریں ، دل میں ہی رکھیے خواہش
دم نہیں باقی رہا آُپ کے زندانوں میں
 

الف عین

لائبریرین
لو اس بیچ میں تن نے ایک ورژن اور پوسٹ کر دیا اس غزل کا، کل ہی میں نے اصلاح کر دی ہے، اور اب پوسٹ کر رہا ہوں، تم ہی دیکھ لو کہ اس میں کی ہوئی تبدیلیاں پسند ہیں یا تمہاری خود کی۔

وہ بھی کیا لوگ ہوا کرتے تھے مے خانوں میں
مے بھی رقصاں سی رہا کرتی تھی پیمانوں میں
// اب ایسا نہیں ہوتا تو کیوں نہیں ہوتا؟ تکنیکی اعتبار سے صرف یہ غلطی ہے کہ ’سی‘ بھرتی کا ہے۔ اس کو یوں کہہ سکتے ہو
رقص میں مے بھی رہا کرتی۔۔۔۔۔۔۔

درد غیروں کا بھی محسوس ہوا کرتا تھا
خوف باقی تھا خدا کا ابھی انسانوں میں
//درست

کھولنا بھول گیا ہے یہ ستم کیسا ہو
خون تو اب بھی رواں ہے وہی شریانوں میں
//شعر اچھا ہے لیکن اس صورت میں مفہوم سے عاری۔ یوں ہو تو صاف ہو جاتا ہے
کھولنا بھول گیا ہے، یہ ستم کیسے ہوا؟

جلوتیں دے نہ سکیں درد سوا کچھ بھی مجھے
اس سے بہتر ہے بسوں جا کے میں ویرانوں میں
// جلوتیں کیا نہ دے سکیں، یہ سمجھ میں نہیں آتا۔ کیا یہ مطلب ہے؟
درد و غم چھوڑ کے جب جلوتیں کچھ دے نہ سکیں
یا
ماسوا درد کے جب جلوتیں۔۔۔۔۔

اپنی آنکھوں میں محبت جو لئے پھرتا ہوں
اک شناسا تو ملے گا کبھی انجانوں میں
//درست

پابجولاں وہ مجھے پیش کریں گے ظالم
سامنے جبر کے، لکھا ہے یہ فرمانوں میں
// پہلا مصرع یوں ہو تو زیادہ بہتر ہے
پا بہ زنجیر مجھے پیش کیا جائے گا

قید اظہر کو کریں ، دل میں ہی رکھیے خواہش
دم نہیں باقی رہا آپ کے زندانوں میں
// زندانوں میں دم؟؟ بات سمجھ میں نہیں آئی۔
 
وہ بھی کیا لوگ ہوا کرتے تھے مے خانوں میں
رقص میں مے بھی رہا کرتی تھی پیمانوں میں

درد غیروں کا بھی محسوس ہوا کرتا تھا
خوف باقی تھا خدا کا ابھی انسانوں میں

کھولنا بھول گیا ہے، یہ ستم کیسے ہوا؟
خون تو اب بھی رواں ہے وہی شریانوں میں

درد و غم چھوڑ کے جب جلوتیں کچھ دے نہ سکیں
اس سے بہتر ہے بسوں جا کے میں ویرانوں میں

یوں محبت مری نظروں میں لئے پھرتا ہوں
اک شناسا بھی ملے گا کبھی انجانوں میں

پا بہ زنجیر مجھے پیش کیا جائے گا
سامنے جبر کے، لکھا ہے یہ فرمانوں میں

قید اظہر کو کریں ، دل میں ہی رکھیے خواہش
دم نہیں باقی رہا آُپ کے زندانوں میں
بہت شکریہ محترم اُستاد،
آپ کی اصلاح بلا شک بہت بہتر ہے
خاکسار
اظہر
 

الف عین

لائبریرین
دو اشعار اب بھی سوال طلب ہیں
یوں محبت مری نظروں میں لئے پھرتا ہوں،
اک شناسا بھی ملے گا کبھی انجانوں میں
۔۔ ’مری‘ کی جگہ ’اپنی نظروں‘ کا محل ہے یہاں۔اس سے تو پچھلی صورت ہی بہتر تھی۔۔ اپنی آنکھوں میں۔۔۔
یا یوں کہو تو۔۔
اپنی نظروں میں لئے پھرتا ہوں الفت کے چراغ/ دیئے

قید اظہر کو کریں ، دل میں ہی رکھیے خواہش
دم نہیں باقی رہا آُپ کے زندانوں میں
زنادانوں میں دم کی بات لکھ چکا ہوں
 
وہ بھی کیا لوگ ہوا کرتے تھے مے خانوں میں
رقص میں مے بھی رہا کرتی تھی پیمانوں میں

درد غیروں کا بھی محسوس ہوا کرتا تھا
خوف باقی تھا خدا کا ابھی انسانوں میں

کھولنا بھول گیا ہے، یہ ستم کیسے ہوا؟
خون تو اب بھی رواں ہے وہی شریانوں میں

درد و غم چھوڑ کے جب جلوتیں کچھ دے نہ سکیں
اس سے بہتر ہے بسوں جا کے میں ویرانوں میں

اپنی نظروں میں لئے پھرتا ہوں الفت کے چراغ
اک شناسا بھی ملے گا کبھی انجانوں میں

پا بہ زنجیر مجھے پیش کیا جائے گا
سامنے جبر کے، لکھا ہے یہ فرمانوں میں

قید اظہر کو کریں ، دل میں ہی رکھیے خواہش
دم نہیں باقی رہا آُپ کے زندانوں میں
اُستاد محترم،
دم نہیں باقی رہا آُپ کے زندانوں میں
گویا آپ کے قید خانوں میں اب اتنا بھی دم نہیں ہے کہ اظہر کو قید رکھ سکیں
والسلام
اظہر
 

الف عین

لائبریرین
زندانوں میں طاقت یا دم نہیں ہوا کرتا، ویسے استعاراتی طور پر کہہ سکتے ہو لیکن یہی بات کھٹکتی ہے۔
اس کے علاوہ ایک مشورہ اور۔
اک شناسا بھی ملے گا کبھی انجانوں میں
کو اگر
اک شناسا تو ملے گا کبھی انجانوں میں
کر دیا جائے تو زیادہ بہتر ہو سکتا ہے۔ تمہارا کیا خیال ہے؟
 
وہ بھی کیا لوگ ہوا کرتے تھے مے خانوں میں
رقص میں مے بھی رہا کرتی تھی پیمانوں میں

درد غیروں کا بھی محسوس ہوا کرتا تھا
خوف باقی تھا خدا کا ابھی انسانوں میں

کھولنا بھول گیا ہے، یہ ستم کیسے ہوا؟
خون تو اب بھی رواں ہے وہی شریانوں میں

درد و غم چھوڑ کے جب جلوتیں کچھ دے نہ سکیں
اس سے بہتر ہے بسوں جا کے میں ویرانوں میں

اپنی نظروں میں لئے پھرتا ہوں الفت کے چراغ
اک شناسا تو ملے گا کبھی انجانوں میں

پا بہ زنجیر مجھے پیش کیا جائے گا
سامنے جبر کے، لکھا ہے یہ فرمانوں میں

قید اظہر کو کریں ، دل میں ہی رکھیے خواہش
دم نہیں باقی رہا آُپ کے زندانوں میں
جی بالکل مناسب تجویز ہے اُستاد محترم
دعا گو
اظہر
 
Top