اُن سے عرضِ تمنا کریں بھی تو کیا (فاعلن فاعلن فاعلن فاعلن)

نوید ناظم

محفلین
اُن سے عرضِ تمنا کریں بھی تو کیا
سوچتے ہیں کہ ایسا کریں بھی تو کیا

جب رقیب اُن کے دل میں بسا ہے تو پھر
وہ مِرے پاس بیٹھا کریں بھی تو کیا

ہے یہاں پر غموں کی قطاریں لگیں
پھر کسی غم کو چلتا کریں بھی تو کیا

جب کسی کو کسی سے غرض کچھ نہیں
ہم کسی سے کچھ اچھا کریں بھی تو کیا

تیرے پہلو میں ملتی نہیں ہے جگہ
تیری محفل میں آیا کریں بھی تو کیا

ہم پہ مجنوں چلو خوش تو ہوتا ہے نا
سر پہ پتھر جو برسا کریں بھی تو کیا

داد دیتا نہیں ہے ستم گر ہمیں
ہم کوئی شعر لکھا کریں بھی تو کیا

دل نہ دے گا ہمیں یہ قسم کھائی ہے
اُس سے اب کوئی سودا کریں بھی تو کیا

دوڑ آتا ہے صیاد بھی ساتھ میں
ہم بہاریں بلایا کریں بھی تو کیا

دل یہ کہتا ہے لذت ہے اس درد میں
اب بھلا کوئی چارہ کریں بھی تو کیا

بے وفا ہے، ستم گر ہے، ظالم بھی ہے
ہم نوید اُس کو رسوا کریں بھی تو کیا
 

الف عین

لائبریرین
باقی تو درست ہیں اشعار لیکن یہ دو اشعار۔۔ درست تو یہ بھی ہیں لیکن پسند نہیں آئے۔
ہے یہاں پر غموں کی قطاریں لگیں
پھر کسی غم کو چلتا کریں بھی تو کیا
÷÷÷ پہلے مصرع کی روانی متاثر ہے،
نشست بدل کر دیکھو الفاظ کی۔
ہم پہ مجنوں چلو خوش تو ہوتا ہے نا
سر پہ پتھر جو برسا کریں بھی تو کیا
÷÷ پہلا مصرع یہ بھی ایضاً۔ ’‘ہم پہ خوش ہونا‘ غلط محاورہ ہے، درست ‘ہم سے خوش‘ ہوتا ہے
 
Top