امن کی آشا کے نام پر بھارت کو پاکستان پر مسلط کرنے کی ناپاک سازش

پاکستان میں گزشتہ کئی سال سے قومی روزنامہ اور بھارتی ادارے ٹائمز آف انڈیا کے زیراہتمام ’’امن کی آشا‘‘ کے نام پر مسلسل کام جاری ہے۔ جس وقت یہ سطریں تحریر کی جا رہی ہیں اس وقت ان دونوں اداروں کے زیراہتمام بھارت سے ایک بہت بڑا تجارتی وفد لاہور میں موجود ہے جس نے سب سے پہلے نواز شریف سے ملاقات کی۔ تجارتی کانفرنس سے وزیراعظم نے خطاب کیا۔ شہباز شریف بھی شریک و مخاطب ہوئے تاکہ تجارت کو فروغ دیا جائے۔ جس وقت ’’امن کی آشا‘‘ مشن شروع کیا تھا اس وقت اس کابنیادی مقصد یہ بیان کیا گیا تھا کہ اس سے خطے میں روزنامہ جنگ نے تمام امکانات کو ختم کر کے آپس میں پیار و محبت کے ساتھ رہنے کا ماحول پیدا کیا جائے گا۔ اس کے لئے دونوں طرف ان اداروں نے مختلف قسم کے وفود کے مسلسل تبادلے کئے۔ اس مشن پر بلامبالغہ اب تک اربوں روپے خرچ کئے جا چکے ہیں۔ حیرانی اس بات سے ہوتی ہے کہ پاکستان میں ملک کے صرف ایک ابلاغی ادارے جسے سب سے موثر اور بڑا ادارہ ہونے کا بھی ز عم ہے نے یہ سلسلہ کیوں شروع کر رکھا ہے اور اسے اس سے کیا ملے گا…؟ دنیا کا کوئی ملک و مذہب جنگ کو اچھا نہیں سمجھتا، اسلام بھی جنگ کا مخالف ہے لیکن جنگ اگر امن کے لئے ناگزیر ہو تو اس کی اجازت ہے۔ ہمیں اس بات پر حیرانی ہوتی ہے کہ پاکستان جس کے بھارت کے ساتھ ایک یا دو نہیں ان گنت تنازعات چل رہے ہیں اور تمام تنازعات ایسے ہیں کہ جو پاکستان کی موت و حیات سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کی موجودگی میں کیسے امن قائم ہو گا؟ کیا ہم کشمیر کو بھول جائیں گے…؟ کیا ہم اپنے دریائوں اور پانی کو بھول جائیں کہ جس پر بھارت قبضہ کر چکا ہے؟ کیا ہم سیاچن کو بھول جائیں کہ جس پر 1984ء سے بھارت قابض ہے؟ کیا ہم سرکریک کو بھول جائیں…؟ کیا ہم سمجھوتہ ایکسپریس کو بھول جائیں…؟ کیا ہم مشرقی پاکستان کا حادثہ بھول جائیں…؟ کیا ہم ہزاروں شہریوں کو بھول جائیں کہ جو بھارت کی دہشت گردی کا شکار ہوئے۔ ہمیں ’’امن کی آشا‘‘ کے نام پر جو سبق پڑھانے کی کوشش ہو رہی ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم بھارت کی بالادستی کو مکمل طور پر قبول کر کے اس کے غلام بن جائیں۔ افسوس کی بات ہے کہ بھارت ایسے - - دشمن کی دشمنی کو بھول کر پیپلزپارٹی، مسلم لیگ سمیت تقریباً تمام اہم سیاسی جماعتیں بھارت سے دوستی کے حق میں ہیں، تجارت کرنا چاہتی ہیں۔ دوسری طرف بھارت سے اب تک جتنی دوستی یا تجارت ہوئی اس کانتیجہ ہمارے سامنے ہے۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ بھارت ہمیں بات چیت اور مذاکرات اور امن کے نام پر کشمیر دے دے، سیاچن دے دے، ہمارا پانی چھوڑ دے، سرکریک سے ہٹ جائے۔ ہم پہلے بھی کئی بار قوم کو یاد دلا چکے ہیں کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر کا حصہ اور متنازعہ علاقہ کارگل کی ایک چوٹی جس پر پاکستان نے اپنا پرچم لہرا دیا تھا، اس کو قبول نہ کیا اور ہزاروں فوجی مروا اور اربوں ڈالر پھونک کر بھی اس نے اس وقت سانس لیا جب کارگل کا ایک معمولی سا متنازعہ علاقہ اس کے پاس دوبارہ چلا گیا۔ یہ تو ہم ہی ہیں کہ اس سے نہ کشمیر لے سکے، نہ مشرقی پاکستان کا بدلہ لے سکے، نہ سیاچن لے سکے کہ جس پر اس نے چوروں کی طرح قبضہ کیا تھا۔ قوم کو اب دو ٹوک فیصلہ کر کے میدان میں نکلنا چاہئے کہ اس نے بھارت کی مکمل غلامی اختیار کر کے بھارتی مسلمانوں کی سی بے بسی اور غلامی کی انتہائی گھٹیا زندگی بسر کرنی ہے یا آزادی کے ساتھ سر اٹھا کر جینا ہے۔ ’’امن کی آشا‘‘ کا ڈرامہ دراصل ہمیں بھارت کی غلامی کی لعنت میں دھکیلنے اور ہمارے ملک و معاشرے پر ہندو رسوم و رواج کو غالب کرنے بلکہ ہمیں مکمل طور پر بھارت اور ہندو کے حوالے کرنے کا مشن ہے۔ دوسری طرف کون نہیں جانتا کہ بھارت نے آج تک مذاکرات کے ساتھ ہمیں کیا دیا کہ اب وہ مزید کیا کچھ دے گا۔ مذاکرات تو برابری کی سطح پر ہوتے ہیں۔ بھارت کیا ہمیں اپنے برابر سمجھتا ہے؟ ہرگز نہیں تو ہمیں کس بات کی جلدی ہے… خدارا ملک و قوم کے حال پر رحم کیا جائے اور بھارت کے ساتھ یہ تماشے اور ڈرامے ختم کئے جائیں۔


بشکریہ ہفت روزہ جرار
والسلام،،،،علی اوڈ راجپوت
ali oadrajput
 

سید زبیر

محفلین
پاکستان میں گزشتہ کئی سال سے قومی روزنامہ اور بھارتی ادارے ٹائمز آف انڈیا کے زیراہتمام ’’امن کی آشا‘‘ کے نام پر مسلسل کام جاری ہے۔ جس وقت یہ سطریں تحریر کی جا رہی ہیں اس وقت ان دونوں اداروں کے زیراہتمام بھارت سے ایک بہت بڑا تجارتی وفد لاہور میں موجود ہے جس نے سب سے پہلے نواز شریف سے ملاقات کی۔ تجارتی کانفرنس سے وزیراعظم نے خطاب کیا۔ شہباز شریف بھی شریک و مخاطب ہوئے تاکہ تجارت کو فروغ دیا جائے۔ جس وقت ’’امن کی آشا‘‘ مشن شروع کیا تھا اس وقت اس کابنیادی مقصد یہ بیان کیا گیا تھا کہ اس سے خطے میں روزنامہ جنگ نے تمام امکانات کو ختم کر کے آپس میں پیار و محبت کے ساتھ رہنے کا ماحول پیدا کیا جائے گا۔ اس کے لئے دونوں طرف ان اداروں نے مختلف قسم کے وفود کے مسلسل تبادلے کئے۔ اس مشن پر بلامبالغہ اب تک اربوں روپے خرچ کئے جا چکے ہیں۔ حیرانی اس بات سے ہوتی ہے کہ پاکستان میں ملک کے صرف ایک ابلاغی ادارے جسے سب سے موثر اور بڑا ادارہ ہونے کا بھی ز عم ہے نے یہ سلسلہ کیوں شروع کر رکھا ہے اور اسے اس سے کیا ملے گا…؟ دنیا کا کوئی ملک و مذہب جنگ کو اچھا نہیں سمجھتا، اسلام بھی جنگ کا مخالف ہے لیکن جنگ اگر امن کے لئے ناگزیر ہو تو اس کی اجازت ہے۔ ہمیں اس بات پر حیرانی ہوتی ہے کہ پاکستان جس کے بھارت کے ساتھ ایک یا دو نہیں ان گنت تنازعات چل رہے ہیں اور تمام تنازعات ایسے ہیں کہ جو پاکستان کی موت و حیات سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کی موجودگی میں کیسے امن قائم ہو گا؟ کیا ہم کشمیر کو بھول جائیں گے…؟ کیا ہم اپنے دریائوں اور پانی کو بھول جائیں کہ جس پر بھارت قبضہ کر چکا ہے؟ کیا ہم سیاچن کو بھول جائیں کہ جس پر 1984ء سے بھارت قابض ہے؟ کیا ہم سرکریک کو بھول جائیں…؟ کیا ہم سمجھوتہ ایکسپریس کو بھول جائیں…؟ کیا ہم مشرقی پاکستان کا حادثہ بھول جائیں…؟ کیا ہم ہزاروں شہریوں کو بھول جائیں کہ جو بھارت کی دہشت گردی کا شکار ہوئے۔ ہمیں ’’امن کی آشا‘‘ کے نام پر جو سبق پڑھانے کی کوشش ہو رہی ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم بھارت کی بالادستی کو مکمل طور پر قبول کر کے اس کے غلام بن جائیں۔ افسوس کی بات ہے کہ بھارت ایسے بے غیرت دشمن کی دشمنی کو بھول کر پیپلزپارٹی، مسلم لیگ سمیت تقریباً تمام اہم سیاسی جماعتیں بھارت سے دوستی کے حق میں ہیں، تجارت کرنا چاہتی ہیں۔ دوسری طرف بھارت سے اب تک جتنی دوستی یا تجارت ہوئی اس کانتیجہ ہمارے سامنے ہے۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ بھارت ہمیں بات چیت اور مذاکرات اور امن کے نام پر کشمیر دے دے، سیاچن دے دے، ہمارا پانی چھوڑ دے، سرکریک سے ہٹ جائے۔ ہم پہلے بھی کئی بار قوم کو یاد دلا چکے ہیں کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر کا حصہ اور متنازعہ علاقہ کارگل کی ایک چوٹی جس پر پاکستان نے اپنا پرچم لہرا دیا تھا، اس کو قبول نہ کیا اور ہزاروں فوجی مروا اور اربوں ڈالر پھونک کر بھی اس نے اس وقت سانس لیا جب کارگل کا ایک معمولی سا متنازعہ علاقہ اس کے پاس دوبارہ چلا گیا۔ یہ تو ہم ہی ہیں کہ اس سے نہ کشمیر لے سکے، نہ مشرقی پاکستان کا بدلہ لے سکے، نہ سیاچن لے سکے کہ جس پر اس نے چوروں کی طرح قبضہ کیا تھا۔ قوم کو اب دو ٹوک فیصلہ کر کے میدان میں نکلنا چاہئے کہ اس نے بھارت کی مکمل غلامی اختیار کر کے بھارتی مسلمانوں کی سی بے بسی اور غلامی کی انتہائی گھٹیا زندگی بسر کرنی ہے یا آزادی کے ساتھ سر اٹھا کر جینا ہے۔ ’’امن کی آشا‘‘ کا ڈرامہ دراصل ہمیں بھارت کی غلامی کی لعنت میں دھکیلنے اور ہمارے ملک و معاشرے پر ہندو رسوم و رواج کو غالب کرنے بلکہ ہمیں مکمل طور پر بھارت اور ہندو کے حوالے کرنے کا مشن ہے۔ دوسری طرف کون نہیں جانتا کہ بھارت نے آج تک مذاکرات کے ساتھ ہمیں کیا دیا کہ اب وہ مزید کیا کچھ دے گا۔ مذاکرات تو برابری کی سطح پر ہوتے ہیں۔ بھارت کیا ہمیں اپنے برابر سمجھتا ہے؟ ہرگز نہیں تو ہمیں کس بات کی جلدی ہے… خدارا ملک و قوم کے حال پر رحم کیا جائے اور بھارت کے ساتھ یہ تماشے اور ڈرامے ختم کئے جائیں۔


بشکریہ ہفت روزہ جرار
والسلام،،،،علی اوڈ راجپوت
ali oadrajput
محترم علی اوڈ راجپوت صاحب
آپ نے بالکل درست فرمایا کہ ہمیں اپنی رسم ورواج کو برقرار رکھنا چاہیے اپنے انہی ملی اصولوں ہی کی خاطر ہم نے ہندو اور انگریزوں سے آزادی حاصل کی تھی بے شک ہمارے تنازعات بھی کئی جانیں لے چکے ہیں ہمارا پانی بھی وہ ڈھتائی سے استعمال کر رہا ہے ۔مگر ان سب باتوں میں ہمارے رہزن نما رہبر کتنے ملوث ہیں۔ اب اگر تجارت کھل رہی ہے لوگ آ جا رہے ہیں تو کوئی فرق نہیں پڑتا ہمیں اپنی بنیادیں اور دیواریں مضبوط کرنی چاہیے اور اتنے تعلقات ضرور رکھیں جتنے دو مہذب قوموں میں ہوتے ہیں ، اپنے مفادات اور اپنی شناخت اپنی روایات کا تحفظ کرنا ہماری ذمہ داری ہے اس خوف سے ہم معاشرے میں کیسے رہ سکیں گےکہ ا ملاپ سے کہیں ہماری شناخت ختم ہو جائیگی
 

سید زبیر

محفلین
محترم علی اوڈ راجپوت صاحب
آپ نے بالکل درست فرمایا کہ ہمیں اپنی رسم ورواج کو برقرار رکھنا چاہیے اپنے انہی ملی اصولوں ہی کی خاطر ہم نے ہندو اور انگریزوں سے آزادی حاصل کی تھی بے شک ہمارے تنازعات بھی کئی جانیں لے چکے ہیں ہمارا پانی بھی وہ ڈھتائی سے استعمال کر رہا ہے ۔مگر ان سب باتوں میں ہمارے رہزن نما رہبر کتنے ملوث ہیں۔ اب اگر تجارت کھل رہی ہے لوگ آ جا رہے ہیں تو کوئی فرق نہیں پڑتا ہمیں اپنی بنیادیں اور دیواریں مضبوط کرنی چاہیے اور اتنے تعلقات ضرور رکھیں جتنے دو مہذب قوموں میں ہوتے ہیں ، اپنے مفادات اور اپنی شناخت اپنی روایات کا تحفظ کرنا ہماری ذمہ داری ہے اس خوف سے ہم معاشرے میں کیسے رہ سکیں گےکہ ا ملاپ سے کہیں ہماری شناخت ختم ہو جائیگی
غزنوی صاحب آپ کا عطا کردہ تمغے کا شکریہ
 

محمد بلال اعظم

لائبریرین
بھارت سے تعلقات میں ہرج کوئی نہیں ہے، لیکن تب تک یہ کسی صورت قابل قبول نہیں ہوگا جب بھارت کشمیر ، سیاچن دریاؤں کے پانی سمیت دوسرے امور پہ درست فیصلوں کو قبول نہیں کرتا۔
آخر پاکستان کی آزادی میں کشمیریوں کا خون شامل ہے، ان پہ بھلا کیا گزرتی ہو گی، امن کی آشا کے با وجود بھارت روزانہ نہتے کشمیریوں کا خون بہا رہا ہے اور ہر روز کبھی کوئی تو کبھی کوئی نیا معاملہ کھڑا کر دیتا ہے،
پتہ نہیں پاکستانی کب قائد اعظم اور علامہ اقبال کے پیام کو سمجھیں گے۔
پاکستانی میڈیا کو اس معاملے میں اپنا کردار مکمل ایمانداری سے نبھانا ہو گا کیونکہ میڈیا کا اثر عوام پہ بہت زیادہ پڑتا ہے۔
 

سید زبیر

محفلین
بھارت سے تعلقات میں ہرج کوئی نہیں ہے، لیکن تب تک یہ کسی صورت قابل قبول نہیں ہوگا جب بھارت کشمیر ، سیاچن دریاؤں کے پانی سمیت دوسرے امور پہ درست فیصلوں کو قبول نہیں کرتا۔
آخر پاکستان کی آزادی میں کشمیریوں کا خون شامل ہے، ان پہ بھلا کیا گزرتی ہو گی، امن کی آشا کے با وجود بھارت روزانہ نہتے کشمیریوں کا خون بہا رہا ہے اور ہر روز کبھی کوئی تو کبھی کوئی نیا معاملہ کھڑا کر دیتا ہے،
پتہ نہیں پاکستانی کب قائد اعظم اور علامہ اقبال کے پیام کو سمجھیں گے۔
پاکستانی میڈیا کو اس معاملے میں اپنا کردار مکمل ایمانداری سے نبھانا ہو گا کیونکہ میڈیا کا اثر عوام پہ بہت زیادہ پڑتا ہے۔
بلال اعظم صاحب آپ نے بالکل درست فرمایا اصل مجرم ہمارا میڈیا خصوصا اشتہار ساز ادارے ہیں
 

ساجد

محفلین
پاک بھارت تعلقات پر جب بھی کہیں کوئی بات کی جاتی ہے تو موجود تنازعات اور ماضی کی تلخیاں اصل بات پر حاوی ہو جاتی ہیں یوں معاملات پر بات کرنے کا مقصد حاصل نہیں ہوتا اور سب کچھ جذبات میں بہہ جاتا ہے۔ دونوں ممالک کے باسی اس کا شکار ہو جاتے ہیں۔
اس حقیقت سے انکار نہیں کہ دونوں ممالک میں شدت پسندوں کو کافی عوامی حمایت ملتی ہے جو مسائل کے حل کی کوئی سبیل نکلنے نہیں دیتے اور یہ بھی سچ کہ دونوں ممالک کی حکومتیں بھی ان کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرتی ہیں۔ پاکستان میں اگر مذہبی جماعتیں بھارت کے بارے میں سخت رویہ رکھتی ہیں تو بھارت میں بھی بہت ساری ہندو مذہبی جماعتیں یہی کام کر رہی ہیں۔ اکھنڈ بھارت اسی مہم کا ایک شاخسانہ ہے۔ لیکن اس سے بھی افسوسناک بات یہ ہے کہ بھارت کی سیاست میں بی جے پی بھی یہی مذموم کام کر رہی ہے۔ اسی سے متصل شیو سینا "خدائی فوج" بال ٹھاکرے کی قیادت میں پاکستان کے وجود ہی کی مخالف ہے۔
اب یہاں یہ سوال اٹھتا ہے کہ ہر دو ممالک کی حکومتیں ان شدت پسندوں کے آگے بے بس کیوں ہیں؟ِ ۔ کبھی کبھار ایسے مواقع بھی آئے جب دونوں ممالک کی رہنماؤں نے بہت خلوص کے ساتھ درست سمت میں قدم اٹھائے لیکن اسی دوران شدت پسندی کو کوئی نہ کوئی واقعہ رونما ہوا اور معاملات پھر سے خراب ہوئے۔
احباب اس پر غور فرمائیں کہ ایسا کیوں ہوتا ہے اور یہ سب کس کے اشارے پہ ہوتا ہے۔ ایک دوسرے پر الزامات اور نعروں سے حالات درست نہیں ہونے والے جب تک کہ مسائل کی بنیاد پر غور نہ کیا جائے۔ تاریخ ہمارے سامنے ہے کہ کیسے اس سونے کی چڑیا کو پکڑنے کے لئے ہندو مسلم دشمنی کا بیج بویا گیا ، اس کی آبیاری کس نے کی۔ اور اب بھی جب کبھی دونوں ممالک مفاہمت کی طرف بڑھتے ہیں تو عالمی سطح پر کیسے کیسے ڈرامے کھیل کر پھر سے دونوں ممالک میں کشیدگی پیدا کی جاتی ہے جس کا فائدہ شدت پسند اٹھاتے ہیں ،در حقیقت فائدہ کوئی اور اٹھا رہا ہوتا ہے، اور جذباتی نعروں سے عوام کو اپنے پیچھے لگا کر حکومتوں کو بے بس کرتے ہیں۔
ذرا سا غور و فکر آپ پر بہت کچھ آشکار کرے گا۔ صلائے عام ہے۔
 

ساجد

محفلین
ali-oad صاحب ، آپ کے ابتدائی مراسلے میں سے غیر مہذب لفظ کی تدوین کر دی گئی ہے۔ آئندہ کے لئے محتاط رہیں۔
 

سید زبیر

محفلین
پاک بھارت تعلقات پر جب بھی کہیں کوئی بات کی جاتی ہے تو موجود تنازعات اور ماضی کی تلخیاں اصل بات پر حاوی ہو جاتی ہیں یوں معاملات پر بات کرنے کا مقصد حاصل نہیں ہوتا اور سب کچھ جذبات میں بہہ جاتا ہے۔ دونوں ممالک کے باسی اس کا شکار ہو جاتے ہیں۔
اس حقیقت سے انکار نہیں کہ دونوں ممالک میں شدت پسندوں کو کافی عوامی حمایت ملتی ہے جو مسائل کے حل کی کوئی سبیل نکلنے نہیں دیتے اور یہ بھی سچ کہ دونوں ممالک کی حکومتیں بھی ان کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرتی ہیں۔ پاکستان میں اگر مذہبی جماعتیں بھارت کے بارے میں سخت رویہ رکھتی ہیں تو بھارت میں بھی بہت ساری ہندو مذہبی جماعتیں یہی کام کر رہی ہیں۔ اکھنڈ بھارت اسی مہم کا ایک شاخسانہ ہے۔ لیکن اس سے بھی افسوسناک بات یہ ہے کہ بھارت کی سیاست میں بی جے پی بھی یہی مذموم کام کر رہی ہے۔ اسی سے متصل شیو سینا "خدائی فوج" بال ٹھاکرے کی قیادت میں پاکستان کے وجود ہی کی مخالف ہے۔
اب یہاں یہ سوال اٹھتا ہے کہ ہر دو ممالک کی حکومتیں ان شدت پسندوں کے آگے بے بس کیوں ہیں؟ِ ۔ کبھی کبھار ایسے مواقع بھی آئے جب دونوں ممالک کی رہنماؤں نے بہت خلوص کے ساتھ درست سمت میں قدم اٹھائے لیکن اسی دوران شدت پسندی کو کوئی نہ کوئی واقعہ رونما ہوا اور معاملات پھر سے خراب ہوئے۔
احباب اس پر غور رمائیں کہ ایسا کیوں ہوتا ہے اور یہ سب کس کے اشارے پہ ہوتا ہے۔ ایک دوسرے پر الزامات اور نعروں سے حالات درست نہیں ہونے والے جب تک کہ مسائل کی بنیاد پر غور نہ کیا جائے۔ تاریخ ہمارے سامنے ہے کہ کیسے اس سونے کی چڑیا کو پکڑنے کے لئے ہندو مسلم دشمنی کا بیج بویا گیا ، اس کی آبیاری کس نے کی۔ اور اب بھی جب کبھی دونوں ممالک مفاہمت کی طرف بڑھتے ہیں تو عالمی سطح پر کیسے کیسے ڈرامے کھیل کر پھر سے دونوں ممالک میں کشیدگی پیدا کی جاتی ہے جس کا فائدہ شدت پسند اٹھاتے ہیں ،در حقیقت فائدہ کوئی اور اٹھا رہا ہوتا ہے، اور جذباتی نعروں سے عوام کو اپنے پیچھے لگا کر حکومتوں کو بے بس کرتے ہیں۔
ذرا سا غور و فکر آپ پر بہت کچھ آشکار کرے گا۔ صلائے عام ہے۔

پیارے بھائی ساجد صاحب ہندو مسلم دو الگ الگ قومیں ہیں دونوں کو اپنے عقیدے کے مطابق زندگی گذارنے کا حق حاصل ہے کسی کو ایک دوسرے کا استحصال کرنے کا حق حاصل نہیں آپ جس دشمنی کی طرف اشارہ کر رہے ہیں اس وقت کی تاریخ گواہ ہے کہ کون کس کا اور کس طرح استحصال کررہا تھا ۔ ہاں یہ درست ہے کہ دونوں قوموں کو ایک دوسرے کا احترام کرتے ہوئے دوستی کرنی چاہیے اور دشمنی سے گریز کرنا چاہیے۔
 

ساجد

محفلین
پیارے بھائی ساجد صاحب ہندو مسلم دو الگ الگ قومیں ہیں دونوں کو اپنے عقیدے کے مطابق زندگی گذارنے کا حق حاصل ہے کسی کو ایک دوسرے کا استحصال کرنے کا حق حاصل نہیں آپ جس دشمنی کی طرف اشارہ کر رہے ہیں اس وقت کی تاریخ گواہ ہے کہ کون کس کا اور کس طرح استحصال کررہا تھا ۔ ہاں یہ درست ہے کہ دونوں قوموں کو ایک دوسرے کا احترام کرتے ہوئے دوستی کرنی چاہیے اور دشمنی سے گریز کرنا چاہیے۔
برادر محترم ، تسلیم کہ ہندو اور مسلم دو الگ الگ قومیں ہیں بلکہ آپ کی بات کو آگے بڑھاؤں تو کہوں گا " خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی"۔
 

محمد بلال اعظم

لائبریرین
پیارے بھائی ساجد صاحب ہندو مسلم دو الگ الگ قومیں ہیں دونوں کو اپنے عقیدے کے مطابق زندگی گذارنے کا حق حاصل ہے کسی کو ایک دوسرے کا استحصال کرنے کا حق حاصل نہیں آپ جس دشمنی کی طرف اشارہ کر رہے ہیں اس وقت کی تاریخ گواہ ہے کہ کون کس کا اور کس طرح استحصال کررہا تھا ۔ ہاں یہ درست ہے کہ دونوں قوموں کو ایک دوسرے کا احترام کرتے ہوئے دوستی کرنی چاہیے اور دشمنی سے گریز کرنا چاہیے۔

آپ نے بالکل درست فرمایا، اگر ہم بھارت کی سالمیت کا احترام کرتے ہیں تو پھر بھارت کو بھی ہوش کے ناخن لینے چاہیں،
 

ساجد

محفلین
آپ نے بالکل درست فرمایا، اگر ہم بھارت کی سالمیت کا احترام کرتے ہیں تو پھر بھارت کو بھی ہوش کے ناخن لینے چاہیں،
جی برادران عزیز ، عالمی سیاست کے کار پردازوں نے سب سے پہلے دونوں اقوام کے یہی ہوش کے ناخن ہی تو کتر ڈالے تھے۔ تب سے اب تک ہم مداری کے بندر کی طرح ان کی ڈگڈگی پر ناچ رہے ہیں ،بالخصوص ہر دو ممالک کے حکمران۔ ہمسایوں میں اچھے تعلقات ہوں تو بد خواہ اپنے ارادوں میں کامیاب نہیں ہوا کرتے۔ یورپ کی ترقی کا راز اسی اصول میں مضمرہے اور یہی راز پاکستان اور بھارت جتنی جلدی سمجھ لیں گے ان کے لئے بہتر ہے۔ لیکن ہماری دونوں حکومتوں کی دانشوری ایک دوسرے کے مذاہب پر حملے سے شروع ہوتی ہے اور شدت پسندی کو ہوا دینے پہ ختم ہو جاتی ہے۔ جس کے لئے مختلف افراد اور گروپوں کی مدد بھی لی جاتی ہے۔
 

سید زبیر

محفلین
جی برادران عزیز ، عالمی سیاست کے کار پردازوں نے سب سے پہلے دونوں اقوام کے یہی ہوش کے ناخن ہی تو کتر ڈالے تھے۔ تب سے اب تک ہم مداری کے بندر کی طرح ان کی ڈگڈگی پر ناچ رہے ہیں ،بالخصوص ہر دو ممالک کے حکمران۔ ہمسایوں میں اچھے تعلقات ہوں تو بد خواہ اپنے ارادوں میں کامیاب نہیں ہوا کرتے۔ یورپ کی ترقی کا راز اسی اصول میں مضمرہے اور یہی راز پاکستان اور بھارت جتنی جلدی سمجھ لیں گے ان کے لئے بہتر ہے۔ لیکن ہماری دونوں حکومتوں کی دانشوری ایک دوسرے کے مذاہب پر حملے سے شروع ہوتی ہے اور شدت پسندی کو ہوا دینے پہ ختم ہو جاتی ہے۔ جس کے لئے مختلف افراد اور گروپوں کی مدد بھی لی جاتی ہے۔
بہت نفرت کی فصلیں کاٹ لیں برباد ہو بیٹھے
محبت کا دلوں میں بیج اب بونا ضروری ہے
 

محمد بلال اعظم

لائبریرین
بہت نفرت کی فصلیں کاٹ لیں برباد ہو بیٹھے
محبت کا دلوں میں بیج اب بونا ضروری ہے


درست فرمایا، لیکن اپنے آپ کو اتنا کمزور اور مجبور بھی نہیں کرنا کہ

فاختہ کی مجبوری یہ بھی کہہ نہیں سکتی
کون سانپ رکھتا ہے اس کے آشیانے میں
 
Top