اسمائےحسنیٰ ۔ تحریر: سلمیٰ شیخ مرحومہ (سکاٹ لینڈ)

صاد الف

محفلین
اللہ سبحان تعالیٰ کی ذات انسانی آنکھوں سے اوجھل ہے۔ کیونکہ اِن آنکھوں میں وہ سکت نہیں کہ وہ اس نور کی شدت اور عظمت کو برداشت کر سکے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اپنا تعارف اپنی نشانیوں کے ذریعہ کروایا ہے۔ اور اپنے بندوں کو دعوت دی کہ مجھ تک پہنچنے کے لئے میری نشانیوں پر غور کرو۔ جتنا ان نشانیوں پر غور کروگے اتنا ہی میری ہستی اور میری ذات کو پہچاننے میں اور جاننے میں مدد ملے گی۔ چنانچہ اللہ پر ایمان لانے والےدن رات ان آیات پر ان نشانیوں پرغور کرتے ہیں اور اللہ سبحان تعالیٰ سے قریب ہو جاتے ہیں۔ اللہ کے دین کا علم حاصل کرنے والے بھی قرب الہیٰ کے متمنی اور کوشش کرنے والے ہوتے ہیں۔ اللہ کے دین کا علم حاصل کرنے کے لئے اللہ کی کتاب سے تعلق جوڑتے ہیں۔ اور اللہ کی کتاب سے تعلق جوڑنے کے لئے اللہ سے قریب تر ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور اللہ سے قریب تر ہونے کے لئے اس کی ذات اور اس کی صفات کو پہچانتے ہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’ اللہ تعالیٰ کے ۹۹ نام ہیں، جس نے ان ناموں کو یاد کیا ، ان پر غور کیا اور ان صفات کو جانا وہ جنت میں جائے گا۔‘‘
اس کا یہ مطلب نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے صرف ۹۹ نام ہیں ۔ بلکہ ان ناموں کی تعداد۲۰۰ سے زائد تک بتائی جاتی ہے جو احادیث مبارکہ اور قرآن سے پتہ چلتے ہیں۔
اپنے ان ناموں کے بارے میں خود اللہ سبحان تعالیٰ کا فرمان ہے کہ: ’’اوراللہ کے اچھے اچھے نام ہیں۔ تم اس کو انہی ناموں کے ساتھ پکارو۔‘‘
اللہ تعالیٰ کو اس کے اچھے اچھے ناموں سے پکارنے سے اس کی رحمت خداوندی جوش میں آتی ہے جو قبولیت دعا کے لئے مددگار ہے۔ اللہ تعالیٰ کے خوبصورت ناموں کے معنیٰ جاننے سے اس کی قدرتِ کمال اور عظمت و بزرگی اور علم و دانائی کے راز کھلتے ہیں۔ اور ان صفات پر دل سے یقین رکھنے والے کو ایک مضبوط سہارا مل جاتا ہے۔ اور بہت سے غموں کا علاج میّسرآجاتا ہے۔ ان صفات کو جاننے سے اللہ کی محبت بڑھتی ہے اور دل اللہ کی محبت سے سرشار ہو جاتا ہے۔
حضرت انس ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کیا میں تم کو ایسے لوگ نہ بتاؤں جو نہ نبی ہوں گے اور نہ ہی شہید لیکن اللہ کے ہاں ان کا اتنا اونچا مقام ہوگا کہ نبی او ر شہید بھی ان کو دیکھ کر خوش ہوں گے۔ وہ نور کے خاص منبروں پر بیٹھے ہوں گے اور پہچانے جائیں گے۔ صحابۂ کرام نے پوچھا اے اللہ کے رسولﷺ وہ کون لوگ ہوں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا جو لوگ اللہ کے بندوں کو اللہ کا محبوب اور اللہ تعالیٰ کو اس کے بندوں کا محبوب بناتے ہیں۔ یعنیٰ بندوں کو اللہ سے جوڑتے ہیں اور بندوں کے اندر ایسی صفات پیدا کرتے ہیں کہ اللہ ان سے محبت کرے۔ زمین پر بھلائی پھیلاتے ہیں۔ حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہﷺ یہ بات تو سمجھ میں آتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اس کے بندوں کا محبوب بنائیں گے مگر یہ سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ اللہ کے بندوں کو اللہ کا محبوب کس طرح بنائیں گے کہ اللہ بھی بندوں سے پیا ر کرے؟ آپﷺ نے فرمایا کہ وہ اللہ کے بندوں میں دین کی طلب پیدا کرتے ہیں۔ ان کو برے کاموں سے روکتے اور اللہ کے پسندیدہ کاموں کا حکم دیتے ہیں۔ اور جب بندے اللہ کے پسندیدہ کام کرنے لگتے ہیں تو وہ اس کے محبوب بن جاتے ہیں۔ (بہیقی)
اللہ سبحان تعالیٰ کے ۹۹ نام دراصل اللہ تعالیٰ کی صفات ہیں۔ ان صفات کو جانتے ہوئے سب سے پہلے دل سے ان پر یقین کیا جائے۔ اور یہ صفت اپنے اندر بھی پیدا کرنے کی کوشش کی جائے۔ اگر اللہ تعالیٰ رحمٰن ہے تو میں بھی اس کے بندوں پر رحم کرنے والا بن جاؤں۔ اسی طرح ان ناموں کے معنیٰ جاننے کا اصل مقصد ایک طرف اللہ کی ہستی کو جاننا اور پہچاننا ہے اور دوسری طرف اللہ کا محبوب بننے کے لئے یہ صفات اپنے اندر پیدا کرنا ہے۔ تب ہی وہ تعلق قائم ہوگا کہ بندہ اللہ سے محبت کرے اور اللہ بندے سے محبت کرے۔ پھر اس کے ساتھ اللہ کے بندوں میں بھی اللہ کی محبت پیدا کی جائے۔ کہ اللہ سے محبت کرنا بہت ہی اعلیٰ درجہ کی نیکی ہے۔ اس کے ساتھ اس بندے کی خوش نصیبی کا کیا ٹھکانہ جو دوسروں کے دل میں بھی اللہ کی محبت کی لو لگائے اور روشنی چمکائے۔ تو ان ناموں کے معنیٰ جان کر ان صفات کا عکس سب سے پہلے اپنے اندر پیدا کیا جائے۔ اور پھر دوسروں کے دل میں بھی تاکہ مخلوق خالق سے جڑ جائے۔
 

صاد الف

محفلین
اللّٰہ
اسمائے حسنیٰ میں سب سے پہلا نام اللہ ہے۔ یہ نام صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے لئے ہی مخصوص ہے۔ کسی بھی دوسری مخلوق یا کسی بھی اور چیز کا یہ نام ہو ہی نہیں سکتا۔ اللہ تعالیٰ کا یہ نام اس کا اسم ذات بھی ہے اور اس کی عظمت و بزرگی اور وحدانیت کو ظاہر کرتا ہے۔ اس لفظ میں استعمال ہونے والے تمام حروف بھی اوپر کو اٹھے ہوئے ہیں اور اسی طرح بلندی کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اسی طرح اس لفظ کی ادائیگی میں ادا ہونے والے مخارج بھی زبان کے اوپری حصہ اور سینہ کے اوپری حصہ سے ادا ہوتے ہیں۔ اسی طرح اس لفظ کی ادائیگی میں بھی آواز اوپر کو اٹھی ہوتی ہے۔ اس لفظ کی ادائیگی میں اس کا لحاظ رکھنا ازحد ضروری ہے تا کہ اس لفظ کا صحیح حق ادا ہو سکے۔ اللہ پکارتے ہوئے آواز صرف ’’ل‘‘ پر آکر نہ رک جائے بلکہ ’’ہ‘‘ کی ادائیگی پوری طرح سے کی جائے۔ اور آواز نکالتے ہوئے سینہ کی حرکت کو محسوس کیا جائے۔ تب ہی اللہ کا نام دل میں اترتا ہوا محسوس ہو گا۔ اسی طرح اللہ کا ’’ل‘‘ ادا کرتے ہوئے ’’ل‘‘ کو بھرے ہوئے منہ سے ادا کیا جائے۔ اور کھڑا زبر کی ادائیگی پوری طرح ہو۔ اللہ ، اللہ ، اللہ ۔
اسی طرح اللہ کے نام کے ساتھ اللہ تعالیٰ ، اللہ سبحانہُ و تعالیٰ ، اللہ بزرگ و بر تر ، اللہ رب العزت استعمال کرنا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ کے نام کو بغیر ’’ہ‘‘ کی آواز کے نکالنے سے پرہیز کرنا چاہئے۔ اسی طرح اللہ میاں کی بجائے اللہ سبحانہُ و تعالیٰ کا نام انتہائی عزت و احترام اور انتہائی محبت و عقیدت کے ساتھ لینا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ ’’تُو‘‘ اس کی وحدانیت کی اظہارکے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ اور رسول اللہﷺ کے اپنے عمل سے یہ ثابت ہے کہ آپؐ نے اللہ تعالیٰ کو کہیں ’’تُو‘‘ اور کہیں ’’آپ‘‘ کہہ کر پکارا تاکہ اللہ کی وحدانیت اور اس کے تنہا ہونے میں کسی بھی قسم کا کوئی شائبہ نہ پیدا ہو۔
اللہ تعالیٰ کو اپنا یہ نام سب سے زیادہ پسند ہے۔ قرآن پاک میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والا نام اللہ ہی ہے۔ بندوں کے لئے بھی ’’عبداللہ‘‘ اللہ تعالیٰ کا سب سے پسندیدہ نام ہے۔
 

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
رسول اللہﷺ کے اپنے عمل سے یہ ثابت ہے کہ آپؐ نے اللہ تعالیٰ کو کہیں ’’تُو‘‘ اور کہیں ’’آپ‘‘ کہہ کر پکارا تاکہ اللہ کی وحدانیت اور اس کے تنہا ہونے میں کسی بھی قسم کا کوئی شائبہ نہ پیدا ہو۔
برادرم صغیر احمد ، یہ عمل جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب کیا ہے کیا آپ اس کے بارے میں کسی حدیث کا حوالہ دے سکیں گے؟
عربی میں آپ اور تو کے لیے علیحدہ الفاظ موجود نہیں ہیں ۔ مخاطب واحد مذکر کے لیے صرف ایک ہی لفظ انت استعمال ہوتا ہے ۔تو ، تم ، آپ وغیرہ کے الفاظ تو اردو میں ہوتے ہیں۔
 

صاد الف

محفلین
برادرم صغیر احمد ، یہ عمل جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب کیا ہے کیا آپ اس کے بارے میں کسی حدیث کا حوالہ دے سکیں گے؟
عربی میں آپ اور تو کے لیے علیحدہ الفاظ موجود نہیں ہیں ۔ مخاطب واحد مذکر کے لیے صرف ایک ہی لفظ انت استعمال ہوتا ہے ۔تو ، تم ، آپ وغیرہ کے الفاظ تو اردو میں ہوتے ہیں۔
نشاندہی کے لئے شکریہ جناب ظہیر صاحب، یہ میری تحریر نہیں ہے لیکن یہاں لگانے سے قبل مذکورہ حصہ کی پڑتال نہ کرنے پر اپنی کوتاہی کا اقرار کرتا ہوں. تدوین کی کوشش کی لیکن کرنے سے قاصر ہوں. معذرت قبول فرمائیں. شکریہ
 

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
نشاندہی کے لئے شکریہ جناب ظہیر صاحب، یہ میری تحریر نہیں ہے لیکن یہاں لگانے سے قبل مذکورہ حصہ کی پڑتال نہ کرنے پر اپنی کوتاہی کا اقرار کرتا ہوں. تدوین کی کوشش کی لیکن کرنے سے قاصر ہوں. معذرت قبول فرمائیں. شکریہ
کسی اور کی تحریر پوسٹ کرتے وقت بعض اوقات ایسا ہوجاتا ہے ، صغیر صاحب۔ اور کسی کے ساتھ بھی ایسا ہوسکتا ہے۔ بندہ بشر ہے۔ میری کوشش ہوتی ہے کہ جہاں میں کسی شاعر کا شعر یا غزل پوسٹ کرتے وقت اس کی صحت پر توجہ دیتا ہوں ا س سے کہیں زیادہ احتیاط کوئی بات اللہ یا اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب کرتے یا حوالہ دیتے وقت برتتا ہوں ۔
تدوین کا اختیار تو چوبیس گھنٹے تک ہی ہوتا ہے ۔ اس کے بعد کسی مراسلے میں تدوین تو صرف مدیر حضرات ہی کر سکتے ہیں ۔ میں مدیران کو ٹیگ کردیتا ہوں تاکہ وہ اس جملے کو آپ کے مراسلے سے حذف کردیں۔
محب علوی ، نبیل ، محمد تابش صدیقی
 
آخری تدوین:
Top