الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے معاملے پر الیکشن کمیشن اور حکومت آمنے سامنے

جاسم محمد

محفلین
الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے معاملے پر الیکشن کمیشن اور حکومت آمنے سامنے
ویب ڈیسک ہفتہ 22 مئ 2021

2181008-ecpxxx-1621686621-652-640x480.jpg

چیف الیکشن کمشنر ٹویٹر پر ویڈیو کے حوالے سے معاملے کی وضاحت دیں، وزیرمملکت اطلاعات۔ فوٹو: فائل


اسلام آباد: الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے معاملے پر الیکشن کمیشن اور حکومت آمنے سامنے آگئے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے معاملے پر الیکشن کمیشن اور حکومت آمنے سامنے آگئے ہیں، الیکشن کمیشن کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ سے صحافی کے وی لاک شیئر کردی گئی، جس میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے استعمال کو تنقید کانشانہ بنایا گیا ہے، ویڈیو کے شیئر ہوتے ہی حکومتی ارکان کی جانب سے بھی بیان سامنے آگئے تو الیکشن کمیشن نے ہلچل مچنے پر ٹویٹ ڈیلیٹ کردی۔ الیکشن کمیشن کا ٹویٹر اکائونٹ آئی ٹی ڈپارٹمنٹ آپریٹ کرتا ہے۔

دوسری جانب تحریک انصاف کے رہنما اور وزیرمملکت برائے اطلاعات و نشریات فرخ حبیب کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن آئینی ادارہ ہے اور یہ ادارہ آئین کے باہر کچھ نہیں کرسکتا، ہر انتخابات کے بعد دھاندلی کا شور مچ جاتا ہے، الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے معاملے کو ابھی پارلیمنٹ میں جانا ہے، اس حوالے سے پہلے ہی الیکشن کمیشن کیسے فراڈ کہہ سکتا ہے۔

فرخ حبیب نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو دیکھنا چاہیے کہ ان کے آفیشل ٹویٹر اکاؤنٹ سے کیسا مواد شیئر کیا گیا، چیف الیکشن کمشنر کو خود آکر اس معاملے کی وضاحت دینی چاہیے۔

دریں اثنا الیکشن کمیشن نے اپنی ٹوئٹ کے حوالے سے وضاحت کردی ہے۔ اس حوالے سے ڈائریکٹر الیکشن کمیشن الطاف خان کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن ٹویٹر اکاونٹ پر ویڈیو محض غلطی سے شئیر ہوئی،الیکشن کمیشن الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے حوالے سے اپنا موقف پہلے ہی پیش کر چکا ہے، الیکشن کمیشن کا آفیشل موقف 20 مئی 2021 کو جاری کیا گیا تھا۔



 

علی وقار

محفلین
الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے معاملے پر الیکشن کمیشن اور حکومت آمنے سامنے
ویب ڈیسک ہفتہ 22 مئ 2021

2181008-ecpxxx-1621686621-652-640x480.jpg

چیف الیکشن کمشنر ٹویٹر پر ویڈیو کے حوالے سے معاملے کی وضاحت دیں، وزیرمملکت اطلاعات۔ فوٹو: فائل


اسلام آباد: الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے معاملے پر الیکشن کمیشن اور حکومت آمنے سامنے آگئے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے معاملے پر الیکشن کمیشن اور حکومت آمنے سامنے آگئے ہیں، الیکشن کمیشن کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ سے صحافی کے وی لاک شیئر کردی گئی، جس میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے استعمال کو تنقید کانشانہ بنایا گیا ہے، ویڈیو کے شیئر ہوتے ہی حکومتی ارکان کی جانب سے بھی بیان سامنے آگئے تو الیکشن کمیشن نے ہلچل مچنے پر ٹویٹ ڈیلیٹ کردی۔ الیکشن کمیشن کا ٹویٹر اکائونٹ آئی ٹی ڈپارٹمنٹ آپریٹ کرتا ہے۔

دوسری جانب تحریک انصاف کے رہنما اور وزیرمملکت برائے اطلاعات و نشریات فرخ حبیب کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن آئینی ادارہ ہے اور یہ ادارہ آئین کے باہر کچھ نہیں کرسکتا، ہر انتخابات کے بعد دھاندلی کا شور مچ جاتا ہے، الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے معاملے کو ابھی پارلیمنٹ میں جانا ہے، اس حوالے سے پہلے ہی الیکشن کمیشن کیسے فراڈ کہہ سکتا ہے۔

فرخ حبیب نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو دیکھنا چاہیے کہ ان کے آفیشل ٹویٹر اکاؤنٹ سے کیسا مواد شیئر کیا گیا، چیف الیکشن کمشنر کو خود آکر اس معاملے کی وضاحت دینی چاہیے۔

دریں اثنا الیکشن کمیشن نے اپنی ٹوئٹ کے حوالے سے وضاحت کردی ہے۔ اس حوالے سے ڈائریکٹر الیکشن کمیشن الطاف خان کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن ٹویٹر اکاونٹ پر ویڈیو محض غلطی سے شئیر ہوئی،الیکشن کمیشن الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے حوالے سے اپنا موقف پہلے ہی پیش کر چکا ہے، الیکشن کمیشن کا آفیشل موقف 20 مئی 2021 کو جاری کیا گیا تھا۔



تحریک انصاف کے خدشات درست اور گھبرانا جائز ہے۔
 

علی وقار

محفلین
ہمیں اپوزیشن میں بتایا گیا تھا کہ ہر جگہ فوج قابض ہے۔ حکومت میں آئے تو پتا چلا فوج کے ساتھ ساتھ ہر جگہ ن لیگ کے وفادار بھی قابض ہیں۔ اب ہم کیا کریں؟ :(

نون لیگ نہیں، فوج (اور ان سے قبل انگریزوں) کی چاپلوسی کرنے والے سیاست دان۔
 

علی وقار

محفلین
الیکشن کمیشنر پاکستان کس کی چاپلوسی کر رہا ہے؟
فارن فنڈنگ کیس بھی تو یہی ادارہ لٹکاتا چلا آیا ہے۔ اصل میں ہر ادارے میں سیاسی بھرتیاں موجود ہیں۔ کچھ پنڈی بوائز کے ہمدرد ہیں، کچھ سیاست دانوں کے جو کہ ہر پارٹی سے ہوتے ہیں۔ یہی حال حتیٰ کہ عدلیہ اور میڈیا کا بھی ہے اور تقریباََ ہر ادارے میں جیو اور اے آر وائی والی کہانی چل رہی ہے۔
 

جاسم محمد

محفلین
فارن فنڈنگ کیس بھی تو یہی ادارہ لٹکاتا چلا آیا ہے۔ اصل میں ہر ادارے میں سیاسی بھرتیاں موجود ہیں۔ کچھ پنڈی بوائز کے ہمدرد ہیں، کچھ سیاست دانوں کے جو کہ ہر پارٹی سے ہوتے ہیں۔ یہی حال حتیٰ کہ عدلیہ اور میڈیا کا بھی ہے اور تقریباََ ہر ادارے میں جیو اور اے آر وائی والی کہانی چل رہی ہے۔
انتہائی افسوس ناک۔ پہلے پاکستانیوں کو ایک قوم بننا چاہیے تھا پھر مغربی جمہوری نظام لاگو کرتے۔ یہاں تو ابھی تک ریاست سے زیادہ ذات برادری کا نظام چل رہا ہے جس نے ملک کے ہر ادارہ کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے :(
Book Review – Political Kinship in Pakistan | Bloomsbury Pakistan
 
آخری تدوین:
پچھلے چند ماہ کی کارکردگی:
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف مہم
پاکستان کی عدالتوں اور ججوں کے خلاف مہم
چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے خلاف مہم
۔۔۔
اور ہے کوئی مخالفت کرنے والا؟
 

علی وقار

محفلین
انتہائی افسوس ناک۔ پہلے پاکستانیوں کو ایک قوم بننا چاہیے تھا پھر مغربی جمہوری نظام لاگو کرتے۔ یہاں تو ابھی تک برادرانہ نظام چل رہا ہے جس نے ملک کے ہر ادارہ کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے :(
Book Review – Political Kinship in Pakistan | Bloomsbury Pakistan
مغربی جمہوری نظام شاید کسی قدر تبدیلی کے ساتھ رائج ہو جائے مگر یہ تب تک مشکل لگتا ہے جب تک کہ ملک معاشی طور پر مستحکم نہ ہو۔ ہر ادارے کا آوے کاآوا بگڑا ہوا ہے۔ ان مسائل کی جڑیں نو آبادیاتی دور و ما قبل سے جڑی ہوئی ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک کافی حد تک مستحکم ہو چکے ہیں اور وہ اس نظام کو چلائے رکھنا چاہتے ہیں مگر بظاہر یہ نظام تیسری دنیا کے ممالک کو ہمیشہ ان کا دست نگر رکھے گا کہ سرمائے کا ارتکاز بے طرح طور پر ان ممالک کے حق میں ہو چکا ہے اور مسئلہ یہ ہے کہ 'غریب ممالک'کے لیے کوئی مفید بہتر متبادل معاشی نظام بھی تشکیل نہ پا سکا۔ اس لیے جدھر سے فنڈنگ آئے گی، یہاں کے رہنے والے اسی طرح رخ کیے رکھیں گے چاہے چین کچھ اچھال دے یا آئی ایم ایف۔ ہم تو بس حکم کے غلام ہیں۔ بہرصورت، یہ الگ بحث ہے، یہاں تو میں نے خواہ مخواہ ہی شروع کر دی ہے۔
 

جاسم محمد

محفلین
پچھلے چند ماہ کی کارکردگی:
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف مہم
پاکستان کی عدالتوں اور ججوں کے خلاف مہم
چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے خلاف مہم
۔۔۔
اور ہے کوئی مخالفت کرنے والا؟
آپ ابھی صرف سوشل میڈیا کیمپین سے اتنا گھبرا گئے ہیں۔ ماضی میں ججوں کیخلاف کیا کیا نہیں ہوتا ہو رہا۔ جمہوری انقلابی نواز شریف نے ۱۹۹۷ میں اپنے غنڈوں کیساتھ سپریم کورٹ کی عمارت پر چڑھائی کر دی تھی۔ وہاں موجود صحافیوں نے چیف جسٹس کو بچایا۔ ان غنڈوں میں المعروف نیلام گھر والے طارق عزیز مرحوم بھی شامل تھے۔
Bitter memories of 1997 contempt case against Sharif
چیف جسٹس پاکستان پر جسمانی حملہ کے باوجود وہ دو سال مزید وزیر اعظم رہا۔ قوم نے جتنا درگزر نواز شریف کے جرائم کو کیا ہے تھوڑا سا درد و رحم عمران خان کیلئے بھی پیدا کر لے۔ اتنا بغض عمران صحت کیلئے اچھا نہیں۔
 

علی وقار

محفلین
آپ ابھی صرف سوشل میڈیا کیمپین سے اتنا گھبرا گئے ہیں۔ ماضی میں ججوں کیخلاف کیا کیا نہیں ہوتا ہو رہا۔ جمہوری انقلابی نواز شریف نے ۱۹۹۷ میں اپنے غنڈوں کیساتھ سپریم کورٹ کی عمارت پر چڑھائی کر دی تھی۔ وہاں موجود صحافیوں نے چیف جسٹس کو بچایا۔ ان غنڈوں میں المعروف نیلام گھر والے طارق عزیز مرحوم بھی شامل تھے۔
Bitter memories of 1997 contempt case against Sharif
چیف جسٹس پاکستان پر جسمانی حملہ کے باوجود وہ دو سال مزید وزیر اعظم رہا۔ قوم نے جتنا درگزر نواز شریف کے جرائم کو کیا ہے تھوڑا سا درد و رحم عمران خان کیلئے بھی پیدا کر لے۔ اتنا بغض عمران صحت کیلئے اچھا نہیں۔
دراصل دو تہائی اکثریت کا خبط سوار تھا اور میاں صاحب سمجھ رہے تھے کہ یہ عددی اکثریت اُن کی شخصیت کا سحر تھا مگر عرصہ ایک دو سال ہی میں عدلیہ بوجوہ متحرک ہو گئی اور میاں صاحب کو خطرہ محسوس ہونے لگا۔ میاں صاحب امیر المومنین بننا چاہتے تھے اور ادھر عدلیہ اور 'وہ' ان کے دو تہائی پر کترنا چاہتے تھے۔ عدالت میں میاں صاحب کی طلبی کے چرچے تھے، بلکہ شاید ہوئی بھی تھی، اور انہیں نکو بنایا جا رہا تھا جو ان کے سپورٹرز کو بھلا کیسے پسند آتا۔ عدلیہ کی غیر معمولی فعالیت ان کو ایک آنکھ نہ بھا رہی تھی۔ دراصل اصل طاقت کا منبع اب بھی ہمارے ہاں ملٹری اسٹیبلشمنٹ ہی ہے اور زیادہ تر ان کی آشیر باد ہی سے مختلف ادارے حرکت میں آتے ہیں اور جیسے ہی یہ ادارے (مثلاََ سپریم کورٹ، ہائی کورٹ، نیب، الیکشن کمیشن یا ٹیکسیشن کے ادارے و دیگر خود مختار و نیم خود مختار ادارے) غیر معمولی فعالیت دکھانے لگ جائیں تو حکومت کو خطرہ محسوس ہونے لگ جاتا ہے۔ یہی حال اس وقت موجودہ حکومت کا ہے اور مجھے خدشہ ہے کہ اس بار ان کے ساتھ ہاتھ ہونے والا ہے۔ آثار بہتر نہیں کیونکہ اسٹیبلشمنٹ دو ڈھائی برس بعد نئی صف بندی شروع کر دیتی ہے اور یہ حکومت کسی صورت عوام میں مقبول نہیں۔ اس حکومت کی مدت کے خاتمے کے بعد شہباز شریف کا چانس بن رہا ہے کیونکہ وہ عمران خان کی نسبت زیادہ تابعدار و فرمانبردار ہیں اور مسلم لیگ نون کے ساتھ بڑھتی دوریوں کو بھی اسی طرح نزدیکیوں میں بدلا جا سکتا ہے کیونکہ اسٹیبلشمنٹ نے بہرصورت کسی نہ کسی طور انہیں بھی شریک اقتدار کرنا ہے اور موجودہ حکومت کو 'سزا'دینی ہی ہے کیونکہ یہ حکومت بھی کافی حد تک باغیانہ روش اپنائے ہوئے ہے۔
 

جاسم محمد

محفلین
دراصل دو تہائی اکثریت کا خبط سوار تھا اور میاں صاحب سمجھ رہے تھے کہ یہ عددی اکثریت اُن کی شخصیت کا سحر تھا مگر عرصہ ایک دو سال ہی میں عدلیہ بوجوہ متحرک ہو گئی اور میاں صاحب کو خطرہ محسوس ہونے لگا۔ میاں صاحب امیر المومنین بننا چاہتے تھے اور ادھر عدلیہ اور 'وہ' ان کے دو تہائی پر کترنا چاہتے تھے۔ عدالت میں میاں صاحب کی طلبی کے چرچے تھے، بلکہ شاید ہوئی بھی تھی، اور انہیں نکو بنایا جا رہا تھا جو ان کے سپورٹرز کو بھلا کیسے پسند آتا۔ عدلیہ کی غیر معمولی فعالیت ان کو ایک آنکھ نہ بھا رہی تھی۔ دراصل اصل طاقت کا منبع اب بھی ہمارے ہاں ملٹری اسٹیبلشمنٹ ہی ہے اور زیادہ تر ان کی آشیر باد ہی سے مختلف ادارے حرکت میں آتے ہیں اور جیسے ہی یہ ادارے (مثلاََ سپریم کورٹ، ہائی کورٹ، نیب، الیکشن کمیشن یا ٹیکسیشن کے ادارے و دیگر خود مختار و نیم خود مختار ادارے) غیر معمولی فعالیت دکھانے لگ جائیں تو حکومت کو خطرہ محسوس ہونے لگ جاتا ہے۔ یہی حال اس وقت موجودہ حکومت کا ہے اور مجھے خدشہ ہے کہ اس بار ان کے ساتھ ہاتھ ہونے والا ہے۔ آثار بہتر نہیں کیونکہ اسٹیبلشمنٹ دو ڈھائی برس بعد نئی صف بندی شروع کر دیتی ہے اور یہ حکومت کسی صورت عوام میں مقبول نہیں۔ اس حکومت کی مدت کے خاتمے کے بعد شہباز شریف کا چانس بن رہا ہے کیونکہ وہ عمران خان کی نسبت زیادہ تابعدار و فرمانبردار ہیں اور مسلم لیگ نون کے ساتھ بڑھتی دوریوں کو بھی اسی طرح نزدیکیوں میں بدلا جا سکتا ہے کیونکہ اسٹیبلشمنٹ نے بہرصورت کسی نہ کسی طور انہیں بھی شریک اقتدار کرنا ہے اور موجودہ حکومت کو 'سزا'دینی ہی ہے کیونکہ یہ حکومت بھی کافی حد تک باغیانہ روش اپنائے ہوئے ہے۔
بھینسوں کی لڑائی میں کھیتوں کا نقصان۔ پچھلے ۲۰ سال سے کوئی حکومت چل رہی ہے نہ معیشت۔ آج ۲۰۲۱ میں بھی پاکستان ۲۰۱۱ والی معاشی فگرز پر ہی کھڑا ہے۔ آگے کنواں ہے تو پیچھے کھائی ہے۔ اس کے باوجود اسٹیبلشمنٹ اور سیاست دانوں کو حکومتیں بنانے و گرانے سے فرصت نہیں۔
 
گزشتہ کچھ ماہ سے لاڈلے کی نالائقیوں سے تنگ آکر محکمۂ زراعت نے یہ تاثر دینے کی کوشش شروع کی ہے کہ ان کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔ نتیجتاً کیا عدالتیں، کیا دیگر ادارے سبھی پر پرزے نکال رہے ہیں۔ میڈیا بدنامی ٹیم! ڈو مور، ڈو مور!!!
 

جاسم محمد

محفلین
گزشتہ کچھ ماہ سے لاڈلے کی نالائقیوں سے تنگ آکر محکمۂ زراعت نے یہ تاثر دینے کی کوشش شروع کی ہے کہ ان کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔ نتیجتاً کیا عدالتیں، کیا دیگر ادارے سبھی پر پرزے نکال رہے ہیں۔ میڈیا بدنامی ٹیم! ڈو مور، ڈو مور!!!
یہ صرف پی ڈی ایم والوں کو بیوقوف بنانے کیلئے ہے۔ پہلے جن مسترد ووٹوں سے یوسف رضا گیلانی سینیٹر بنا۔ پھر انہی مسترد ووٹوں سے سنجرانی چئیرمین سینیٹ کیسے بن گیا؟ ایسے “اتفاق” نہیں ہوتے :)
 

علی وقار

محفلین
بھینسوں کی لڑائی میں کھیتوں کا نقصان۔ پچھلے ۲۰ سال سے کوئی حکومت چل رہی ہے نہ معیشت۔ آج ۲۰۲۱ میں بھی پاکستان ۲۰۱۱ والی معاشی فگرز پر ہی کھڑا ہے۔ آگے کنواں ہے تو پیچھے کھائی ہے۔ اس کے باوجود اسٹیبلشمنٹ اور سیاست دانوں کو حکومتیں بنانے و گرانے سے فرصت نہیں۔
اسٹیبلشمنٹ اپنے تئیں خود کو سب سے بڑھ کر محب الوطن تصور کرتی ہے اور اپنی مخالفت پر کمربستہ بلڈی سویلینز کے بارے میں یہ تاثر اجاگر کرتی ہے کہ یہ غدارِ وطن ہیں یا کرپٹ ہیں حالانکہ ان کی اپنی صفوں میں انتہائی کرپٹ افراد موجود رہے ہیں اور شاید اب تک ہیں۔ اس سے قبل اسٹیبلشمنٹ میڈیا کو دبا دیتی تھی مگر اب زمانے کا چلن ایسا ہے کہ بہت کچھ بدل سا گیا ہے۔فی الوقت انہیں اصل چیلنج سیاست دانوں سے نہیں، حتیٰ کہ پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا سے بھی نہیں، بلکہ سوشل میڈیا سے ہے جہاں کھل کھلا کر سب کا کچا چٹھا کھول کر رکھ دیا جاتا ہے۔ اب وہ ففتھ جنریشن وار فیئر کے نام پر ہر سطح پر میڈیا کو کنٹرول کرنا چاہتی ہے اور مسنگ پرسنز کی تعداد میں سوشل میڈیا پر متحرک افراد بھی شامل ہوتے جا رہے ہیں۔ ایک طرف حب الوطنی کے نام پر یہ ناٹک رچایا جاتا ہے اور دوسری جانب مقامی سطح پر کاروبار کے علاوہ انٹرنیشنل فوڈ چینز اور بیرون ملک جائیدادیں خریدی جا رہی ہیں اور اس حوالے سے پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا سے وابستہ صحافی بات تک نہیں کر پاتے ہیں اور اگر سوشل میڈیا پر شور مچے تو طوفان بدتمیزی بپا کر دینے والی اک بھاری نفری انہوں نے ہائر کر رکھی ہے جو آپ کے پیچھے لگ جائے گی اور یہ نفری آپ کو ایسے بھاشن دیتی ہے کہ آپ خود کو غدار کہنے یا سمجھنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ یہ سلسلہ یوں ہی جاری و ساری ہے اور ہم بوٹوں اور سیاسی رنگروٹوں کی چاہت میں مبتلا افراد دائروں کا سفر طے کر رہے ہیں اور سمجھ رہے ہیں کہ یہ 'سفر'ہمیں نئی منزلوں کی طرف لے جائے گا۔ ہمیں کون سیانا کہے!
 
Top