ان اشعار پر اساتذہ کی رائے درکار ہے

عاطف ملک

محفلین
بیٹھے بیٹھے چند اشعار لکھے ہیں.اساتذہ کرام کی خدمت میں پیش ہیں.اصلاح کی درخواست کے ساتھ ساتھ اس حوالے سے رہنمائی درکار ہے کہ یہ اشعار کس صنف کے لیے موزوں ہو سکتے ہیں؟
قبلہ الف عین سے ایک نظر کی special request کے ساتھ

جب سے حصولِ زر ہے مِرا مقصدِ حیات
اس دن سے میرے مال میں برکت نہیں رہی
خود چاہے اس کو رکھتے ہوں جوتے کی نوک پر
شکوہ یہ ہے انہیں کہ شرافت نہیں رہی
جھوٹ اور دغا، فریب ، ریاکاری میں ہیں طاق
اس پر گلہ ، جہاں میں صداقت نہیں رہی
 

الف عین

لائبریرین
غزل کے ہی اشعار ہیں، اور کس صنف کے ہو سکتے ہیں؟
اشعا درست ہیں، البتہ زیادہ رواں بنائے جا سکتے ہیں۔
 

عاطف ملک

محفلین
استادِ محترم الف عین ان اشعار کے متعلق بھی رہنمائی فرمائیے گا۔

جب سے تری نگاہِ عنایت نہیں رہی
ہم کو تو زندگی سے بھی الفت نہیں رہی
اب بھی چمن فزونیِ گل سے ہے مالامال
وہ رنگ گو نہیں ہے، وہ نکہت نہیں رہی
دیوانگی میں اب کے عجب اک سکون ہے
پہلی سی بے خودی کی وہ حالت نہیں رہی
دیکھا جو ہم کو دور سے رستہ بدل لیا
شاید انہیں ہماری ضرورت نہیں رہی
عاطف تمہاری بات میں کچھ بات ہے ضرور
ان کو کسی سے اتنی عداوت نہیں رہی
 
آخری تدوین:

عاطف ملک

محفلین
جب سے حصولِ زر ہے مِرا مقصدِ حیات
اس دن سے میرے مال میں برکت نہیں رہی
خود چاہے اس کو رکھتے ہوں جوتے کی نوک پر
شکوہ یہ ہے انہیں کہ شرافت نہیں رہی
جھوٹ اور دغا، فریب ، ریاکاری میں ہیں طاق
اس پر گلہ ، جہاں میں صداقت نہیں رہی
ان اشعار کوبھی دیکھ لیجیے اور حکم فرما دیں کہ کیا یہ غزل ہو سکتی ہے؟
 

الف عین

لائبریرین
میں نے تو پہلے ہی پچھلے اشعار کو درست اشعار قرار دے دیا تھا۔ نئے اشعار بھی درست ہیں۔
بس ایک شعر میں ہی روانی ،کی خاطر اصلاح کرنے کی کوشش کروں گا۔
جھوٹ اور دغا، فریب ، ریاکاری میں ہیں طاق
اس پر گلہ ، جہاں میں صداقت نہیں رہی
یہ واضح نہیں کہ کون؟
یہ یوں بہتر ہو گا۔
جھوٹ اور دغا، فریب و ریامیں ہیں خود ہی طاق
اس پر گلہ ہے یہ کہ صداقت نہیں رہی

نئے اشعار میں
اب بھی چمن فزونیِ گل سے ہے مالامال
وہ رنگ گو نہیں ہے، وہ نکہت نہیں رہی
فزونیِ گل عجیب سا لگ رہا ہے، رنگ گو میں بھی عیب تنافر ہے۔ مفہوم بھی عجیب سا ہے۔ اس کو سدھارنے کی خود ہی کوشش کرو
 
آخری تدوین:

عاطف ملک

محفلین
نئے اشعار میں
اب بھی چمن فزونیِ گل سے ہے مالامال
وہ رنگ گو نہیں ہے، وہ نکہت نہیں رہی
فزونیِ گک عجیب سا لگ رہا ہے، رنگ گو میں بھی عیب تنافر ہے۔ مفہوم بھی عجیب سا ہے۔ اس کو سدھارنے کی خود ہی کوشش کرو
قبلہ!
دوسرے مصرعے کی ایک صورت یوں بھی تھی ذہن میں

پر رنگ وہ نہیں ہے،وہ نکہت نہیں رہی

اور خیال تو یہ ہے کہ زندگی کا ظاہری حسن برقرار ہے،مگر اصل روح سے خالی ہے
بیان درست ہے یا نہیں یہ تو آپ ہی بتا سکتے ہیں؟
 

الف عین

لائبریرین
محض نکہت کہو، بطاہر تو رنگ نظر آئیں گے ہی! پہلا مصرع بھی یوں ہو سکتا ہے
اب بھی ہیں گلستاں میں اگرچہ ہزاروں پھول
بس رنگ ہیں، وہ خوشبو و نکہت نہیں رہی
یہ ایک دم سے وارد ہوا شعر ہے، اسے ونجیدگی سے مت لو۔
 

عاطف ملک

محفلین
محض نکہت کہو، بطاہر تو رنگ نظر آئیں گے ہی! پہلا مصرع بھی یوں ہو سکتا ہے
اب بھی ہیں گلستاں میں اگرچہ ہزاروں پھول
سر میرا خیال تو یہ ہے کہ وہ "رنگ" بھی نہیں ہے یعنی پہلے سی وہ شوخی،وہ زندہ دلی نہیں ہے۔لیکن میں شاید نثر میں بھی درست انداز میں بیان نہیں کر پا رہا اس کو۔۔۔۔آپ کا تخیل اور بیان تو پھر "ما شا اللہ" :in-love:
 
آخری تدوین:

الف عین

لائبریرین
میں سمجھ رہا ہوں لیکن اپنے کو متفق نہیں پاتا۔ رنگ تو بہر حال وہی ہوں گے نا، ہاں دیکھنے والے کی نظروں میں فرق ہو سکتا ہے۔ بہر حال تمہارے خیال کے مطابق بھی اس کو بدل سکتے ہو۔ جیسے
وہ رنگ ہی رہے ہیں، وہ نکہت نہیں رہی
 

عاطف ملک

محفلین
میں سمجھ رہا ہوں لیکن اپنے کو متفق نہیں پاتا۔ رنگ تو بہر حال وہی ہوں گے نا، ہاں دیکھنے والے کی نظروں میں فرق ہو سکتا ہے۔ بہر حال تمہارے خیال کے مطابق بھی اس کو بدل سکتے ہو۔ جیسے
وہ رنگ ہی رہے ہیں، وہ نکہت نہیں رہی
قبلہ مجھے تو آپ کا تجویز کردہ شعر اتنا پسند آیا کہ بتا نہیں سکتا....
ٹاٹ کے لباس میں ریشم کا پیوند لگانے والا کام کیا ہے آپ نے۔
آپ کا تجویز کردہ شعر ہی رہے گا اس غزل میں
 

الف عین

لائبریرین
قبلہ مجھے تو آپ کا تجویز کردہ شعر اتنا پسند آیا کہ بتا نہیں سکتا....
ٹاٹ کے لباس میں ریشم کا پیوند لگانے والا کام کیا ہے آپ نے۔
آپ کا تجویز کردہ شعر ہی رہے گا اس غزل میں
جب کہ خود مجھے یہ مصرع پسند نہیں آیا تھا!!!
 

ارتضی عافی

محفلین
اسلام سر الف عین امید ہے آپ اچھے ہونگے سر مجھے اس شعر کے لکھنے کے بارے میں آگاہ کرنا سر یہ اشعار مفعول فاعلات مفاعیل فاعلات کے بحر پر لکھا ہے اور آخر میں فاعلن بھی ہے مجھے کچھ سمجھا دیں سر اس بارے میں کہ کیسے پہلے مصرع میں فاعلات ہے اور دوسرے میں فاعلن
 
اسلام سر الف عین امید ہے آپ اچھے ہونگے سر مجھے اس شعر کے لکھنے کے بارے میں آگاہ کرنا سر یہ اشعار مفعول فاعلات مفاعیل فاعلات کے بحر پر لکھا ہے اور آخر میں فاعلن بھی ہے مجھے کچھ سمجھا دیں سر اس بارے میں کہ کیسے پہلے مصرع میں فاعلات ہے اور دوسرے میں فاعلن
اصل بحر مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن(مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف) ہے اس بحر کے ساتھ بحر مفعول فاعلات مفاعیل فاعلات(مضارع مثمن اخرب مکفوف مقصور) کا خلط جائز ہے۔ کسی بھی بحر کے آخری رکن میں ایک ساکن حرف کا اضافہ کرنا جائز ہے۔
مثال کے طور پر حافظ کے مندرجہ ذیل اشعار دیکھیں
؎
ما در پیالہ عکسِ رخِ یار دیدہ ایم ( مفعول فاعلات مفاعیل فاعلات)
اے بے خبر ز لذتِ شربِ مدامِ ما (مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن)
؎
ز عشقِ ناتمامِ ما جمالِ یار مستغنی ست ( مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلان)
بہ آب و رنگ و خال و خط چہ حاجت روی زیبا را ( مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن)
 
یہ الگ بات ہے کہ ساکن حرف کا اضافہ سالم بحور میں روانی کو سخت متاثر کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میں فعول فعلن کو مفاعلاتن تقطیع کرنے اور سالم بحور میں ساکن حرف کے اضافے پر پاندی لگانے کے حق میں ہوں۔
 

ارتضی عافی

محفلین
اصل بحر مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن(مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف) ہے اس بحر کے ساتھ بحر مفعول فاعلات مفاعیل فاعلات(مضارع مثمن اخرب مکفوف مقصور) کا خلط جائز ہے۔ کسی بھی بحر کے آخری رکن میں ایک ساکن حرف کا اضافہ کرنا جائز ہے۔
مثال کے طور پر حافظ کے مندرجہ ذیل اشعار دیکھیں
؎
ما در پیالہ عکسِ رخِ یار دیدہ ایم ( مفعول فاعلات مفاعیل فاعلات)
اے بے خبر ز لذتِ شربِ مدامِ ما (مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن)
؎
ز عشقِ ناتمامِ ما جمالِ یار مستغنی ست ( مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلان)
بہ آب و رنگ و خال و خط چہ حاجت روی زیبا را ( مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن)
مہربانی سر تشکر
 
Top