ایٹمی جہنم کی طرف

الف نظامی نے 'ماحولیات' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اکتوبر 4, 2008

  1. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    15,139
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    ناگاساکی: عیسائیوں کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس نے کہا ہے کہ تباہ کن اسلحے کی تیاری اور ان کی فروخت سے دولت کمانا خدا کے قہر کو دعوت دینا ہے، عالمی قوتوں کو اپنے جوہری ہتھیار تلف کردینا چاہیئں۔

    بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق جاپان کے شہر ناگاسا میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پوپ فرانسس نے کہا کہ ایٹمی اور وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار امن کی خواہش پوری نہیں کر سکتے، ہتھیاروں کی دوڑ کے خلاف ہم چاہے جتنا بھی بولیں وہ کم ہے۔ ایک ایسی دنیا جہاں کروڑوں بچے اور خاندان غیر انسانی حالات میں رہتے ہیں، وہاں تباہ کن اسلحے کی تیاری پر پیسے خرچ کرنا اور ان کی فروخت سے نفع حاصل کرنا خدا کے قہر کو دعوت دینا ہے۔

    پوپ فرانسس نے جوہری ہتھياروں کی تلفی کی اپيل کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں خوف اور عدم اعتماد کے ذریعے تحفظ کے جھوٹے احساس کو فروغ دے کر استحکام اور امن یقینی بنانے کا دفاع کیا جاتا ہے۔ انسانیت کے مکمل خاتمے کا خوف اور امن و بین الاقوامی استحکام کا آپس میں کوئی تعلق نہیں۔ پوپ فرانسس جاپان کے 4 روزہ دورے پر ہیں اور آج ہيروشيما بھی جائيں گے۔

    واضح رہے کہ پاپائے روم نے 2017 ميں سامنے آنے والے جوہری ہتھياروں پر پابندی کے معاہدے کی بھی حمايت کی تھی، اس معاہدے کو اقوام متحدہ کے دو تہائی رکن ممالک کی حمایت بھی حاصل تھی تاہم بڑی ايٹمی طاقتوں کی مخالفت کے سبب اسے حتمی شکل نہیں دی جا سکی تھی۔
     
    • زبردست زبردست × 1
  2. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    15,139
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    ہزاروں عارفوں میں سے کسی ایک آدھ عارف کو یہ مقام حاصل ہوتا ہے جو نہایت ہی عزیز الوجود ہوتا ہے جس سے ایک عالم سیراب ہوتا ہے۔موجودہ دور میں شائع ہونے والی اکثر وبیشتر تفسیرات اس معاملے میں ظاہر کرتی ہیں کہ قرآن حکیم ایک ایسی کتاب ہے جس کی بنیاد مادہ پرستی پر ہے۔ ان میں سے بعض تفسیریں یہاں تک کہتی ہیں کہ قرآن حکیم کا مطمح نظر اور منتہائے مقصود ہی یہی سائنسی ترقی ہے۔اس طرح تو ہی معلوم ہوتا ہے کہ اس اُمت کے اسلاف قرآنی تعلیمات سے غافل رہے اور یورپ والوں نے ہی قرآن حکیم کی حقیقت کو سمجھااور اب ضروری ہے کہ مسلمان اس نقصان عظیم کی تلافی مافات کے لئے سرگرم عمل ہو جائیں اور اس کمی کو پورا کرکے ترقی یافتہ قوموں کے دوش بدوش ہو جائیں اور یہی خیال آج اس امت مسلمہ کے ہرفرد کا ہے۔ بجز ایک انسان کے۔ اور وہ ہیں حضرت علامہ محمدیوسف جبریلؒ۔ یہ بات مسلمہ ہے کہ اس ترقی کا انجام ایٹمی تباہی ہے لہذا ایٹمی جہنم بیکنی فلسفے کا منطقی انجام ہے اور بیکنی فلسفہ قرآنی فلسفے کی عین ضد ہے۔
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  3. زاہد لطیف

    زاہد لطیف محفلین

    مراسلے:
    204
    سوال پوچھنے کی جسارت کروں گا کہ یہ قرانی فلسفہ کیا ہے؟
     
    • زبردست زبردست × 1

اس صفحے کی تشہیر