اپنا غلام ہم کو اس فوج نے بنایا

الف عین
عظیم
شکیل احمد خان23
مقبول
---------
اپنا غلام ہم کو اس فوج نے بنایا
اپنی ہے فوج لیکن اس نے بہت ستایا
-----------
سمجھا جنہیں محافظ ہم کو انہیں نے لوٹا
اپنی خطا سے ہم نے اپنا ہی گھر لٹایا
-------
کہتے تھے ہم سیاست ہرگز نہ اب کریں گے
جو عہد خود کیا تھا اس کو نہ پھر نبھایا
----------
پھیلے گی اس سے نفرت کھیلا جو کھیل تم نے
جیتے ہوؤں کو تم نے کس بات پر ہرایا
--------
دولت کما رہے ہو تم اسلحے سے کتنی
اس قوم سے ہمیشہ تم نے ہے سب چھپایا
------------
رسوا ہوئے تھے تم جب ہم کو ہے یاد سب
دشمن کی قید میں میں تھے ہم نے نہیں بھلایا
-----یا
چاہو تو بھول جاؤ ہم نے نہیں بھلایا
----------
چوروں کے سر پہ اپنا رکھا جو ہاتھ تم نے
اک دوسرے سے ایسے تم نے ہمیں لڑایا
-------
دولخت کر دیا تھا تم نے مرے وطن کو
وہ سانحہ ابھی تک ارشد نہ بھول پایا
------------
 
آخری تدوین:

عظیم

محفلین
اپنا غلام ہم کو اس فوج نے بنایا
اپنی ہے فوج لیکن اس نے بہت ستایا
----------- دوسرا کچھ بدلیں تو شاید کوئی بات بن جائے، فی الحال تو مجھے پسند نہیں آیا، کوئی خاص بات نہیں ہے

سمجھا جنہیں محافظ ہم کو انہیں نے لوٹا
اپنی خطا سے ہم نے اپنا ہی گھر لٹایا
-------پہلا ٹھیک ہے صرف انہیں کی جگہ انہی کا محل ہے۔ دوسرے میں کچھ تبدیلی کی ضرورت ہے، مثلاً
// یوں اپنی ہی خطا سے خود اپنا گھر لٹایا
میرا خیال ہے کہ بہتر رہے گا ورنہ آپ کچھ بہتر بھی سوچ سکتے ہیں

کہتے تھے ہم سیاست ہرگز نہ اب کریں گے
جو عہد خود کیا تھا اس کو نہ پھر نبھایا
---------- 'ہم' سے یہ صاف ظاہر نہیں ہوتا کہ کچھ لوگ یہ بات کہتے تھے کہ اب سیاست نہیں کریں گے
'جو' لائیں تو واضح رہے میرے نزدیک
//کہتے تھے جو سیاست... اسی مناسبت سے دوسرے مصرع میں بھی تبدیلی کرنا پڑے گی
مثلاً
//اس طبقہ نے یہ وعدہ کر کے نہیں نبھایا

پھیلے گی اس سے نفرت کھیلا جو کھیل تم نے
جیتے ہوؤں کو تم نے کس بات پر ہرایا
-------- تم نے کا دہرایا جانا اچھا نہیں، اس کے علاوہ ٹھیک ہے مگر کوئی خاص بات نہیں ہے

دولت کما رہے ہو تم اسلحے سے کتنی
اس قوم سے ہمیشہ تم نے ہے سب چھپایا
----------- مسلسل غزل میں ہو یہ شعر تو شاید سمجھا بھی جائے، مگر اس طرح میرا نہیں خیال کہ ہر کوئی یہ بات سمجھ لے کہ آپ کا خطاب کس کے ساتھ ہے

رسوا ہوئے تھے تم جب ہم کو ہے یاد سب
دشمن کی قید میں میں تھے ہم نے نہیں بھلایا
-----یا
چاہو تو بھول جاؤ ہم نے نہیں بھلایا
----------پہلے میں شاید ٹائپو ہے، 'وہ' لکھنے سے رہ گیا ہے 'یاد' کے بعد!
دوسرے مصرع کے دونوں متبادل پسند نہیں آئے، رسوائی کیسی تھی اس بات کی بھی وضاحت ہونی چاہیے تھی، محض دشمن کی قید میں ہونے سے بات نہیں بنی

چوروں کے سر پہ اپنا رکھا جو ہاتھ تم نے
اک دوسرے سے ایسے تم نے ہمیں لڑایا
------- سمجھ میں نہیں آ رہا کہ چوروں کے سر پر ہاتھ رکھنے سے آپس میں لڑائی کس طرح اور کیوں پیدا ہو رہی ہے

دولخت کر دیا تھا تم نے مرے وطن کو
وہ سانحہ ابھی تک ارشد نہ بھول پایا
//درست
مگر کسی مسلسل غزل میں ہو اور معلوم ہو کہ خطاب کس کے ساتھ ہے تو
اس اکیلے شعر کی میرے خیال میں کوئی اہمیت نہیں ہے کہ معلوم نہیں پڑتا کہ کس کے ساتھ خطاب ہے، بہر حال اس غزل پر محنت بے کار لگتی ہے مجھے
 

عظیم

محفلین
ایک اصافی شعر
-------
پامال کر دیا تھا اپنوں کی عزتوں کو
تم نے وہی کی جب ہم کو بھی یاد آیا
------------
پہلے میں 'اپنوں' کے ساتھ 'ہی' کی ضرورت محسوس ہوتی ہے کچھ زور پیدا کرنے کے لیے بات میں
دوسرے میں شاید ٹائپو ہے کی کی جگہ کیا ہو گا، بیانیہ بھی مکمل نہیں ہے، تم نے وہی کیا جب ہمیں بھی پھر وہی وقت یاد آیا مکمل بات ہوتی، کوشش کریں کہ اپنی بات کو واضح کر کے کہیں، کچھ خیال یا باتیں آپ کے ذہن میں تو ہوتی ہیں مگر آپ کے لفظوں سے اس بات تک نہیں پہنچا جاتا
 
الف عین
عظیم
شکیل احمد خان23
مقبول
-----------
اصلاح
--------
اپنا غلام ہم کو ہے فوج نے بنایا
کیا بوجھ ہم نے اس کا تھا اس لئے اٹھایا؟
----------
سمجھا جنہیں محافظ ہم کو انہی نے لوٹا
یوں اپنی ہی خطا سے خود اپنا گھر لٹایا
-------
کر کے خطا یہ ہم نے اپنا ہی گھر لٹایا
--------
کہتے تھے جو سیاست ہرگز نہ اب کریں گے
تھا عہد ان کا جھوٹا کر کے نہ پھر نبھایا
----------
کھیلو نہ کھیل ایسا جو نفرتیں ابھارے
جیتے ہوؤں کو تم نے کس بات پر ہرایا
-----------
کرتے ہو کیا تجارت تم اسلحہ بنا کر
کتنا کما رہے ہو سب قوم سے چھپایا
-----------
ہاری تھی جنگ تم نے دشمن کی قید میں تھے
رسوا کیا وطن کو کچھ یاد تم کو آیا
----------
چوروں کے سر پہ اپنا رکھا جو ہاتھ تم نے
اپنا وقار ایسے خود خاک میں ملایا
-----------
پامال کر دیا تھا اپنوں کی عزتوں کو
تم نے وہی کیا جب ہم کو بھی یاد آیا
----------
اب چھوڑ دو سیاست پھر سرحدوں پہ جاؤ
جس کام پر ہے تم کو اس قوم نے لگایا
-------
 

عظیم

محفلین
الف عین
عظیم
شکیل احمد خان23
مقبول
-----------
اصلاح
--------
اپنا غلام ہم کو ہے فوج نے بنایا
کیا بوجھ ہم نے اس کا تھا اس لئے اٹھایا؟
----------
یہ دو حصوں والی بحر ہے نا؟ تو 'ہے' اگلے حصے میں جا پڑا ہے، جس کی وجہ سے اچھا نہیں لگ رہا
//اپنا غلام سا ہے اس ..
بوجھ اٹھانا غیر واضح لگتا ہے مجھے، پالنا کے معنوں میں برتا گیا ہے مگر یہاں یہ مطلب ادا نہیں ہو رہا
سمجھا جنہیں محافظ ہم کو انہی نے لوٹا
یوں اپنی ہی خطا سے خود اپنا گھر لٹایا
-------
دو لختی کی سی کیفیت ہے، میں بھی صرف مثال دے کر ہی آگے بڑھ گیا تھا دوسرے مصرع کی، شعر درست بھی ہوتا ہے اس پر غور نہیں کیا تھا
کر کے خطا یہ ہم نے اپنا ہی گھر لٹایا
--------
'اپنا ہی' مجھے کچھ پسند نہیں آیا تھا، اس لیے جو مثال دی تھی اس میں 'ہی' کے بغیر کہنے کی کوشش کی تھی، فی الحال کوئی دوسری صورت سمجھ نہیں آ رہی اس شعر کی، یوں بھی شاید چل ہی جائے
کہتے تھے جو سیاست ہرگز نہ اب کریں گے
تھا عہد ان کا جھوٹا کر کے نہ پھر نبھایا
----------
//ان لوگوں نے یہ وعدہ... کیسا رہے گا؟
پہلے کو بھی اگر بدل دیا جائے تو
یعنی
//کہتے تھے جو سیاست، اب ہم نہیں کریں گے
مزید یہ کہ دوسرے مصرع میں 'کر کے نہیں نبھایا' بہتر ہے بہ نسبت 'کر کے نہ پھر نبھایا' کے
کھیلو نہ کھیل ایسا جو نفرتیں ابھارے
جیتے ہوؤں کو تم نے کس بات پر ہرایا
-----------
نفریں ابھارے ٹھیک نہیں لگ رہا، کسی طرح نتائج کے بدلنے کی بات لائیں تو دوسرے مصرع کے ساتھ ربط مضبوط ہو سکے
کرتے ہو کیا تجارت تم اسلحہ بنا کر
کتنا کما رہے ہو سب قوم سے چھپایا
-----------
کون ہیں یہ واضح نہیں، یہی بات پچھلے ایک دو اشعار میں بھی ہے جو نظر انداز ہو گئی ہے مجھ سے
ہاری تھی جنگ تم نے دشمن کی قید میں تھے
رسوا کیا وطن کو کچھ یاد تم کو آیا
----------
کس طرح رسوا کیا یہ اب بھی واضح نہیں ہے، سیدھا سا ایک بیان ہے، کوئی شعر نہیں بنا
چوروں کے سر پہ اپنا رکھا جو ہاتھ تم نے
اپنا وقار ایسے خود خاک میں ملایا
-----------
ہاں یہ بہتر کر لیا ہے آپ نے
پامال کر دیا تھا اپنوں کی عزتوں کو
تم نے وہی کیا جب ہم کو بھی یاد آیا
----------
ہم کو کیا یاد آیا؟
اب چھوڑ دو سیاست پھر سرحدوں پہ جاؤ
جس کام پر ہے تم کو اس قوم نے لگایا
-------
ٹھیک
 
Top