انصار عباسی کا ”آئی ایم ملالہ“ پر تبصرہ

محترم یہ ایک "سوال" تھا جسے آپ نے "رائے" سمجھ لیا۔

میری درج کردہ عبارت میں دوسرا لفظ "کیا" اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ یہ ایک سوال ہے۔
آپکی بات درست ہے۔۔اس کیا پر مری نظر نہیں پڑی۔۔۔اب بعد میں غور سے دیکھا تو پتہ چلا۔۔لیکن اب مراسلہ مدون نہیں ہو رہا۔۔
 

محمداحمد

لائبریرین
آپکی بات درست ہے۔۔اس کیا پر مری نظر نہیں پڑی۔۔۔ اب بعد میں غور سے دیکھا تو پتہ چلا۔۔لیکن اب مراسلہ مدون نہیں ہو رہا۔۔

تدوین کے حقوق تو اس فورم میں میرے پاس بھی نہیں ہیں۔ آپ کی وضاحت موجود ہے سو کوئی بات نہیں۔ کبھی کبھی ایسا ہوجاتا ہے۔
 
محمود احمد غزنوی بھائی

ویسے کیا ملالہ کی کتاب میں متنازعہ موضوعات کی بہتات سے اس کا تعلیم کے فروغ کا مقصد (cause) متاثر نہیں ہوگا؟
میں اس موضوع پر پہلے بھی کہیں اپنی رائے دے چکا ہوں اور وہ یہ ہے کہ بلاشبہ اس کتاب کے بعض مندرجات افسوسناک ہیں اور ان سے یہ پتہ چلتا ہے کہ کتاب میں ملالہ کی ترجمانی کم اور کرسٹیان لیمب کی زیادہ ہ ہے اور شائد ملالہ کے والد صاحب کا بھی اس میں ایک کردار ہے۔۔مسئلہ یہ ہے کہ اس ملالہ کے ایشو کے حوالے سے دو سے زیادہ نکتہ ہائے نظر ہیں لیکن سوشل، پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا میں شیادہ تر دو نظریات کے حامل افراد ہی باہم دست و گریباں نظر آتے ہیں۔۔ایک تو وہ لوگ ہیں جنکی نظر میں طالبان ہیرو ہیں اور ملالہ زیرو اور انکی رائے میں ملالہ کو ذلیل کرنے کیلئے جس حد تک بھی جانا چاہئیے روا ہے۔۔۔، اور دوسرے وہ ہیں جو طالبان مخالفت میں ہر غلط بات کو بھی درست قرار دینے پر تلے نظر آتے ہیں۔۔میرے خیال میں یہ دونوں طبقات انتہاپسند ی کے ایک ہی سکے کے دو الگ الگ رخ ہیں۔۔میرے خیال میں اعتدال کی راہ یہی ہے کہ ملالہ کی ہمت ، بہادری اور عزم و شعور کے مظاہرے کو قابلِ تحسین سمجھنا چاہئیے لیکن اسکے نام کو استعمال کرکے اپنے دل کے پھپھولے پھوڑنے والے ،ادر پدر آزادطبقات سے بھی ہوشیار رہنا چاہئیے۔۔۔۔
 

زبیر حسین

محفلین
جب آپ خود بھی اس بات کو تسلیم کر رہے ہیں تو پھر اسکے بعد اس موضوع پر انصار عباسی کے کالمز اور پروگرامز کی کیا وقعت رہ جاتی ہے۔۔۔ یہ تو ایسے ہی ہے کہ کسی نے دوسرے شخص کو کہا کہ کتا آپکا کان کاٹ کرلے گیا ہے اور وہ دوسرا شخض اپنا کان چیک کئے بغیر کتے کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا۔۔۔ :)
"کیا" کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔:sneaky:
 

سید ذیشان

محفلین
ویسے کیا انگریزی کتاب میں، سلمان رشدی، احمدی فرقہ، اور اسلامی قوانین کا ذکر اس انداز میں نہیں ہے جیسے انصار عباسی نے سمجھا۔

اس کا جواب نفی میں ہے۔ انصار عباسی نے ہر ایشو کو اپنی مرضی کا سپِن دیا ہے۔

یہ تھا مختصر جواب۔تفصیلی جواب کے لئے انتظار فرمائیے۔ ;)
 
اس کا جواب نفی میں ہے۔ انصار عباسی نے ہر ایشو کو اپنی مرضی کا سپِن دیا ہے۔

یہ تھا مختصر جواب۔تفصیلی جواب کے لئے انتظار فرمائیے۔ ;)
یہی بات ہے۔۔۔پرانا طریقہ ہے کہ مخالف کے مافی الضمیر کو پوری طرح سمجھے اور یہ دیکھے بغیر کہ پوری کتاب کا بحیثیت مجموعی کیا پیغام ہے کیا روح ہے اسکی، محض کانٹ چھانٹ والا طریقہ اپناؤ، اور ادھر ادھر سے سیاق و سباق سے جدا کرکے انہی باتوں پر توجہ مرکوز کردو جن سے کوئی غلط مفہوم برآمد ہوسکے۔۔۔۔اور غیرمتعلقہ ایشوز کا اتنا شور مچادو کہ اصل ایشو بھول جائے۔۔۔ملالہ تو دور کی بات ہے آپ کسی بھی مستند اور مانے ہوئے مذہبی عالم کی کتاب کے ساتھ بھی ایسا کھلواڑ کرسکتے ہیں اور پھر بات کو کفر کے درجے تک بھی لیجایا جاسکتا ہے۔۔۔کانچ کے محل میں بیٹھ کر لوگوں پر کنکر پھینکنا تو روشِ عام ہے۔
 

سید ذیشان

محفلین
یہی بات ہے۔۔۔ پرانا طریقہ ہے کہ مخالف کے مافی الضمیر کو پوری طرح سمجھے اور یہ دیکھے بغیر کہ پوری کتاب کا بحیثیت مجموعی کیا پیغام ہے کیا روح ہے اسکی، محض کانٹ چھانٹ والا طریقہ اپناؤ، اور ادھر ادھر سے سیاق و سباق سے جدا کرکے انہی باتوں پر توجہ مرکوز کردو جن سے کوئی غلط مفہوم برآمد ہوسکے۔۔۔ ۔اور غیرمتعلقہ ایشوز کا اتنا شور مچادو کہ اصل ایشو بھول جائے۔۔۔ ملالہ تو دور کی بات ہے آپ کسی بھی مستند اور مانے ہوئے مذہبی عالم کی کتاب کے ساتھ بھی ایسا کھلواڑ کرسکتے ہیں اور پھر بات کو کفر کے درجے تک بھی لیجایا جاسکتا ہے۔۔۔ کانچ کے محل میں بیٹھ کر لوگوں پر کنکر پھینکنا تو روشِ عام ہے۔

نیٹ پر اسلام مخالف ہزاروں سائٹیں ہیں جن کا یہی وطیرہ ہے کہ قرآن کی آیتیں اٹھا کر سیاق و سباق دیکھے بغیر ہی اسلام کو شدت پسند مذہب ثابت کرنے پر تلے ہوتے ہیں۔ مثلاً سورۃ توبہ کی آیت جس میں فرمایا گیا ہے کہ یہ (کافر) جہاں بھی ملیں ان کو قتل کر دو۔ اس آیت کا کچھ سیاق و سباق ہے اس کو سمجھے بغیر تو اسلام بربریت سے بھرپور مذہب دکھائی دے گا۔
 

سید ذیشان

محفلین
انصار عباسی نے اس کالم (اصل میں تو دو کالم ہیں معلوم نہیں کالم کیوں کہلاتا ہے) میں لکھا ہے:

2sff.png


"ورنہ ایک کتاب جس میں ایک بچی کی اپنی زندگی، اُس کی تعلیم کے حصول کے لئے جدوجہد اور قاتلانہ حملہ کی کہانی ہونی چاہیے تھی اس میں ملعون سلمان رشدی کی کتاب The Satanic Verses کے حوالے سے آزادی رائے کے حق میں بات کرنا، اللہ تعالیٰ کے مقرر کئے ہوئے قانون کے نفاذ پر اعتراض اٹھانا۔ ناموس رسالت کے قانون کو پاکستان مٰن سخت کئے جانے کی بات کرنا، قادیانوں اور مسیحی برادری پر پاکستان میں حملوں اور یہ کہنا کہ احمدی (قادیانی) اپنے آپ کو تو مسلمان کہتے ہیں جبکہ ہماری حکومت ان کو غیر مسلم سمجھتی ہے ایسے موضوعات تھے جو مسلمانوں اور اسلام مخالف قوتوں کے درمیان تناؤ کا باعث بنتے ہیں۔ یہ معاملات ایک سولہ سالہ بچی کی سمجھ سے بہت بڑے ہیں مگر ملالہ کا نام استعمال کر کے ان معاملات کو اس انداز میں اٹھایا گیا جو عمومی مسلمانوں کو دکھ پہنچاتے ہیں۔"


1- "ورنہ ایک کتاب جس میں ایک بچی کی اپنی زندگی، اُس کی تعلیم کے حصول کے لئے جدوجہد اور قاتلانہ حملہ کی کہانی ہونی چاہیے تھی۔۔۔"

اس سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ انصار عباسی نے کتاب پڑھنے کی زحمت نہیں اٹھائی اور چند اقتباسات پڑھ کر ہی آرٹیکل لکھ مارا۔ کیونکہ کتاب میں تفصیلاً ملالہ کا بچپن، سوات کی تاریخ، ملالہ کا سکول، اس کی تعلیم کے لئے جدوجہد، اس پر حملہ، اس کا علاج وغیرہ بیان کیا گیا ہے۔ اصل کتاب اسی بارے میں ہی ہے۔ لیکن ملالہ خلا میں نہیں رہتی وہ دنیا کے ایک حصے میں رہتی ہے جسے پاکستان کہا جاتا ہے۔ اور پاکستان کے بہت سارے مسائل ہیں ان میں سے شدت پسندی بھی ایک مسئلہ ہے۔ ملالہ پر حملہ بھی ایسے ہی لوگوں نے کیا۔ اب اس کی وجوہات کو بیان نہ کیا جائے تو پھر اس کتاب کا فائدہ؟ اچھی کہانی ہی پڑھنی ہے تو فِکشن اٹھا کر پڑھ لیں۔
تو اس کتاب میں شدت پسندی سے متعلق چیدہ چیدہ واقعات کا بھی ذکر ہے۔ اب اس کو آپ پاکستان کے خلاف سازش سمجھیں یا پھر حقائق کی پردہ پوشی وہ آپ پر منحصر ہے۔

2- "۔۔ اس میں ملعون سلمان رشدی کی کتاب The Satanic Verses کے حوالے سے آزادی رائے کے حق میں بات کرنا،۔۔"

اس سے ایسا تاثر ملتا ہے جیسے ملالہ نے کتاب میں ایسی بات کی ہے کہ رشدی کو کتاب میں مغلظات لکھنے کی کھلی آزادی تھی اور اس نے ٹھیک کیا۔

کتاب کے صفحہ 28 سے اقتباس:

My father’s college held a heated debate in a packed room. Many students argued that the book"
should be banned and burned and the fatwa upheld. My father also saw the book as offensive to Islam
but believes strongly in freedom of speech. ‘First, let’s read the book and then why not respond with
our own book,’ he suggested. He ended by asking in a thundering voice my grandfather would have
been proud of, ‘Is Islam such a weak religion that it cannot tolerate a book written against it? Not my
"Islam!’

ترجمہ: میرے والد کے کالج میں اس پر ایک بھرے کمرے میں مباحثہ منعقد ہوا۔بہت سارے طلبا نے یہ کہا کہ اس کتاب کو بین کر دینا چاہیے اور اس کو جلا دینا چاہیے اور (خمینی کے رشدی کو قتل کرنے والے ) فتویٰ پر عمل درامد ہونا چاہیے۔ میرے والد نے بھی اس کتاب کو اسلام کے لئے توہین آمیز ہی سمجھا لیکن آزادیِ اظہار پر مکمل یقین رکھتے ہیں، "پہلے، اس کتاب کو پڑھ لیتے ہیں پھر اس کا جواب اپنی کتاب لکھ کر دیتے ہیں" انہوں نے مشورہ دیا۔ آخر میں انہوں نے گرجدار آواز میں، جس پر میرے دادا فخر کرتے، اختتام کیا، "کیا اسلام ایک ایسا کمزور مذہب ہے کہ وہ اپنے خلاف ایک کتاب برداشت نہیں کر سکتا؟ میرا اسلام ایسا نہیں ہے!"

یعنی آزادی اظہار کی بات یہ ہے کہ کتاب کا جواب کتاب سے دینا چاہیے نا کہ توڑ پھوڑ کر کے اور لوگوں کو قتل کر کے۔ اس میں صاف لکھا ہے کی ملالہ کے والد نے اس کتاب کو توہین آمیز سمجھا۔ اس میں کہیں پر بھی رشدی یا اس کتاب کی حمایت یا تعریف کا پہلو نہیں نکلتا۔ اوریا مقبول جان اپنے ہر کالم اور پروگرام میں ملالہ پر رشدی کی حمایت کا الزام لگاتا ہے۔ آپ خود پڑھ کر بتائیں کہ یہاں پر رشدی کی حمایت کیسے ہوتی ہے؟

3-"۔۔اللہ تعالیٰ کے مقرر کئے ہوئے قانون کے نفاذ پر اعتراض اٹھانا۔۔۔"

ضیاء الحق کے قوانین اور اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے قوانین میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ تو اگر کوئی ضیاء الحق کے بنائے ہوئے قوانین جیسے حدود آرڈیننس وغیرہ پر اعتراض کرتا ہے تو اس کا یہ مطلب کیسے نکلتا ہے کہ یہ اللہ کے قوانین پر اعتراض ہے؟

4- "۔۔ناموس رسالت کے قانون کو پاکستان مٰن سخت کئے جانے کی بات کرنا،"

کتاب کے صفحہ 105 سے اقتباس:

In Pakistan we have something called the
Blasphemy Law, which protects the Holy Quran from desecration. Under General Zia’s Islamisation
campaign, the law was made much stricter so that anyone who ‘defiles the sacred name of the Holy
Prophet’ can be punished by death or life imprisonment. pp 105

ترجمہ: پاکستان میں ایک قانون ہے جس کا نام توہین کا قانون ہے، جو قرآن پاک کی توہین ہونے سے بچاتا ہے۔ جنرل ضیاء کے اسلامائزیشن کے دوران اس قانون کو مزید سخت کر دیا گیا کہ اب اگر کوئی رسول (ص) کی توہین کا مرتکب ہو تو اس کے لئے سزائے موت یا پھر عمر قید کی سزا ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ قانون سخت نہیں کیا گیا؟ اور کیا اس قانون کے تحت بے گناہ لوگوں پر الزام تراشی نہیں کی جاتی؟ اگر ایسا ہے تو کتاب میں اس کا ذکر کرنا کیسے مسلمانوں کی دل آزاری کے زمرے میں آتا ہے؟

5- "۔۔قادیانوں اور مسیحی برادری پر پاکستان میں حملوں اور یہ کہنا کہ احمدی (قادیانی) اپنے آپ کو تو مسلمان کہتے ہیں جبکہ ہماری حکومت ان کو غیر مسلم سمجھتی ہے ۔۔"

صضحہ 49 سے اقتباس:

Now we are a country of 180 million and more than 96 per cent
are Muslim. We also have around two million Christians and more than two million Ahmadis, who
say they are Muslims though our government says they are not. Sadly those minority communities are
often attacked. pp 49

ترجمہ: ہمارے ملک میں 18 کروڑ لوگ بستے ہیں جن میں 96 فی صد مسلمان ہیں۔ ہمارے ہاں 20 لاکھ کے قریب عیسائی اور بیس لاکھ سے کچھ زائد احمدی بستے ہیں، جو اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں جبکہ ہماری حکومت کہتی ہے کہ یہ مسلمان نہیں ہیں۔ افسوس کی بات ہے کہ ان اقلیتوں پر اکثر حملے ہوتے ہیں۔

اس میں ایسی کیا بات ہے جو حقیقت کے برعکس ہے؟ احمدی اپنے آپ کو مسلمان مانتے ہیں لیکن حکومت انہیں مسلمان تسلیم نہیں کرتی اور ان پر حملے بھی ہوتے ہیں۔


6- ایک اور ایشو جو اس کالم میں اٹھایا گیا ہے وہ یہ ہے کہ ملالہ نے حضور (ص) کے نام کیساتھ درود نہیں لکھا۔

یہ رہی علامہ اقبال کی کتاب "Reconstruction of religious thought in Islam" جو کہ ان کی اپنی یونیورسٹی ETH Zurich پر موجود ہے۔ اس کے علاوہ اور بھی پرنٹ ہیں۔ اس میں مجھے کوئی دکھا دے کہ علامہ نے کتنی مرتبہ Prophet کے بعد (PBUH) لگایا ہے؟ مغرب میں اس طرح کے القابات لگانے کا رواج نہیں ہے۔ تو اکثر مسلمان لکھاری بھی یہ نہیں لگاتے۔ اس سے کسی قسم کی توہین نہیں ہوتی۔ ایسا objectivity برقرار رکھنے کے لئے کیا جاتا ہے۔
 
آخری تدوین:

S. H. Naqvi

محفلین
انتظار کریں ابھی غیر متفق کا پھندنا لیے صاحب آتے ہی ہوں گے.
تو کیا آپ اب زبردستی متفق کروائیں گے اپنے موقف سے;) "آزادئ اظہاررائے" کا حق ہر کس نا کس کو حاصل ہے ضروری نہیں جو آپکی آنکھوں سے دکھتا ہو وہی دوسرے بھی دیکھیں، ایسا سوچنا اور مسلط کرنا احمقانہ خواہش تو ہو سکتی ہے مگر توقع رکھنا کہ دوسرے کی رائے تبدیل ہو گی عبث ہے۔
 

arifkarim

معطل
یہ دنیا مسلمانوں کی وجہ سے قائم ہے
جو ایک بھی جدید ایجاد نہ کر سکے کیا یہ دنیا انکی وجہ سے قائم ہے؟
کیا تیل اور گیس مسلمانوں نے نکالا جو عالمی معیشت کی بنیاد ہے؟
کیا بجلی مسلمانوں نے بنائی جو کہ جدید ٹیکنالوجی کی بنیاد ہے؟
کیا انٹرنیٹ مسلمانوں نے بنایا جو کہ عالمی کمیونیکیشن کی بنیاد ہے؟
 

x boy

محفلین
جو ایک بھی جدید ایجاد نہ کر سکے کیا یہ دنیا انکی وجہ سے قائم ہے؟
کیا تیل اور گیس مسلمانوں نے نکالا جو عالمی معیشت کی بنیاد ہے؟
کیا بجلی مسلمانوں نے بنائی جو کہ جدید ٹیکنالوجی کی بنیاد ہے؟
کیا انٹرنیٹ مسلمانوں نے بنایا جو کہ عالمی کمیونیکیشن کی بنیاد ہے؟
مجھے ایک بات بتادو، جب روح زمین میں اسلام اور مسلمان نہیں رہیں گے تو کیا کوئی اور نبی انکو ھدایت کا راستہ دکھانے جنت جہنم بتانے اللہ کی طرف سے مبعوث کیا جائیگا۔
جس دور میں یہ سب چیزیں نہیں تھیں اس دور میں بھی بڑی بڑی قومیں تھیں جو اپنے ہٹ ڈرمیوں کی وجہ سے نیست و نابود کردی گئیں۔
 

آبی ٹوکول

محفلین
ویسے اس پروگرام میں بے ہودا پن کا آغاز پرویز ہود المعروف بے ہودا بائی نے کیا بجائے اس کہ موصوف کتاب پر اپنی رائے دیتے اور اسکے متنازعہ حصوں پر اپنا پوائنٹ ویو بتلاتے اور اسکی جسٹی فیکیشن دیتے جناب نے فریق مقابل کو ہی رگیدنا شروع کردیا اور وہ بھی بے تکا اور بے ہنگم
 

x boy

محفلین
رہے نام باقی اللہ کا،، ایسا ہی ہوتا ہے
یہ ملالہ آج کل میڈیا کی زینت بن نہیں رہی کیا مشینری والے کسی اور کو ڈھونڈ رہے ہیں
کوئی خبر شبر " آئی ایم ملالہ" کے بارہ میں کسی کو ہے۔
 
رہے نام اللہ کا۔۔۔آجکل آپ قاری حنیف ڈار کا منورنجن پیش نہیں کر رہے۔۔۔سنا ہے فیس بک پر آجکل کافی طوفانِ بدتمیزی پرپا ہے انکے حوالے سے;)
 
Top