انٹرویو انٹرویو وِد شاکرالقادری

سیدہ شگفتہ

لائبریرین
امن میں سیدہ صاحبہ کے تبحر علمی سے پہلے ہی بہت زیادہ مرعوب ہوں وہ اردو محفل کی ہفت زبان ہیں کم از کم تم مجھے مزید خوفزدہ تو نہ کرو ۔۔۔۔:(
اور ہاں یاد رکھو میرے منہ میں بھی کم از کم دو زبانیں تو ہیں اگر میں نے اور سیدہ صاحبہ نے فارسی میں بات شروع کردی تو تم محفل میں تیل بیچتی نظر آئوگی:grin:
اب یہ بھی بتا دو کہ یہ تیل کس بھائو بیچو گی:grin:
(یہ مذاق ہے کہیں پھر غصے میں نہ آجانا)

نہیں نہیں شاکر صاحب ایسے نہیں کہیں پلیز۔ درحقیقت میں کچھ بھی نہیں۔ بلکہ آپ کا علم جان کر اور علمی حوالے سے آپ کا جذبہ دیکھ کر دلی خوشی ہوتی ہے ہمیشہ !!
 

سیدہ شگفتہ

لائبریرین
شکفتے میری بہت اچھی سہیلی ہیں۔۔میں خود ہی ان کو لمبی لمبی میلز لکھ کر ساری فارسی والی باتیں اردو میں کروا لیا کروں گی یعنی اردوا لیا کروں گی۔۔۔آپ کو پتہ بھی نہیں چلے گا۔ :grin:
تیل تو خیر میں بیچ ہی لوں لیکن ڈرتی ہوں کہ ایسا نہ ہو صدر بش کی نظروں میں آجاؤں۔

ٹھیک ہے امن ۔۔۔ بس پتہ نہیں چلنا چاہیے۔۔۔ رازداری شرط ہے :)
 

امن ایمان

محفلین
:)

بش کی نظر میں ضرور آنا ہے امن ۔۔۔ کوئی تو کام کا بندہ بش کو بھی نظر آئے !

biggrin.gif

شکفتے کیوں بش بچارے کی زندگی عذاب کرنا چاہتی ہیں۔


امن ایک دو سوال نمونے کے لکھ کے ذپ کر دیں۔۔۔ باقی میں نقل کر لوں گی
ویسے ۔۔۔ امن۔۔۔ یہ خلاصے ، گائیڈ بکس لکھے گا کون۔۔۔

zzzbbbbnnnn.gif
شکفتے یہاں فارسی نقل پلان، وہاں اس سے آگے نقل کرنے کا پلان ۔۔آپ کا سوال غور طلب ہے۔ ایسا کرتے ہیں ابھی مشکل سوال رہنے ہی دیتے ہیں۔ یہ نا ہو سوالات کی اصل کتاب کے ساتھ گائیڈ بکس بھی ہمیں ہی بنانی پڑجائیں۔ :grin:
 

شاکرالقادری

لائبریرین
دوسرے اور تیسرے سوال کے جواب میں

اردو محفل کے بارے کیسے معلوم ہوا؟؟؟
محفل پر پہلا دن کیسا گزرا؟؟؟
میں اپنی قومی زبان کے معاملے میں کبھی بھی احساس کمتری کا شکار نہیں رہا۔ مجھےاردو سے لگاؤ اس حد تک ہے کہ میں نے میٹرک کے بعد سی کام اور ڈی کام میں اردو مختصر نویسی اور اردو ٹائپ کاری کو بطور مضمون پڑھا اور اپنی پچیس سالہ سرکاری ملازمت کے دوران کسی بھی سرکاری کاغز پر چاہے وہ اردو میں ہو یا انگریزی میں، کوئی بھی رپورٹ انگریزی زبان میں نہیں لکھی اردو میں ہی لکھتا رہا ہوں ، گو کہ میرے دفتر کے ساتھی میری درخواست رخصت کو اردو میں دیکھ کر اسے "عرضی" کا نام دے کر مجھ پر فقرے کستے لیکن میں اپنی روش کو نہ بدل سکا۔ مرحوم ضیاء الحق کے دور میں ضلعی سطح پر مجلس زبان دفتری کے نام سے ایک باقاعدہ ادارہ قائم کیا گیا تھا جس کا ماہانہ اجلاس ہوتا اور تمام سربراہان محکمہ جات اس میں شریک ہوتے اور اجلاس کے بعد ہرماہ باقاعدہ تمام محکموں کو ایک چٹھی جاری کی جاتی کہ دفاتر میں اردو کو فروغ دیں لیکن "فروغ اردو" کے عنوان تلے لکھی گئی اس چٹھی پر چیرمین مجلس زبان دفتری اپنے دستخط بحروف انگریزی ثبت فرمایا کرتے اور میں ہمیشہ اس چٹھی کو اس تحریری اعتراض کے ساتھ واپس کر دیا کرتا کہ چیرمیں کو چاہیے کہ وہ اس مراسلہ پر اپنے دستخط اردو زبان میں کیا کریں جب تک وہ ایسا نہیں کریں گے میں انکا مراسلہ وصول نہیں کرونگا لیکن نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات انہوں نے کبھی فروغ اردو کے لیے اپنے دستخط کو اردو میں ثبت نہیں کیا

اس سے آپ سرکاری اداروں میں اردو کے ساتھ کیے جانے والے سلوک کا اندازہ کر سکتے ہیں

آمدم بر سر مطلب!
میں نے کمپیوٹر کا استعمال اس وقت شروع کیا جب 286 اور386 کمپیوٹر رائج تھے میری ترجیح اس وقت بھی اردو ہی تھی چنانچہ "شاہکار" نامی سافٹ ویئر اسوقت میں نے اپنے دفتری استعمال کے لیے مبلغ 30،000 روپے کے عوض خریدا اس سے پہلے میں آپٹیما نامی اردو ٹائپ رائٹر استعمال کرتا رہا تھا

انٹر نیٹ کے استعمال کے دوران میں ہمیشہ میری ترجیح اردو رہی ہے گوگل پر تلاش کے دوران لفظ "Urdu" میں ہمیشہ شامل رکھتا تلاش کرنے پر مجھے ابتدا میں جو ویب سائٹس ملی وہ تمام کی تمام تصویری اردو پر مشتمل تھیں یا اردو کے نام پر رومن اردو میں لکھے جانے والےفومز جو اردو کے ساتھ ایک بھونڈے مذاق سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتے

میری ہمیشہ یہ خواہش رہی کہ جس طرح انگریزی سائٹس سے مواد کاپی پیسٹ کیا جا سکتا ہے اسی طرح اردو مواد بھی نقل کیا جا سکے۔

اور بالآخر میری یہ خواہش ایک دن پوری ہو گئی اور گوگل پر ایک تلاش کے نتیجہ میں "اردو ویب" کی سائٹ میرے سامنے آگئی وکی، سیارہ، محفل وغیرہ کے روبط سامنے تھے ان روابط پر کلک کرنے کے بعد اردو محفل میں جب میں مختلف فورمز میں گھوم رہا تھا تو میری کیفییت ایک ایسے عاشق کی سی تھی جو صدیوں کا سفر طے کرنے کے بعد کوچہ جاناں میں آپہنچا ہو اور محبوب کی گلی کے درو دیوار کو دیوانہ وار بولائی ہوئی نظروں سے دیکھ دیکھ کر دل نگاہ کو تسکین پہنچا رہا ہو۔

یہ سب کچھ بہت حیران کن اور نا قابل یقین تھا۔ یہیں مجھے وہ دیوانے نظر آئے جو انٹر نیٹ پر فروغ اردو کے لیے بے لوث جدو جہد میں مصروف ہیں بلا شک و شبہ یہ انہی لوگوں کی محنت اور جدو جہد کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ آج اردو انٹر نیٹ کی دنیا میں تصویری اردو کی بجائے تحریری اردو حیرت انگیز طور پر فروغ پا رہی ہے

میں سلام پیش کرتا ہوں ان لوگوں کی دیوانگی اور جنون کو کہ جس کی بدولت آج انٹر نیٹ کی دنیا میں اردو زبان تمام تر بے توجہی کے باوجود لوگوں کی توجہ کا مرکز بنتی چلی جا رہی ہے

یہاں آکر مجھے معلوم ہوا کہ کام کرنا کسے کہتے ہیں اور خدمت کیا ہے اور جذبہ خدمت کس بلا کا نام ہے یہاں میں نے وہ فرہاد دیکھے جو شیرینِ اردو کی خوشنودی کے لیے اپنے معمولی وسائل کے تیشوں سے مسائل کے پہاڑ کھودنے اور کاٹنے میں مصروف ہیں ۔ یقین جانیئے اردو محفل میں مختلف علمی اور معلوماتی دھاگے ، سلسلے اور لڑیاں مجھے "جوئے شیر" سے کم نہیں محسوس ہوتیں

انٹر نیٹ پر اردو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کے سلسلہ میں درپیش مسائل کا اندازہ کس کو نہیں لیکن بقول کسے:
تیش۔۔۔۔ے کی زد پ۔۔۔ہ آئ۔۔۔ے تو پ۔۔۔تھ۔۔۔ر سنور گئے
 
شاکر صاحب کمال لکھا ہے آپ نے اور پڑھ کر بہت خوشی ہوئی ۔ آپ جیسے محبان اردو شاذ و نادر ہیں دنیا میں۔ آپ کی یہ پوسٹ اردو محفل کے تعارف کے حوالے سے ایک بہترین پوسٹ ہے ۔ آپ سے میری گزارش ہے کہ اردو محفل کا ایک جامع تعارف ضرور لکھیے کہ اس کی بہت ضرورت ہے اور اپنے ادبی انداز میں تاکہ پڑھنے والے پر ادبی تاثر بھی چھوڑا جا سکے اور وہ مدتوں محظوظ رہے۔
 
امن آپ کا بہت بہت شکریہ کہ آپ نے محترم شاکر القادری صاحب کا انٹرویو شروع کیا
میں سلام پیش کرتا ہوں ان لوگوں کی دیوانگی اور جنون کو کہ جس کی بدولت آج انٹر نیٹ کی دنیا میں اردو زبان تمام تر بے توجہی کے باوجود لوگوں کی توجہ کا مرکز بنتی چلی جا رہی ہے
شاکر القادری صاحب میں تو ہمیشہ ہی آپ کی تحریر سے متاثر ہوا ہوں مگر اس فقرے پر نظر گی تو بار بار پڑ ھا اور ہر بار اس سلام سے اک نیا مزا آیا اور میری طرف سے ان ہستیوں کو سلام ہے کہ جہنوں نے اردو کے لئے کام کیا ۔
 

امن ایمان

محفلین
شکریہ عبید۔ : )

محترم جناب شاکرالقادری صاحب آپ کا انٹرویو ایک سوال پر ہرگز مشتمل نہیں تھا جس کا جواب لکھنے کے بعد آپ آرام فرما رہے ہیں۔ :mad: جلدی سے باقی جوابات بھی لکھیں نا۔۔۔۔میں نے اور سوال بھی تو پوچھنے ہیں۔
 

شاکرالقادری

لائبریرین


سب سے پہلے تو تاخیر کے لیے معذرت لیکن:
ہوئی تاخیر تو کچھ باعث تاخیر بھی تھا
بات در اصل یہ ہے کہ آجکل ایک قدیم قلمی نسخہ پر کام کر رہا ہوں جسے رمضاں شریف کے دوران ہی شائع کرنے کا پروگرام ہے اس لیے یہاں زیادہ وقت نہ دے سکا
لیکن مجھے شدت سے احساس تھا کہ یہاں حاضری لگانا ضروری ہے سو سوالات کی پہلی قسط کے جوابات مکمل کرنے کے لیے حاضر ہو گیا ہوں

آپ کے بہت سارے خطوط فونٹس پراجیکٹس اور ٹائپو گرافی اور خطاطی سیکشن میں ہیں۔۔میرا سوال یہ ہے کہ نیا فونٹ بنانا یقننا ایک ٹیکنیکل کام ہوگا جبکہ خطاطی آرٹسٹک برانچ کا ایک حصہ ہے، ان دونوں شبعوں کا فونٹس developmentکے ساتھ تعلق ہے تو آپ کی مہارت کس شبعہ میں زیادہ ہے؟


اس میں كوئی شك نهیں كه میرے بہت سے خطوط فونٹ سازی اور ٹائپو گرافی کے شعبوں میں ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ میری دلچسپی دیگر موضوعات میں نہیں میرے بہت سارے خطوط دوسرے موضوعات میں بھی ہیں

جہاں تک تعلق ہے آپ کے سوال کا تو بندہ حقیر فقیر پر تقصیر ہیچمدان یوں عرض پیرا ہوتا ہے بیچ اس معاملہ پیچ درپیچ:):) میں کہ:

اللہ خود بھی جمیل ہے اور جمال کو پسند بھی کرتا ہے اور اس خلاق عالم نے اپنے بندوں کو بھی عقل سلیم، ذوق جمیل اور طبع لطیف ودیعت فرمائی ہے یہی وجہ ہے کہ ہر انسان جمال پسند ہوتا ہے یہ الگ بات کہ کسی میں یہ حسن پسندی معمولی درجہ کی پائی جاتی ہے اور کسی کو قدرت نے وافر مقدار میں اس نعمت عظیم سے نوازا ہے میں اپنے رب کا جتنا بھی شکر ادا کروں کہ اس نے مجھے جمال پسندی کی اس صفت سے محروم نہیں رکھا
یہ جمالیاتی ذوق ہی ہے جو فنون لطیفہ کی جانب انسان کی رہمنائی کرتا ہے جس کے نتیجہ میں کبھی شعر و نغمہ وجود میں آتا ہے تو کبھی مصوری اور خطاطی کے حسین فن پارے تخلیق پاتے ہیں اگر وسائل اور مواقع میسر ہوں اور اس جمالیاتی ذوق کی ریاضت و مجاہدہ کے ذریعہ مناسب انداز میں تربیت کی جائے تو یہ معجزے دکھا سکتا ہے
معجزہ فن کی ہے خون جگر سے نمود
یا
سو بار جب عقیق کٹا تب نگیں ہوا

کنگھی کے سینہ کو سو بار آری سے چیرا جاتا ہے تب کہیں وہ محبوب کی زلف پریشان کے سنوارے جانے کے کام آتی ہے
بات لمبی ہوجائے گی اس لیے مقصد کی طرف آتا ہوں کہ اللہ کریم نے مجھے ذوق جمال سے محروم نہیں رکھا لیکن افسوس کہ میں اس متاع بے بہا کو درست انداز میں استعمال نہ کر پایا

شعر کہتا ہوں مگر کوئی ایسا شعر پارہ تخلیق نہ کر سکا جو آنکھ کو نم کر دے، ذھن کو سکون بخشے اور دلوں کو گداز کی دولت سے مالا مال کر دے،

مجھے فن موسیقی سے بہت گہرا لگاؤ ہے مگر خوش آوازی کی دولت سے محروم ہوں اور یہ محرومی مجھے مایوسی کا شکار بناتی ہے جس کی وجہ سے علم موسیقی میں بھی ماسوائے گہرے نظری مطالعہ کے کوئی عملی کام نہیں کر سکا

خطاطی سے بھی مجھے تعلق ہے لیکن غم ہائے روزگار ریاضت اور مشق کا موقع ہی فراہم نہیں ہونے دیتے جبکہ خطاطی اس بات کی متقاضی ہے کہ:

گر تو می خواہی کہ باشی خوش نویس
می نویس و می نویس و می نویس

(اگر تیری خواھش ہےکہ تو خوش نویس بن جائے تو لکھنا شروع کر اور لکھتا رہ لکھتا رہ)حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کا قول مبارک ہے:
ادبو اولادکم بحسن الخط ، انہ من مفاتیح الرزق
(اپنی اولادوں کو خوش نویسی کی تعلیم دو اس میں رزق کی کنجیاں ہیں)
خطاطی اسلام کے دامن میں پلنے بڑھنے والی اس سنہری تہذیب و ثقافت کا ایک عظیم عنصر ہے جس پر ہم بجا طور پر فخر کر سکتے ہیں ۔ لیکن افسوس کہ اب اسلامی ثقافت کا یہ عظیم باب بند ہو رہا ہے ۔ برصغیر پاک و ہند کی حد تک تو یہ باب تقریبا بند ہو چکا ہے ۔ استاد عبدالمجید پروین رقم ، خورشید رقم ، سید انور حسین نفیس رقم وغیرہ کے بعد استادان فن کا سلسلہ موقوف ہوتا چلا جارہا ہے اور اس میدان میں سب سے بڑا زوال کمپیوٹر میں کتابت کے رائج ہونے پر آیا ۔
جب سے کمپیوٹر میں نوری نستعلیق نے رواج پایا خطاطی اور خطاطی سے متعلق لوگوں کا مستقبل مخدوش ہو گیا ۔ جس کے نتیجہ میں کاتب اور خطاط صاحبان نے فن خطاطی کو خیر باد کہہ کر اپنے لیے دوسرے ذریعہ ہائے معاش تلاش کرنے لگے ۔ جس سے فن خطاطی کو نا قابل تلافی نقصان پہنچا ۔
ع ۔۔۔۔۔ ہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومت
کمپیوٹر میں نوری نستعلیق کے رائج ہونے سے ایک اور نقصان یہ ہوا کہ لوگ اخبارات ، رسائل اور کتب کی اشاعت میں نوری نستعلیق کو استعمال کرنے لگے جس سے جمالیاتی ذوق کو شدید دھچکا لگا کیونکہ نوری نستعلیق خطاطی کے اصولوں اور فن خطاطی کی نزاکتوں سے یکسر محروم ہے ۔ ذوق جمال رکھنے والا کوئی بھی شخص آج تک نوری نستعلیق کو ذہنی طور پر قبول نہیں کر سکا البتہ وہ اس کو استعمال کرنے کے لیے مجبور ہے ۔
میرا مقصد ہرگز یہ نہیں کہ میں لکیر کا فقیر ہوں یا جدید سائنسی ترقی کا مخالف
نوری نستعلیق یقینا کمپیوٹر پر اردو نویسی میں ایک انقلابی قدم تھا ۔ اور اس کے بنانے والوں نے جو محنت کی وہ یقینا اس قابل ہے کہ اسے سنہری حروف سے لکھا جائے اور اس کا تذکرہ ممنونیت اور تشکر کے احساسات کے ساتھ کیا جائے کہ انہوں نے اردو نستعلیق کتابت کو ہر خاص و عام کے لیے عام کر دیا ۔
لیکن کیا کیا جائے اس دل کا،کیا کیا جائے اس ذوق سلیم کا ،کیا کیاجائے انسانی فطرت میں ودیعت شدہ جمال پسندی کا، کہ ان کو نستعلیق اور دیگر کلاسیکی خطوط میں وہ حسن و جمال اور نزاکت مطلوب ہے جو استادان فن کے ہاں ہی نظر آتی ہے ۔
استادان فن نےنستعلیق کے دائرے ،قوسیں اور کششیں اس انداز سے سنواریں ہیں گویا کوئی محبوب دل نواز اپنی تمام تر دل ربا اداوں کے ساتھ جلوہ افروز ہو ۔ جس کی ایک ایک انگڑائی ایمان شکن اور ایک ایک ادا ہوش ربا ہو ۔
فونٹ سازی گو کہ ایک انتہائی پیچیدہ اور خالصتا تیکنیکی مہارت ہے لیکن نستعلیق کے حوالہ سے کسی بھی طور اسے فنون لطیفہ سے جدا نہیں کیا جا سکتا ۔
گو کہ میں مزاجا تکنیکی مہارت کا آدمی نہیں ہوں لیکن نستعلیق سے محبت کی وجہ سے میرے دل میں ہمیشہ یہ خواہش پرورش پاتی رہی ہے کہ کاش کسی طرح کمپیوٹر پر نستعلیق کی کتابت میں وہ فنی نزاکتیں اور خوبیاں پیدا ہو جائیں جو اساتذہ فن کے ہاں موجود ہیں ۔ اور اسلامی ثقافت کا ایک اہم ترین رکن ہمیشہ کے لیے زندہ و پائندہ ہو جائے ۔ اسی خواہش نے مجھے اردو فونٹس کی تلاش میں سرگرداں رکھا اور اسی سرگردانی میں میں نے لیلائے اردو محفل کے ناقہ تک رسائی حاصل کی ۔ یہاں پر غالبا میری پہلی پوسٹ ٹائپو گرافی اور خطاطی کے شعبہ میں ہی ہوئی ۔ میں نے یہاں پر ٹائپو گرافی سے متعلق لوگوں کی مفید اور علمی پوسٹیں پڑھیں اور اپنی ناتمام خواہشات کا بے تکلف اظہار کر ڈالا ۔ جس کے جواب میں نبیل کی جانب سے ایک تفصیلی پوسٹ کی گئی جس میں انہوں نے ٹائپو گرافی کے متعلق میرے مبلغ علم کا ذکر کرتے ہوئے اس میں درپیش مسائل کا تفصیل سے تذکرہ کیا اور مجھے بتایا کہ خطاطی مختلف چیز ہے جب کہ ٹائپو گرافی ایک مشکل اور پیچیدہ تکنیکی کام ہے جس میں شاید خطاطی کی نزاکتوں کو سمونا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے ۔ میں اس جواب سے قدرے مایوس بھی ہوا اور میں نے محفل پر اپنی آمدو رفت محدود کر دی ۔ لیکن ایک دن اچانک مجھے نبیل کا ای میل موصول ہوا ۔ جس میں نستعلیق پراجیکٹ کا ذکر تھا اور بطور خطاط میری خدمات کی ضرورت کا تذکرہ ۔۔
میں خطاط تو ہرگز نہیں ہاں قلم گھسیٹ کر معمولی سی خوش خطی ضرور کر لیتا ہوں ۔ خوشی سے پھولے نہ سمایا اور محفل پر آکر اپنی خدمات پیش کر دیں ۔ ایک سال کا طویل عرصہ ہو چکا ہے ۔ نستعلیق پراجیکٹ ہنوز تشنہ تکمیل ہے ۔

آپ نے ٹائپو گرافی اور فونٹ سازی میں میری مہارت کے بارے میں مجھ سے پوچھا ہے تو عرض ہے کہ اگر مجھے ٹائپو گرافی اور فونٹ سازی میں مہارت ہوتی تو آج نستعلیق پراجیکٹ یوں نا تمام نہ پڑا رہتا ۔
فونٹ سازی میں میری مہارت اسی قدر ہے کہ پہلے سے موجود فونٹس وہ بھی صرف نسخ کی حد تک ، کہ گلفس کے اوپر نئے حروف پیسٹ کر کے ایک نیا فونٹ تشکیل دے دوں ۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں اور یہ کوئی کام نہیں ہے ۔

فونٹس میکنگ کے بارے میں کچھ آسان لفظوں میں بتائیں کہ اس میں کیا کیا تیکنیکس استمعال ہوتی ہیں؟

میں پہلے بتا چکا ہوں کہ فونٹ سازی میں میری مہارت کسی مبتدی سے زیادہ نہیں ۔ البتہ محفل پر نستعلیق پراجیکٹ میں کام کے دوران یہ جان سکا ہوں کہ سب سے پہلے حروف کی کتابت کی جاتی ہے ان کو سکین کیا جاتا ہے اور پھر کورل ڈرا میں ان کے ٹکڑے کاٹے جاتے ہیں اور وضع ہونے والی اشکال کو بطور ٹی ٹی ایف (ٹریو ٹائپ فونٹ ) ایکسپورٹ کر لیا جاتا ہے ۔ اب ان اشکال کو کسی بھی فونٹ ایڈیٹر کے ذریعہ ٹیمپلیٹ استعمال کرتے ہوئے فونٹ کی شکل دے دی جاتی ہے ۔ اور یہ تو آپ کو معلوم ہے کہ ٹیمپلیٹ گویا کہ پکا پکایا حلوہ ہوتا ہے ۔
نسخ فونٹس میں حروف کی ابتدائی ، درمیانی اور اخری اشکال محدود ہوتی ہیں اور یہ اشکال آپس میں ایک ہی بیس لائن پر جڑتی ہیں ۔ اس لیے نسخ فونٹ سازی بالکل سادہ اور آسان ہے جب کہ نستعلیق میں معاملہ بالکل برعکس ہے اس میں حروف کی اشکال بہت زیادہ ہیں اور ان کے جوڑ ایک بیس لائن پر نہیں بلکہ مختلف لائنوں پر ہوتے ہیں ۔ اور نقاط کی جاگزینی بھی ہر شکل میں مختلف ہو جاتی ہے ۔ جس کو کنٹرول کرنے کے لیے ایم ایس وولٹ میں اصول ضوابط اور نہ جانے کیا کیا کچھ کرنا پڑتا ہے ۔ یہ وہ کیمیا ہے جو محسن حجازی ہی جانتے ہیں ۔

کیا آپ نے خود کوئی نئے فونٹس معتارف کروائے؟

گزشتہ سطور میں بیان کی گئی ترکیب کے مطابق میں نے چند نسخ فونٹ متعارف کروائے ہیں ۔ لیکن اس کو کوئی بڑا کارنامہ نہیں کیا جاسکتا ان فونٹس میں القلم فونٹ ، القلم تحریری فونٹ ، القلم ریحان فونٹ ، القلم فیضان فونٹ، القلم فہد فونٹ اور القلم شکستہ فونٹ وغیرہ شامل ہیں ۔

آپ کی اس طرح کے پراجیکٹس میں دلچسپی کی وجہ کیا ہے؟

اس کی وجہ میرا تعصب ہے جو میں اپنے قومی تشخص اور اپنی عظیم تہذیب اور ثقافت کے لیے رکھتا ہوں ۔ میں نے پہلے سوال کے جواب میں یہ بات کہی ہے کہ میں اپنی قومی زبان کے بارے میں کبھی بھی احساس کمتری کا شکار نہیں رہا اسی طرح میں اپنے لباس ، اپنی تہذیب و تمدن اور رہن سہن کے بارے میں بھی کسی احساس کمتری کا شکار نہیں ہوں ۔ اور میرا یہی تعصب مجھے بجا طور پر یہ خواہش رکھنے پر مجبور کرتا ہے کہ میں اپنے ثقافتی ورثہ کی حفاظت کے لیے کچھ کروں لیکن
ع ۔۔۔۔۔۔۔۔ ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے

اردو کے ساتھ ساتھ فارسی رسم الخط میں دلچسپی کی وجہ؟

اردو زبان نے فارسی کی آغوش میں پرورش پائی ہے ۔ اسی طرح اسلامی ثقافت اور فنون لطیفہ کو جو فروغ اہل فارس نے دیا ہے وہ کسی تعارف کا محتاج نہیں ۔ نستعلیق کا موجد یا فن نستعلیق کا امام میر علی تبریزی ایران سے ہی تعلق رکھتا تھا ۔ اور نستعلیق کے بنیادی اصول اور قواعد و ضوابط اسی نے مرتب کیے ۔ ایرانیوں نے فن خطاطی میں قابل قدر خدمات انجام دی ہیں ۔ اس لیے فارسی نستعلیق میں دلچسپی فطری سی بات ہے ۔ اور اردو نستعلیق فارسی نستعلیق ہی کی جدید شکل ہے ۔ برصغیر میں نستعلیق کے رائج اسلوب دو ہیں ۔ دہلوی اور لاہوری ، لاہوری اسلوب کتابت سب سے زیادہ مقبول ہے

فارسی پر اتنا عبور کیسے حاصل کیا؟ کیا آپ نے اسے باقاعدہ مضمون کی صورت میں پڑھا؟
سکول سے لے کر کالج تک کسی بھی سطح پر میں نے فارسی کو باقاعدہ مضمون کی حیثیت سے نہیں پڑھا اور نہ ہی کسی مدرسہ میں گلستان،بوستان اور پند نامہ عطار جیسی کتب پڑھیں ۔۔ یہاں بھی میری فطری جمال پسندی ہی کام آئی جس نے مجھے فارسی کی شیرینی اور دل نواز لہجہ کا اسیر بنایا ۔ میں نے فارسی پڑھنا ، بولنا اور لکھنا شروع کیا تو مجھے یوں لگا جیسے یہ تو میری اپنی زبان ہے اور میرے لیے اس میں کوئی مشکلات آڑے نہ آئیں ۔

اردو محفل کے علاوہ اور بھی فورمز کی رکنیت رکھتے ہیں یانہیں؟

اردو محفل سے پہلے میں بہت سے فورمز پر گیا جہاں اردو کو انگریزی میں لکھ لکھ کر اردو کا مذاق اڑایا جاتا ہے ۔ میں نے وہاں رکنیت بھی اختیار کی اور کچھ پیغامات بھی لکھے جن میں زیادہ تر یہی پیغام ہوتا کہ اردو کو اردو میں ہی لکھا جائے رومن اردو لکھ کر قوم کے نوجوانوں کو اپنی زبان اور اپنے قومی تشخص سے محروم نہ کیا جائے ۔ جب اردو محفل پر آنا ہوا تو یہاں کے موضوعات اور یہاں کے اراکین کی اردو سے محبت نےدامن دل کو پکڑ لیا اور پھر میں یہیں کا ہو کر رہ گیا ۔ یہیں سے اردو فورم انسٹال کرنا سیکھا ۔ اور القلم فورم بنا ڈالا ۔ اور اب تو اﷲ کے فضل سے اور اردو محفل کے بے لوث اراکین کی کوششوں سے اردو فورموں کی ایک کثیر تعداد وجود میں آچکی ہے ۔ ان میں سے کچھ پر میں نے رکنیت اختیار کی ہوئی ہے لیکن میں اپنے آپ کو فروغ اردو کے لیے تشکیل دیے جانے والے ہر فورم کا رکن تصور کرتا ہوں اگرچہ میں اپنی عدیم الفرصتی یا وسائل کی محدودیت کی بناء پر فعال نہیں ہوں ۔
 

شاکرالقادری

لائبریرین
شکریہ عبید۔ : )

محترم جناب شاکرالقادری صاحب آپ کا انٹرویو ایک سوال پر ہرگز مشتمل نہیں تھا جس کا جواب لکھنے کے بعد آپ آرام فرما رہے ہیں۔ :mad: جلدی سے باقی جوابات بھی لکھیں نا۔۔۔۔میں نے اور سوال بھی تو پوچھنے ہیں۔

میں نے سوالات کی پہلی قسط کے جوابات مکمل کر دیے ہیں

اب خوش؟؟؟
:):)
 

شاکرالقادری

لائبریرین

شاکرالقادری

لائبریرین
شکر ھے
ورنہ پتہ نہیں اپ لوگ مجھے دیوانہ سمجھتے۔!!!:rolleyes:
ویسے کچھ لوگ اب بھی سمجھ رھے ھیں۔:eek:
باقی اللہ کو معلوم۔:cool:

قادری صاحب سے میرا سوال ھے کہ اھل طریقت پر زیادہ تحقیقی کام فارسی میں ھوا ھے ۔ یا کوئی اور زبان مین بھی؟ عربی اردو انگریزی؟

دلکش صاحب/صاحبہ:)

ابھی میں آپ کے سوال کا جواب نہیں دے رہا
اقتباس لینے کا مقصد صرف یہ ہے کہ آپ کے سوال کو پیش نظر(یعنی نظروں کے سامنے) رکھ سکوں تاکہ مجھے احساس ہوتا رہے کہ اس کا جواب دینا ہے:)
 

ابوشامل

محفلین
شاکر صاحب آپ کے انداز تکلم نے تو دل موہ لیا ہے، اتنے خوبصورت الفاظ کا چناؤ واقعتاً آپ میں جمالیاتی عنصر کی بدرجۂ اتم موجودگی کو ظاہر کرتا ہے۔ شاکر القادری بھائی سے میرا روحانی تعلق (روحانی اس لیے کہ آج تک ملاقات یا فون پر گفتگو نہیں ہو سکی) اتنا ہی پرانا ہے جتنا محفل سے یعنی مارچ 2007ء سے اب تک۔ انہوں نے کئی مواقع پر میری رہنمائی کی اور برقی خطاطی (کمپیوٹر پر کیلیگرافی) میں وہ میرے استاد ہیں کیونکہ انہوں نے ہی مجھے کیلک، چلیپا، نامہ نگار اور خطاطی کے دیگر خوبصورت سافٹ ویئرز سے متعارف کروایا جس پر میں ان کا زندگی بھر ممنون رہوں گا۔ اور بات صرف متعارف کرانے کی حد تک نہیں تھی بلکہ حتی الاستطاعت رہنمائی بھی فرمائی۔ مجھے یاد ہے جب انہوں نے میر عماد لانچ کیا جس کا حجم 42 میگا بائٹس تھا تو میں نے ان سے رابطہ کر کے عذر پیش کیا کہ 42 ایم بی کا ڈیٹا ڈاؤن لوڈ کرنا میرے بس کی بات نہیں تو شاکر بھائی نہ صرف یہ کہ اس سافٹ ویئر کی سی ڈی بھیجنے پر رضامند ہو گئے بلکہ انہوں نے میر عماد کے علاوہ دیگر انتہائی کارآمد سافٹ ویئر بھی فراہم کیے۔ میں نے یہ تمام تذکرہ صرف اس لیے کیا کہ اس نے آپ شاکر القادری صاحب کے دوستانہ، شریفانہ اور ہمدردانہ مزاج کا اندازہ لگا لیں۔
 

ابوشامل

محفلین
ارے ہاں! ایک بات تو لکھنا ہی بھول گيا، جب میں نے اردو محفل پر وکیپیڈیا اردو کا تذکرہ کیا تو شاکر القادری صاحب وہ واحد شخصیت تھے جنہوں نے باقاعدہ وکیپیڈيا کو جوائن کیا اور کئی ہفتے ہمارا ساتھ دیتے رہے اور قیمتی مضامین کا اضافہ کیا جس پر میں ان کا بے حد مشکور ہوں۔
 
Top