ایف بی آر اور ملک بھر کے تاجر تصادم کی راہ پر چل پڑے

جاسم محمد نے 'معیشت و تجارت' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ستمبر 23, 2019

  1. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    14,498
    ایف بی آر اور ملک بھر کے تاجر تصادم کی راہ پر چل پڑے
    [​IMG]
    فوٹو: فائل

    ملک کی کاروباری برادری اور ایف بی آر کے عہدیداروں کے مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے ہیں، ایف بی آر یکم اکتوبر2019 سے سیلز ٹیکس میں رجسٹرڈ لاکھوں بزنس مینوں کے خلاف ایکشن شروع کرنے کے لیے پر تول رہا ہے۔

    آل پاکستان انجمن تاجران کے مرکزی صدر محمد اجمل بلوچ نے بتایا کہ وزیراعظم عمران خان کی معاشی ٹیم جس کے ارکان سے آئی ایم ایف کے ساتھ رشتوں سے پورا پاکستان واقف ہے۔

    درحقیقت عمران خان حکومت بزنس کمیونٹی سے تصادم کے راستے پر چل نکلی ہے، اس ٹیم کے سرخیل مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ جب زرداری دور کے وزیر خزانہ کے عہدے پر فائز تھے، اس وقت انہوں نے کن وجوہ کی بنیاد پر بزنس مینوں کی سیلز ٹیکس رجسٹریشن کا کلہاڑا نہ چلایا جو آج وہ چلانے کے درپے ہیں۔

    جنرل پرویز مشرف دور میں وزیراعظم شوکت عزیز نے بزنس مینوں کے لیے سیلز ٹیکس رجسٹریشن لازمی قرار دی مگر 17 روزہ بزنس مین احتجاج کے آخر میں باہمی مذاکرات کر کے وزیراعظم شوکت عزیز اور ان کی ٹیم اس اصولی مؤقف پر قائل ہو گئی کہ جب مینوفیکچرر سے حکومت/ ایف بی آر 17فیصد سیلز ٹیکس وصول کرلیتا ہے تو اس کے بعد اسی مینو فیکچرر کا تیار کردہ مال فروخت کرنے والے تھوک فروش پرچون فروش دکاندار کی سیلز ٹیکس رجسٹریشن بے معنی ہے۔

    اس سے ملک کے لاکھوں چھوٹے بڑے تاجروں کو رجسٹریشن کے بعد ہر ماہ سیلز ٹیکس کے گوشوارے جمع کرانے پر لگا دیا جائے گا وہ خاک کاروبار کرے گا۔ مذاکرات میں وزیراعظم شوکت عزیز نے تاجر وفد پر اعتماد کا اظہار کیا بزنس کمیونٹی نے اس اعتماد کی لاج رکھ کر اگلے سال تین سو فیصد زیادہ ٹیکس جمع کرایا۔

    محمد اجمل بلوچ صدر آل پاکستان انجمن تاجران نے بتایا کہ وزیراعظم شوکت عزیز نے 17 روزہ احتجاجی ہڑتال ختم کرانے کیلئے بزنس کمیونٹی کو خود تشخیصی اسکیم میں گوشوارے جمع کرانے پر راغب کیا جنہوں نے گوشواروں کے ساتھ پہلے سال سے تین گنا ٹیکس جمع کرا دیا۔

    موجودہ مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ جو زرداری دور کے وفاقی وزیر خزانہ اقتصادی امور ریونیو بھی تھے نے سابق مشرف حکومت کے وزیراعظم شوکت عزیز کی سات سال سے کامیاب جاری پالیسی کو اپنی وزارت کے دور میں جاری و ساری رکھا ۔

    اس وقت کوئی تبدیلی نہیں کی اب ان کے کہنے پر شاید ایف بی آر کے چیئرمین سید شبر حسین زیدی اور ان کی ممبر ان لینڈ ریونیو آپریشنز( انکم ٹیکس فیڈرل ایکسائز سیلز ٹیکس) مس سیما شکیل نے جولائی 2019 میں چاروں صوبوں کے بزنس کمیونٹی کے30 رکنی وفد سے ملاقات کی اس کے بعد ملاقات وعدے کے باوجود خود اور ممبر آپریشنز کبھی بزنس کمیونٹی کے منتخب عہدیداروں سے ملاقات کے لئے وقت نہیں نکال سکے۔

    ستمبر کے اوائل میں اور ایک ہفتہ قبل آل پاکستان انجمن تاجران کے وفدسے مذاکرات کے لئے ایف بی آر کے ممبر ٹیکس پالیسی حامد عتیق اور ممبر آڈٹ میڈم نوشین کو اس خصوصی ہدایت کے ساتھ ضرور بھجوایا کہ بزنس کمیونٹی کے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کرینگے فکر نہ کریں سی این آئی سی معاملے پر بھی حکومت غور کریگی۔

    اجمل بلوچ نے کہا کہ پورے ملک کے تاجر پریشان ہیں کاروبار کم و بیش نہ ہونے کے برابر ہے حکومتی پالیسیوں سے قانونی امپورٹ روکی جارہی ہے مگر وہی مال سمگلنگ کے ذریعے کھلے عام پاکستانی مارکیٹوں میں موجود ہے سپاری اور معروف انٹرینشنل برانڈ کے سگریٹ کی درآمد کسٹم ڈیوٹی جرمانے کے ساتھ نہیں ہوسکی مگر پورے ملک میں غیر ملکی انٹرنیشنل برانڈ کے سگریٹ سپاری اور دوسرا سمگل شدہ مال سرعام فروخت ہورہا ہے۔

    اجمل بلوچ نے دوٹوک الفاظ میںکہا کہ9اکتوبر کو ملک بھر کے تاجر چھوٹے بڑے دکاندار قانونی امپورٹر ہڑتال کریں گے۔اس روز وفاقی دارالحکومت کی طرف مارچ کرینگے ایف بی آر کے سامنے جمع ہوں گے انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کے ساتھ ،شناختی کارڈ کی شرط کے خاتمے ، سیلز ٹیکس رجسٹریشن اور فکسڈ ٹیکس سکیم کے خدوخال پر اتفاق نہ ہو سکا۔

    اگلے لائحہ عمل کو اختیار کرنے کیلئے ملک بھر کے تاجر نمائندوں سے رجوع کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ ملک بھر سے تمام اضلاع اور تحصیلوں کے تاجر نمائندے اسلام آباد کی طرف مارچ کرینگے۔

    9اکتوبر کو ملک بھر کے تاجر نمائندے اسلام آباد میں صبح 11بجے اکٹھے ہونگے‘ تاجروں کی تاریخ کا سب سے بڑا اجتماع اسلام آباد میں ہو گا۔

    آزاد کشمیر کے تاجر نمائندے شوکت میر کی قیادت میں اسلام آباد پہنچیں گے۔ گلگت بلتستان کے تاجروں کا وفد مسعود الرحمن کی قیادت میں اسلام آباد مارچ میں شریک ہو گا۔

    صوبہ پنجاب کے تمام اضلاع اور تحصیلوں کے تاجر نمائندے ملک شاھد غفور پراچہ، روف مغل، اسلم بھلی، جاوید بٹ اور ممتاز بابر کی قیادت میں اسلام آباد پہنچیں گے۔ صوبہ سندھ کی تمام گوٹھوں اور اضلاع سے تاجروں کے قافلے ، قیوم قریشی، امین میمن ، ھارون میمن، رحمت اللہ ساند، حاجی مجید میمن اور جاوید قریشی کی قیادت میں اسلام آباد کا رخ کریں گے۔کراچی کے تاجر نمائندے، جمیل پراچہ، عبدالرحمان، اسماعیل لال پوریہ، سلیم میمن، محمد ارشد کی قیادت میں اسلام آباد کی طرف مارچ کرینگے۔

    خیبر پختونخوا کے تاجر نمائندے، ملک مہر الٰہی، احسان باچہ احتشام حلیم، شکیل صراف، منصور بنگش کی قیادت میں اسلام آباد میں جلوہ افروز ہونگے۔

    صوبہ بلوچستان کے تاجر نمائندے، عبدالرحیم کاکڑ، اللہ داد ترین، یٰسین مینگل، حضرت علی اور تاج آغا کی قیادت میں اسلام آباد کی طرف پیش قدمی کرینگے۔

    لاہور سے تاجروں کی یلغار محمد نعیم میر سیکرٹری جنرل آل پاکستان انجمن تاجران کی سربراہی میں اسلام آباد کی طرف مارچ کرے گی، تاجر نمائندے جو بھی مشترکہ فیصلہ کریں گے، اس پر عمل کیا جائیگا۔

    اسلام آباد کے تمام تاجر اور تاجر نمائندے ملک بھر سے آئے تاجر اور تاجر نمائندوں کا استقبال کریں گے اور میزبانی‘ ملک بھر کے تاجر تاجر نمائندے اسلام آباد مارچ میں شرکت کو یقینی بنائیں۔
     
  2. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    14,498
    جہالت کی انتہا ہے۔ مصنوعات بنانے والے پر ٹیکس اور ان مصنوعات کو بیچ کر منافع کمانے والوں کومکمل ٹیکس چھوٹ!
     
  3. سید ذیشان

    سید ذیشان محفلین

    مراسلے:
    6,827
    موڈ:
    Asleep
    ایف بی آر کا موقف کہاں ہے؟ بہت ہی بیکار رپورٹ ہے۔
     

اس صفحے کی تشہیر