اصلاح فرمائیں۔۔۔

کلیمی

محفلین
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

میں جامعہ نظامیہ حیدرآباد دکن انڈیا کا طالبِ علم ہوں۔ میں کوئی شاعر نہیں اور نہ ہی شاعری پر دسترس۔۔۔۔بس کبھی کبھار یوں ہی کچھ لکھ لیتا ہوں۔۔

حال ہی میں ہمارے جامعہ کے شیخ الحدیث صاحب وصال فرماگئے۔۔۔احقر نے آپ کی یاد میں ایک کلام لکھا ہے۔۔۔جو اصلح کے لئے پیش ہے۔۔۔

 

کلیمی

محفلین
پہلی بات تو یہ کہ تصویر نظر نہیں آ رہی۔
دوسری بات یہ کہ کلام ٹیکسٹ فارمیٹ میں پیش کریں۔

آنکھ ہے نم دل پریشاں، چل بسے شیخ الحدیث
ہر کوئی اس پر ہے نالاں، ، چل بسے شیخ الحدیث

آپ کے چہرے پہ ہر دم نور کی بارش رہی
تھے عظیم الشان انساں ، چل بسے شیخ الحدیث

دیکھ کر چہرے ان کے یاد آتا تھا سدا
نَضَّرَ اللهُ کا فرماں ، چل بسے شیخ الحدیث

کیا شرَف ان کا کہوں خود نام ہے خواجہ شریف
فضل میں مہرِ دخشاں ، چل بسے شیخ الحدیث

مُرضِعِ آقا حلیمہ سعدیہ سے ہے نسب
حِلم اوت سعْد ان میں پنہاں ، چل بسے شیخ الحدیث

والدہ سادات ہیں بنتِ رسول اللہ ہیں
دونوں جانب سے ہیں ذیشاں ، چل بسے شیخ الحدیث

خدمتِ خیر الورٰی میں زندگی ساری کٹی
وارثِ محبوبِ رحماں ، چل بسے شیخ الحدیث

آپ استاذِ عرب تھے، آپ استاذِ عجم
علم کی دنیا کے سلطاں ، چل بسے شیخ الحدیث

آپ کا درسِ بخاری، مرحبا صد مرحبا
جامعِ علم اور عرفاں ، چل بسے شیخ الحدیث

رکھ دیا "معہد" کی تقویٰ و توکُّل پر اساس
خود خدا اس کا نگہباں ، چل بسے شیخ الحدیث

منطق و فقہ و ادب، تفسیر و عرفان و حدیث
تھا یدِ طولٰی دروشاں، ، چل بسے شیخ الحدیث

کیا شریعت، کیا طریقت، کیا حقیقت، معرفت
تھے ہر اک میں مردِ میداں ، چل بسے شیخ الحدیث

جامعہ کو فخر تھا جس ذات پر وہ آپ تھے
جامعہ پر تھے مہرباں ، چل بسے شیخ الحدیث

مصطفیٰ کے عشق سے آباد تھا دل کا جہاں
ہے یہی بنیادِ ایماں ، چل بسے شیخ الحدیث

آخری دم تک نہیں چھوٹی "دلائل" آپ سے
مغفرت کا لے کے ساماں ، چل بسے شیخ الحدیث

سنتِ آقا ہر اک حرکت میں آتی تھی نظر
اور نظر آتا تھا قرآں ، چل بسے شیخ الحدیث

بو حنیفہ کا قلادہ آپ کی گردن میں تھا
تھے مُریدِ شاہِ جیلاں ، چل بسے شیخ الحدیث

حضرتِ انوار بھی کرتے رہے یوں التفات
آپ پر ہت وقت و ہر آں ، چل بسے شیخ الحدیث

شاہِ عبد اللہ بھی سایہ فگن ان پر ہوئے
ساتھ تھا طاہر کا فیضاں ، چل بسے شیخ الحدیث

ترجمہ کیسا "زجاجہ" کا کیا ہے بہترین
بالیقیں ان کا ہے احساں ، چل بسے شیخ الحدیث

"ثروۃُ القاری" نے پہنچایا بخاری تک ہمیں
کردیا مشکل کو آساں ، چل بسے شیخ الحدیث

مثلِ پروانے سبھی طُلَباء کا رہتا تھا ہجوم
بجھ گئی شمعِ فروزاں ، چل بسے شیخ الحدیث

آخری ایام میں طیبہ نگر کو چل دئے
بن کے شاہِ دیں کے مہماں ، چل بسے شیخ الحدیث

چل دئے مُلکِ عدم کو ہاتھ میں تھامے ہوئے
شاہِ جیلانی کا داماں ، چل بسے شیخ الحدیث

موت عالِم کی ہوا کرتی ہے اک عالَم کی موت
لے کے اک دنیا بہ داماں ، چل بسے شیخ الحدیث

جامعہ خاموش ہے، معہد پہ ہے سکتہ پڑا
جسم میں گویا نہیں جاں ، چل بسے شیخ الحدیث

آپ کے متعلقیں کو صبر دے ربِ کریم
ہے دعا اپنی یہ ہر آں ، چل بسے شیخ الحدیث

ائے خداوندِ لطیف ان کو ملے اعلیٰ مقام
خلد میں با عزت و شاں ، چل بسے شیخ الحدیث

از : محمد لطیف الحسن۔۔تخلص "لطیف"
 
Top