اقتباسات اشفاق احمد کی کتاب " زاویہ ۲ " سے اقتباس

سید زبیر نے 'مطالعہ کتب' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مئی 28, 2013

  1. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    جی وہ سوال ہی موجود نہیں ہے۔ میرا مقصد یہ تھا کہ اشفاق احمد نے مسلمانوں کی موجودہ تعداد کے بارے بات کی تھی جب اتنے لوگوں سے فرق نہیں پڑ رہا تو چند سو گورے مسلمان ہوئے تو کیا فرق پڑ جائے گا
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  2. ایچ اے خان

    ایچ اے خان معطل

    مراسلے:
    14,183
    موڈ:
    Cool
    معاملہ نہ تعداد کا ہے نہ فرق پڑنے کا ہے
    نہ ہی یہ مطلوب ہے کہ مسلمان پوری دنیا میں حکمران ہوں
    یہاں تو کھیل ہی کچھ اور ہورہا ہے
     
    • غمناک غمناک × 1
  3. سید زبیر

    سید زبیر محفلین

    مراسلے:
    4,362
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Dunce
    کاش غزوہ بدر جیسی صفات کے حامل اگر تین سو تیرہ بھی اس وقت ہوتے تو شاید حالات کفی مختلف ہوتے۔ بہر حال اپنی اپنی رائے ہے ۔
     
    • متفق متفق × 3
  4. عمراعظم

    عمراعظم محفلین

    مراسلے:
    1,833
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    خوبصورت تحریروں سے خوبصورت اقتسابات ۔ پڑھ کر بہت اچھا لگا محترم سید زبیر بھائی۔
    میری ناقص رائے میں ڈیپریشن کوئی بیماری نہیں ہے بلکہ خود ہماری یا ہمارے معا شرے کی کج روی کا شاخسانہ ہے۔حکیم الاُمت علامہ اقبال جیسی شخصیات اب ہم میں نہ رہیں جو ہماری نبض پر دسترس رکھتی تھیں اور ہمارے امراض کا شافی علاج تشخیص کیا کرتی تھیں۔ میرے خیال سے ڈیپریشن کی جڑیں ہمارے عمومی روّیوں سے پھوٹ رہی ہیں۔ جن میں خود غرضی، جھوٹ ،فریب،دھوکہ دہی ، غربت وافلاس، متشددانہ رویے، جہالت،نفرت و تفریق اور تحقیق و اصلاح سے بے رخی جیسے عوامل اپنا مجرمانہ کردار ادا کر رہے ہیں۔ اللہ ہم پر اپنا فضل فرمائے۔آمین
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  5. لاريب اخلاص

    لاريب اخلاص محفلین

    مراسلے:
    18,631
    ڈیپریشن کا علاج بونگی سے بھی کہیں ہوتا ہو گا۔ ہاں البتہ دوستیں نہ ہوتیں تو بونگیاں نہ ہوتی:)
     
  6. سیما علی

    سیما علی لائبریرین

    مراسلے:
    5,210
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    ہم نے کئی بیماریوں پر قابو پا لیا ہے ۔ یا کم ازکم انہیں محدود کر کے مقید کردیا ہے ۔ لیکن اس صدی کی سب سے خطرناک بیماری وہ ہے کہ جب انسان اس میں مبتلا ہو جاتا ہے تو خود کشی پر مائل ہو جاتا ہے ۔ اپنے آپ کو تباہ کرنے کی تدبیریں کرنے لگتا ہے ۔ اس بیماری کو کیا نام دوں ۔ کہ اس کو کوئی نام دیا جانا بہت ہی مشکل ہے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ جب انسان کے دل کے اندر محبت کی باؤلی سوکھنے لگتی ہے تو یہ بیماری پیدا ہوتی ہے۔
    اس دنیا میں سب سے بڑا افلاس محبت کی کمی ہے ۔ جس شخص میں محبت کرنے کی صلاحیت ہی پیدا نہیں ہوئی وہ اپنے پرائیویٹ دوزخ میں ہر وقت جلتا رہتا ہے ۔ جو محبت کر سکتا ہے وہ جنت کے مزے لوٹتا ہے ۔ لیکن محبت کا دروازہ ان لوگوں پر کھلتا ہے جو اپنی انا اور اپنے نفس سے منہ موڑ لیتے ہیں ۔ اپنی انا کو کسی کے سامنے پامال کر دینا مجازی عشق ہے ۔ اپنی انا کو بہت سوں کے آگے پامال کر دینا عشقِ حقیقی ہے
    (زاویہ 3 سے اقتباس)
     

اس صفحے کی تشہیر