ایک تازہ کاوش پر گزارشِ اصلاح "میں ہوں جب اپنے ہی اندر پھر یہ باہرکون ہے"

اسد قریشی

محفلین
یہاں اس گفتگو کے حوالے سے ایک گزارش کرنا چاہتا ہوں، میں کوئی شاعر نہیں کوئی اُستاد نہیں، یہاں اُستاد صرف اعجاز عُبید صاحب ہی ہیں جو کہ اُستاد کہلانے کا ظرف بھی رکھتے ہیں اور میں تو خود اُن کی جوتیاں سیدھی کر کے کُچھ اپنا "الف" سیدھا کرنے میں کوشاں ہوں۔ لہٰذا تمام احباب سے ملتمس ہوں کے میری سعیِ ناتواں پر دل کھول کر تنقید کیجئے کہ میں بُرائی میں خود سے زیادہ بُرا کسی کو نہیں سمجھتا اس لیے کسی کی بات کا بُرا بھی نہیں مانتا اور ظاہر ہے کہ جب اپنی کوئی تخلیق قارئین کے سامنے رکھی جائے تو تنقید بھی ہوگی اور تعریف بھی اس لیے ہر طرح کی تنقید کا حوصلہ رکھ کر اپنی تخلیق آپ احباب کی نزر کرتا ہوں کہ احباب اپنی مخلصانہ رائے سے نوازیں گے اور مجھے صحیح راہ دکھلائیں گے۔

اُمید کرتا ہوں کہ آئندہ مجھے احباب کی محبت کا یقین آج سے زیادہ ہوگا۔

والسلام
احقر
اسد قریشی
 
میں ہوں جب اپنے ہی اندر پھر یہ باہر کون ہے؟
دوست ہے گر دل مرا تو پھر یہ خود سر کون ہے؟

اس چمن میں اپنے گھر میں ہم اگر آزاد ہیں
قہر کے جیسے مسلط پھر یہ ہم پر کون ہے ؟

مان لوں میں سب ہے فانی ایک دن مٹ جائے گا
خواب آنکھوں میں سجاتا پھر یہ شب بھر کون ہے ؟

نور سے تخلیق ہوں اور نور میری روح ہے
روز مشرق سے ابھرتا پھر یہ اظہر کون ہے ؟
(اظہر کے معنی ہیں روشن، بہت زیادہ روشن، اس لیے یہاں سورج کو اظہر سے تشبیح دی ہے۔)

سی لئے ہیں ہونٹ میں نے، خامشی اوڑھے ہوں میں
شور سا مجھ میں مچاتا پھر یہ اندر کون ہے؟

میں ہوں اور تنہائی ہے، تنہائی میری ہمسفر
تانتا راتوں کو مجھ پر پھر یہ خنجر کون ہے ؟
جی وہ تو میں ہوں اللہ کے فضل سے :angel:
 
Top