اسلام اور تصوف

حسن نظامی

لائبریرین
نبیل بھائی السلام علیکم

جس طریقہ کار کا ذکر آپ نے کیا وہ بھی مناسب ہے مگر میری ایک عرض یہ ہے کہ

کسی بھی موضوع پربحث شروع کرنے کے بعد چند دن تک اس دھاگے کو کھلا رکھا جائے یا پھر یوں کیا جائے کہ
ایک اور دھاگہ بنا لیا جائے جس میں اس بحث میں حصہ لینے کے خواہشمند حضرات اپنے نام پیش کریں

اس کے بعد چن لیا جائے اور باحثین کو مقرر کر دیا جائے

بلکہ مناسب تو یہ ہو گا کہ دو گروپ بنا لئے جائیں


اس کے بعد چند لوگوں کو بطور منصفین رکھا جائے جو کہ غیر متعلقہ بندے ہوں

بحث موضوع پر کی جائے جو کسی بھی قسم کی غلط بات کرے یا جذباتی ہو اسے بحث سے الگ کر دیا جائے

ہر فریق کو موقف کی صحیح وضاحت کرنے کا کہا جائے
اور اس کے بعد موضوع پر رہنے کا پابند کر دیا جائے


اب آپ اس دھاگے کو دیکھیں

اگرچہ بہت سے نتائج نکل چکے ہیں مگر پھر بھی ابھی تک کسی نے کچھ تسلیم نہیں کیا

نہ تو شاکرالقادری صاحب اور خرم بھائی نے
اور نہ ہی باذوق بھائی اور قیصرانی بھائی نے

بات وہیں کی وہیں ہے

یہ تو سراسر مناظرہ بن چکا ہے مباحثہ رہا ہی نہیں

ہر کوئی اپنی ہانک لگا رہا ہے ﴿میرے سمیت﴾

آپ از راہ نوازش بحث سیکشن کے قواعد بنا دیں تاکہ ان کی پابندی کی جائے

اور اس دھاگے سے بھی فالتو باتوں کو ہٹا کر نچوڑ نکالنا چاہئے

اب تک کیا نتیجہ نکلا کچھ علم نہیں

میں نے کوشش تو کی تھی مگر میرا خیال ہے میں تمام نتائج اخذ نہیں کر سکا اور ویسے بھی میری ہمدردیاں تو ایک خاص گروہ کے ساتھ ہوں اس لئے جناب من کچھ کریں


والسلام
 

ماہ وش

محفلین
اسلام اور تصوف کے پہلے صفحے پر ہی مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ بہت جلد یہ بحث تصوف کی تعریف سے نکل کر فرقہ اور مسلک تک پہنچ جائے گی۔ اس لئے خود کو اس بحث سے الگ ہی رکھا حالانکہ میرا نہ صرف تصوف پر غزالی کی تلاش حق سے داتا صاحب کی کشف المحجوب تک مطالعہ ہے بلکہ موجودہ دور کے صوفی سلسلوں اور مسالک کی کتب پڑھنے کا اتفاق بھی رہا ہے ۔ میرا اپنا رجحان بھی خارق العادات کی جانب رہا ہے اور ما بعد النفسیات و طبیعات میرا پسندیدہ موضوع رہے ہیں ، لیکن یہاں جو بحث پہلے دن سے چل پڑی ہے وہ تصوف ، دھیان گیان اور پیرا سائیکالوجی سے یکسر الگ ہے ، فریقین نہ تو تصوف کی جامع تعریف کر سکے ہیں اور نہ ہی اس کے مکینزم پر کوئی بات ہو سکی ہے ۔ بلکہ بات کو اسلامی اور غیر اسلامی کی بحث میں الجھا دیا گیا ہے ۔۔ یہاں اس نکتہ پر میں نبیل سے متفق ہوں کہ اس دھاگے کو مقفل کر دیا جائے اور اس میں سے وہ مواد مدون کر دیا جائے جس سے کسی بھی پہلو سے کسی بھی شخص ، مذہب ، فرقے یا مسلک کی دل آزاری ہوتی ہو یا کسی کو ایسا محسوس ہوا ہو ۔ ۔ ۔ ۔ ایک تجویز یہ بھی ہے کہ اس قسم کے موضوعات پر کھلی بحث کے بجائے اس بارے میں موجود مواد شائع کردیا جائے ، جو چاہے پڑھے جو چاہے نہ پڑھے ۔ کم از کم ان کا تو بھلا ہوگا جو صرف معلومات میں اضافے کے لئے کچھ پڑھنا چاہتے ہیں ۔۔
آخر میں صوفیہ کا ایک مقبول قول نقل ہے ۔۔
من عرفہ نفسہ فقد عرفہ رب

میرے خیال میں تو یہ تصوف کی بڑی جامع تعریف ہے

رہے نام اللہ کا ۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔ ۔
 

خرم

محفلین
ارے ارے برادر حسن اور بہن مہوش کیا ہو ا بھئی؟ ایسے نہیں۔ پہلی بات تو یہ کہ نا تو میرے خیال میں اس بات چیت کا مقصد کسی کو متاثر کرنا ہے اور نا ہی نیچا دکھانا۔ میرے خیال میں تو بات اتنی سی ہے کہ ہمارے بھائیوں کو تصوف کے بارے میں جاننے کا شوق ہے اور ہم کیونکہ اس راہ پر چلنے کے خواہش مندوں میں اپنا شمار کرتے ہیں اس لئے دامے درمے سخنے جو اپنی سمجھ میں‌بات ہے اسے بیان کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مقصد بات منوانا نہیں‌اپنی بات دوسروں تک پہنچانا ہے۔ باقی بزرگوں نے جو بات سمجھائی وہ تو صرف یہ‌ کہ تصوف یا طریقت تو بس تاجدارِ حرم کی صحیح غلامی اختیار کرنے کا نام ہے اور بس۔ جب عبادت ایک فرض یا اطاعت یا شوق سے آگے بڑھ کر الفاظ و افعال سے بے نیاز ہو جائے اور انسان کے مطمع نظر صرف مالک الملک کی رضا اور خوشنودی رہ جائے اور وہ اپنی ہر خواہش و عمل کو مالک کی خوشنودی سے وابستہ کر لے بس اس مقام پر پہنچنے کی کوشش کا نام تصوف یا طریقت ہے۔ جو مہوش بہن نے مابعد النفسیات و طبیعیات کی بات کی تو میری ناقص عقل کے مطابق اہل سلوک کے لئے نا تو یہ مقصود ہیں اور نہ مطلوب۔ اصل حقیقت صرف مالک الملک کی رضا ہے اور جو کچھ بھی اس کے سوا ہے باطل ہے اور دھوکہ ہے۔
 

باذوق

محفلین
کچھ گذارشات

کل پورا دن میری طرف اردو محفل ڈاؤن تھی ۔۔۔ لہذا جو کل لکھ رکھا تھا وہ آج پوسٹ کر رہا ہوں ۔

سب سے پہلے کچھ گذارشات ۔

- براہ مہربانی یہ مغالطہ نہ دیا جائے کہ یہ دھاگہ باذوق نے شروع کیا ہے ۔ کسی دوسرے دھاگے میں بات ہو رہی تھی تو ماڈریٹر نے کچھ پوسٹس کو علحدہ دھاگے کی شکل میں تقسیم کر دیا ۔۔۔ میری پوسٹ اس دھاگے میں سب سے پہلے ہونے کے سبب تکنیکی طور پر یہ دھاگہ میرے نام موسوم ہو گیا ہے ۔
- اس بحث میں ، خاکسار نے ابھی تو شروعات بھی نہیں کی ہے ۔۔۔ اسی وجہ سے تو میری ہر پوسٹ کے اختتام پر ’جاری ہے‘ کے الفاظ تحریر ہوتے ہیں ۔ جس دن بھی میں اپنی بات ختم کروں گا ، انشاءاللہ ضرور بتا دوں گا کہ : میں نے جو موقف بیان کرنا تھا وہ ختم کر چکا ہوں !
- نتائج اخذ کرنے کی ذمہ داری قاری پر چھوڑ دینا چاہئے ۔۔۔ بحث کے فریقین کو حق نہیں ہوتا کہ اپنی مرضی کے یکطرفہ نتائج کو قاری کے سامنے پیش کر کے فیصلہ صادر کریں کہ ’اب تک کی بحث میں یہ یہ نتیجہ سامنے آیا ہے‘۔
- میرا اب تک کا تجربہ ہے کہ اس طرح کے دینی و علمی مباحث سے فریقین مخالف نظریہ برسرِعام قبول نہیں کیا کرتے اور نہ ہی برسرِ عام کوئی واضح نتیجہ سامنے آتا ہے ۔ یہ کوئی کرکٹ کا گیم نہیں کہ ایک ٹیم جیت جائے اور دوسری شکست کھائے ۔ درحقیقت فریقین کو انٹرنیٹ پر اور بالخصوص اردو محفل پر علمی مباحث میں حصہ لیتے ہوئے یہ یاد رکھنا چاہئے کہ : ہم اپنے لیے نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کی خاطر علم کی اشاعت میں مصروف ہیں ۔ جب یہ ہمارا نصب العین بن جائے تو بحث کا نتیجہ یا نتائج ہمارے لیے چنداں اہمیت نہیں رکھیں گے ۔
- ہم تمام کتب کا مطالعہ کرتے ہیں ۔۔۔ سب کو پتا ہے کہ کہاں کہاں کیا کیا لکھا گیا ہے ۔۔۔ جس کو حقیقی دلچسپی ہوتی ہے وہ کسی مخصوص لائیبریری کو جا کر متعلقہ موضوع پر کتب ڈھونڈ کر ریسرچ کر لیتا ہے ۔ اہمیت تو تب ہے جب ہم اس ریسرچ کو خود تک محدود رکھنے کے بجائے ، اپنے الفاظ اور اپنی ترتیب سے کمپوز کر کے اردو تحریر میں مستقبل کی ڈیجیٹل لائیبریری کا حصہ بنائیں ۔ تاکہ آنے والی نسل کو بذریعے انٹرنیٹ تحقیق کے لیے آسانی نصیب ہو ۔
کم سے کم راقم الحروف تو اسی نظریے کے تحت تحقیقی مباحث میں حصہ لیتا ہے ۔

---
میں برادر خرم کی بات سے اتفاق کروں گا کہ :
مقصد بات منوانا نہیں ‌اپنی بات دوسروں تک پہنچانا ہے ۔
میں درج بالا قول میں لفظ ’اپنی‘ کی شمولیت سے اختلاف کروں گا ۔
ہرچند کہ محسوس یہی ہوتا ہے کہ ہم اپنے اپنے خیالات بیان کر رہے ہیں مگر درحقیقت یہ تو وہی سوچ ہے جو صدیوں سے چلی آ رہی ہے ۔ اور اس نظریے کے متعلق ہر دو طرفہ کتابیں موجود ہیں ۔ ہمارا کام یہاں یہ ہو رہا ہے کہ ہم قارئین کی سہولت اور اپنی ترتیب سے بات کو پہنچا رہے ہیں ۔۔۔
 

خرم

محفلین
بجا ارشاد باذوق بھائی۔ مقصد تو صرف یہی ہے کہ “بات“ دوسروں تک پہنچائی جائے۔ اب چلئے آپ ہی سلسلہ کو آگے بڑھائیے اور کچھ ارشاد فرمائیے۔
 

رضوان

محفلین
بات جب تصوف اور صوفیاء کی ہوگی تو ان کا مسلک بھی اپنانا ہوگا کہ سب کی بات سنی اور برداشت کی جائے۔
پابندیاں اور قدغنیں اینٹی بائیوٹک کی طرح علامات تو دبا دیتی ہیں لیکن مزاحمتی لاوہ اندر ہی اندر پکتا رہتا ہے اور پھر اسے پھٹنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ ویسے بھی میں لکھوں اور بولوں گا نہیں تو سیکھوں گا کیسے کہ صوفیا کی مجالس کے کیا آداب تھے؟؟؟ وہاں تو ہر طرح کے لوگ آتے اور اظہارِ خیال کرتے تھے یہی تو فرق تھا اہلِ اقتدار کے دربار اور صوفیاء کی مجالس میں ۔
ہمیں بھی برداشت اور دھیرج کو پھر سے اپنانا اور پھیلانا چاہیے۔ وقت نے ہمیشہ ثابت کیا ہے کہ صبر و استقامت ہی سب سے بڑے ہتھیار ہیں۔
 

شاکرالقادری

لائبریرین
ماہ وش نے کہا:
تصوف اسلام کا مسئلہ ہے نہ مسلمانوں‌ کا ، دنیا کی ہر تہزیب اور مزہب میں اس قسم کے غیر عقلی فلسلفہ کی بھرمار ہے جس کا ثبوت صرف اور صرف کہاوتوں اور کہانیوں‌سے دیا جاتا ہے ۔ لوگ تو اب بھی زمین کو کائینات کا محور قرار دینے پر تلے ہوئے ہیں ، اور مختلف مدارس میں‌جنوں‌کی جماعتیں‌آج بھی حصول علم کے لئے استاد محترم کے آگے سر جھکاتی ہیں‌، رہے نام اللہ کا
ماہ وش اوپر کوٹ کیے گئے الفاظ بھی آپ کے ہیں اور درج ذیل تحریر بھی آپ کی ہے
کیا آپ ان دونوں میں تطبیق کرنا چاہیں گے

اسلام اور تصوف کے پہلے صفحے پر ہی مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ بہت جلد یہ بحث تصوف کی تعریف سے نکل کر فرقہ اور مسلک تک پہنچ جائے گی۔ اس لئے خود کو اس بحث سے الگ ہی رکھا حالانکہ میرا نہ صرف تصوف پر غزالی کی تلاش حق سے داتا صاحب کی کشف المحجوب تک مطالعہ ہے بلکہ موجودہ دور کے صوفی سلسلوں اور مسالک کی کتب پڑھنے کا اتفاق بھی رہا ہے ۔ میرا اپنا رجحان بھی خارق العادات کی جانب رہا ہے اور ما بعد النفسیات و طبیعات میرا پسندیدہ موضوع رہے ہیں ، لیکن یہاں جو بحث پہلے دن سے چل پڑی ہے وہ تصوف ، دھیان گیان اور پیرا سائیکالوجی سے یکسر الگ ہے ، فریقین نہ تو تصوف کی جامع تعریف کر سکے ہیں اور نہ ہی اس کے مکینزم پر کوئی بات ہو سکی ہے ۔ بلکہ بات کو اسلامی اور غیر اسلامی کی بحث میں الجھا دیا گیا ہے ۔۔ یہاں اس نکتہ پر میں نبیل سے متفق ہوں کہ اس دھاگے کو مقفل کر دیا جائے اور اس میں سے وہ مواد مدون کر دیا جائے جس سے کسی بھی پہلو سے کسی بھی شخص ، مذہب ، فرقے یا مسلک کی دل آزاری ہوتی ہو یا کسی کو ایسا محسوس ہوا ہو ۔ ۔ ۔ ۔ ایک تجویز یہ بھی ہے کہ اس قسم کے موضوعات پر کھلی بحث کے بجائے اس بارے میں موجود مواد شائع کردیا جائے ، جو چاہے پڑھے جو چاہے نہ پڑھے ۔ کم از کم ان کا تو بھلا ہوگا جو صرف معلومات میں اضافے کے لئے کچھ پڑھنا چاہتے ہیں ۔۔
آخر میں صوفیہ کا ایک مقبول قول نقل ہے ۔۔
من عرفہ نفسہ فقد عرفہ رب
میرے خیال میں تو یہ تصوف کی بڑی جامع تعریف ہے

رہے نام اللہ کا ۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔ ۔

اور اس میں کوئی شک نہیں کہ معرفت ذات معرفت حق کی جانب لے جانے والا زینہ ہے
اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ ذکرو فکر ﴿جسے آپ نے ہندو اصطلاح گیان دھیان سے موسوم کیا ہے﴾ تصوف کے احوال و مقامات میں شامل ہے لیکن یہ یاد رہہے کہ تصوف
ایک ایسے لائحہ عمل کا نام ہے جو
جس کے ذریعہ سعادت ابدی کے حصول کی خاطر تزکیہ نفس، تصفیہ اخلاق اور ظاہرو باطن کی درستی و یکسانیت کے افعال و احوال کا علم و عمل حاصل ہوتا ہے
اور یہ لائحہ عمل یقینی طور پر عملی ہے تصوف سے متعلق جو فلسفیانہ مباحث کئے جاتے ہیں ان کا عملی تصوف سے کوئی تعلق نہیں یہ مباحث فلاسفہ کی جانب سے کییے جاتے ہیں جو دراصل اہل تصوف کیی عبادات اور ریاضات کے نتیجہ میں حاصل ہونے والی باطنی کیفیات و احوال کو بیان کرنے کی کوشش ہوتی ہے جو کبھی تو کامییاب ہوتی ہے اور کبھی ناکام لیکن صوفیا کا یہ شعار نہیں رہا کہ وہ اپنی باطنیی کیفیات کو ظاہر کرتے پھریں
اور یہی اس کی تعریف ہے اپنی آئندہ پوسٹوں میں انساء اللہ صوفیا نے تصوف کی جو تعریفیں متعین کی ہیں انہیں ارسال کرتا رہونگا
 

باذوق

محفلین
ابن عربی کا عقیدہ ؟؟

خرم نے کہا:
باذوق بھائی آپ نے پہلی دفعہ کچھ کھل کر بات کی مگر ۔۔۔۔
برادرِ محترم خرم صاحب !
بےشک آپ کو حق ہے کہ آپ ان شخصیات کے اقوال کی تاویل کریں جن کو آپ صحیح سمجھتے ہوں ۔
اسی طرح ہمیں بھی اس بات کی اجازت عنایت فرمائیں کہ ہم ہر اس تاویل کو دیوار پر دے ماریں جس سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) اور آپ کے عظیم صحابہ کرام (رضی اللہ عنہم اجمعین) پر الزام لگتا ہو ۔
آپ کی پیش کردہ تاویل بلکہ تاویلات ہر لحاظ سے قابلِ ردّ ہیں !!
آئیں ، کچھ آپ کے نکات ملاحظہ کرتے ہیں :

>> یہ کس نے اور کب کہا کہ تصوف کوئی نیا مذہب ہے؟ تصوف تو سابقون الاولون کی حقیقت اپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش کا نام ہے ایک الگ مذہب تو نہیں جیسا آپ نے بیان فرمایا۔ اگر کوئی وضاحت یا ثبوت پیش کر دیا جاتا کہ فلاں نے تصوف کو ایک الگ مذہب بتایا اور اس کے فلاں فلاں عقائد و عبادات استوار کیے تو بات ثابت ہو جاتی۔ صرف اپنے قیاس پر اتنا بڑا الزام لگانا آپ کو زیب نہیں‌دیتا۔
> تصوف کو دینِ اسلام سے ہٹ کر ایک علحدہ مذہب ظاہر کرنے کے لیے یہ بالکل ضروری نہیں کہ اہلِ تصوف کا کوئی پیشوا اس بات کا سرِعام اعلان کرے کہ تصوف ایک الگ مذہب ہے ۔ اگر بالفرض مان لیا جائے کہ چونکہ کسی اہل تصوف نے ایسا کوئی اعلان نہیں کیا ہے تو ۔۔۔ تو یاد رکھئے کہ قادیانی بھی یہی دعویٰ کرتے ہیں ۔ وہ بھی قرآن سے ہی دلائل دیتے ہیں ۔ ان کے ہاں بھی مرکز و محور قرآن ہے ۔ وہ بھی اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں بلکہ یہ تک دعویٰ کرتے ہیں کہ حقیقی اسلام ان کا مذہب بتاتا ہے ۔ کسی بھی قادیانی سے پوچھ لیجئے وہ اپنے آپ کو اسلام کے دھارے سے کٹا ہوا ہر گز ہرگز بھی نہیں بتائے گا ۔۔۔ یہی کہے گا کہ اس کے نبی مرزا غلام احمد نے وہی تعلیم دی جو رسول اللہ (ص) نے دی تھی ۔۔۔ اور تو اور ۔۔۔ ابن عربی کی طرح یہ دعویٰ بھی مرزا صاحب کر گئے ہیں کہ نبی (ص) نے اس کے خواب میں آ کر اس کی فلاں فلاں کتاب کی تعریف کی ہے اور اس کو دنیا بھر میں پھیلانے کو کہہ گئے ہیں ۔
اگر آپ ، ہم اور دنیا بھر کے بیشمار مسلمان ، قادیانیت کو ردّ کرتے ہیں تو دنیا بھر کے بیشمار مسلمان تصوف کو بھی ردّ کرتے ہیں ۔ بےشک یہ آپ کے لیے کڑوی گولی ہوگی مگر یہ کڑوی حقیقت بھی ہے !

>> تمام سلاسلِ طریقت انہیں اولیائے کرام کی فیوض کے امین اور حامل ہیں اور آپ سے بڑھ کر یہ بات کون جانتا ہوگا کہ دین میں نسبت کا معیار عمل ہے سو اگر کوئی اپنے آپ کو ان اولیاء کا پیروکار کہتا ہے اور ان کے طریق کے برعکس عمل کرتا ہے تو اس شخص‌کے عمل کو اس طریق کے عمل کا آئینہ دار نہیں سمجھا جا سکتا۔
> بالکل یہی بات ہر مسلمان دہراتا ہے کہ دین میں نسبت کا معیار وہ عمل ہے جس پر رسول (ص) اور اصحاب کرام (رض) رہے ہوں اور جس کا ثبوت صحیح احادیث سے ملتا ہے ۔ کچھ افراد کی پہنچ صرف اولیاء اور صوفیاء تک رہ جاتی ہے جبکہ کچھ کی پہنچ بذریعے صحیح حدیث براہ راست اصحابِ خیر القرون تک ہوتی ہے ۔ کچھ کے ہاں معیار کی کسوٹی شائد ’سلاسلِ طریقت‘ ہو لیکن بہت سوں کے ہاں معیار وہ ہے جو اس صحیح حدیث سے ظاہر ہے :
تم میں سے جو شخص زندہ رہا وہ بہت اختلافات دیکھے گا (ایسے میں) تم میری سنت اور میرے ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کا طریقہ مضبوطی سے اپنائے رکھنا اور خبردار ، دین میں ایجاد کیے جانے والے نت نئے امور سے بچ کر رہنا کیونکہ ہر ایسا طریقہ (بدعت) گمراہی ہے۔
ابو داؤد ، كتاب السنة ، باب : في لزوم السنة ، حدیث : 4609

سلاسلِ طریقت ہو یا کوئی اور سلسلہ ۔۔۔ اللہ کے محبوب رسول (ص) نے تو صرف دو طریقے واضح طور پر بیان فرمائے ہیں ۔۔۔ ایک خود رسول (ص) کا طریقہ (سنت) اور دوسرا نبی (ص) کے ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کا طریقہ !
ہم تو انہی دو طریقوں کی اتباع کریں گے ۔۔۔ دیگر سلسلوں کی ہمیں ضرورت نہیں چاہے وہ کتنا ہی چلا چلا کر دعویٰ کریں کہ ہمارا سلسلہ بھی عین انہی دو طریقوں پر مبنی ہے ۔ یہ دعویٰ تو قادیانی بھی کرتے ہیں اور دوسرے تمام بھی ۔
مگر معذرت کہ دعویٰ اور بات ہے اور عمل ایک علحدہ چیز ہے اور صحیح شرعی عمل کو پہچاننے کے لیے مسلمانوں کے پاس صحیح حدیث ہے جبکہ اس سے ہٹ کر کوئی چیز سو فیصد خالص نہیں ہے ۔

>> 3۔ ایک اور دعوٰی آپ نے کیا کہ اہالیان تصوف نے اپنے عقائد کے لئے دوسرے مذاہب کا سہارا لیا۔ یہ دعوٰی پھر آپ سے ثبوت کا تقاضا کرتا ہے۔
> ہاں ۔ میں نے ثبوت دینا ہے ، یہ مجھے یاد ہے ۔ تھوڑا انتظار فرمائیں ۔

>> 4۔ حضرت شیخ الاکبرؒ کے ایک بیان کا حوالہ دیا گیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے انہیں خواب میں ایک کتاب عطا کی اور فرمایا کہ اسے لیکر لوگوں کے پاس نکلو ، وہ اس سے مستفید ہوں گے اور ویسا ہی ہوا جیسا کہ آقائے نامدارﷺ نے فرمایا تھا۔ اس میں اعتراض کی بات کیا ہے؟
کیا خواب میں زیارتِ نبوی ﷺ پر اعتراض ہے یا بیانِ نبویﷺ کی سچائی پر ؟ اور اگر کوئی اللہ کا پیغام لوگوں کو بتاتا ہے اور کہتا ہے کہ میں اللہ کی بات کہتا ہوں میری بات سنو اور اللہ کا قرب حاصل کرنے کیلئے میری بات سنو تو اس میں کیا غلط ہے؟ تمام فقہاء، علماء، خطباء یہی بات نہیں کہتے؟

> ۔۔۔ برادرِ محترم ، ایسی اندھی عقیدت بھی مناسب نہیں ۔ اگر آپ لاعلم ہیں تو براہ مہربانی بحث مت کیجئے ۔
اگر آپ کے پاس وہ کتاب نہیں ہے تو محتر م شاکر القادری صاحب سے پوچھ لیں کہ کیا کیا گندی اور غلیظ باتیں اس میں لکھی ہوئی ہیں ۔
ذرا یہ ملاحظہ فرمائیں ۔۔۔ یہ سب اس بدعقیدہ شخص کے قلم سے نکلا ہے جس کو آپ "حضرت شیخ الاکبر رحمہ اللہ" کہتے ہیں :
نقل کفر ، کفر نباشد !!
عورت جب جنسی ملاپ کرتی ہے تو اللہ بدرجہ اتم اس کے اندر ظاہر ہوتا ہے ، کیونکہ اس کی حالت فاعل اور منفعل دونوں کی ہوتی ہے ۔
لہذا مرد اس وقت اپنے رب کو اس عورت کی شکل میں زیادہ اچھی طرح جلوہ گر پاتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) نے عورتوں سے محبت کی ۔ اسی لیے عورتوں کے اندر اللہ کا مشاہدہ زیادہ اچھی طرح پاتا ہے ۔ اور حق کا مشاہدہ تو مادہ کے بغیر ہو ہی نہیں سکتا ۔ یہی وجہ ہے کہ حق (اللہ تعالیٰ) کا مشاہدہ عورتوں کے اندر زیادہ سے زیادہ اور مکمل طور پر انجام پاتا ہے ، خاص طور پر اس وقت جب وہ جنسی ملاپ کر رہی ہو۔
بحوالہ : فصوص الحکم ، ابن عربی ۔ ج 1 ، ص 317 ۔


کیا اس قسم کے فحش اقتباس کی بھی آپ تاویل کرنا چاہیں گے ؟؟ کیا نبی (ص) نے ایسی ہی کتابوں کو مشتہر کرنے کا مشورہ دیا ہوگا ؟؟
نعوذ باللہ ، ھذا بہتان عظیم ۔

جائیں پہلے یہ کتاب (فصوص الحکم) پڑھیں پھر فیصلہ کریں کہ بیانِ نبوی (ص) سچا ہے یا ابن عربی کا دعویٰ جھوٹا ہے ؟

خواب میں زیارتِ نبوی (ص) ممکن ہے اور خواب سچے بھی ہو سکتے ہیں اور ایک صحیح حدیث میں ہے کہ خواب نبوت کا چھیالیس واں حصہ ہوتے ہیں ۔
لیکن اہم ترین سوال یہی کہ : خواب کی سچائی کا ثبوت کیا ہے ؟
-- ایک صاحب دعویٰ کرتے ہیں کہ فصوص الحکم نامی کتاب کو دنیا بھر میں پھیلانے کا نبی (ص) نے حکم دیا ۔
-- دوسرے صاحب دعویٰ کرتے ہیں کہ پاکستان میں نبی (ص) کی آمد اور ان کی مہمان نوازی کی ذمہ داری نبی (ص) نے ان کو سونپی ہے اور نبی (ص) جہاں جہاں جائیں گے اس کا خرچہ یہ صاحب اٹھائیں گے ۔
--- ایک تیسرے صاحب دعویٰ کرتے ہیں کہ نبی (ص) نے مجھے اپنا قائم مقام قرار دیا اور کہا کہ اب میں ان کی جگہ اسلام کی دعوت کو آگے بڑھاؤں ۔


بھائی جی ۔۔۔ معاف کریں ۔۔۔ پہلے ہی امتِ مسلمہ جہالت سے پچھڑی ہوئی ہے ۔۔۔ اب اس کو ایسے خواب بیان کر کے مزید جہالت کے گڑھوں میں مت دھکیلیں ، مہربانی ہوگی !!

(۔۔۔۔ جواب کا سلسلہ جاری ہے ۔۔۔ انتظار فرمائیں ۔۔۔)
 

باذوق

محفلین
کچھ مزید جوابات ۔۔۔

خرم نے کہا:
5۔ علمِ حقیقت کے اظہار کے بارے میں آپ نے پھر ایک بیان کو توڑ مروڑ کر پیش فرما دیا۔ ۔۔۔۔
>> 5۔ علمِ حقیقت کے اظہار کے بارے میں آپ نے پھر ایک بیان کو توڑ مروڑ کر پیش فرما دیا۔ جب یہ کہ دیا گیا کہ اس علم کو سرکارِ دوجہاںؐ نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو سب سے پہلے سکھایا تو اس میں علم چھپانے کا رد تو خود ہی ہو گیا۔ آپ نے بلاوجہ اتنا بڑا الزام لگا دیا۔ اتنی بڑی بات سرکارؐ کے متعلق کہنے یا کسی سے بھی منسوب کرنا بہت بڑی ناانصافی ہے۔
میری ناانصافی کی بات کرنے سے قبل اُس اقتباس کو دوبارہ پڑھیں :

اہلِ تصوف کا ایک اور پیشوا ابن عجیبہ فاطمی لکھتا ہے :
علمِ تصوف کے موسس و بانی خود نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) ہیں ، جن کو اللہ تعالیٰ نے تصوف کا علم بذریعہ الہام عطا کیا۔ جبریل علیہ السلام پہلے علمِ شریعت لے کر نازل ہوئے ، جب یہ علم مکمل ہو گیا تو دوسری بار علمِ حقیقت لے کر نازل ہوئے ۔ ان دونوں علوم سے الگ الگ قسم کے لوگ بہرہ ور ہوئے ۔ جس نے سب سے پہلے اس علم کا اظہار کیا وہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ ہیں ۔ آپ سے یہ علم حضرت حسن بصری نے حاصل کیا۔
بحوالہ : ایقاظ الھمم فی شرح الحکم ، ابن عجیبہ ، جلد 1 ، ص 5 ، مطبوعہ : 1913ھ ۔


سب سے پہلا جھوٹ تو یہی ہے کہ علمِ تصوف کے بانی نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) ہیں ۔
جب سب ہی نے یہ مان لیا ہے کہ : قرآن و حدیث میں کہیں بھی لفظ تصوف نہیں ملتا تو پھر یہ دعویٰ ازخود غلط ثابت ہو جاتا ہے !
آپ ایک لفظ تخلیق کریں پھر اس کے ساتھ کچھ نظریات اور فلسفے کو جوڑیں ۔۔۔ پھر اس لفظ کو شریعت کے ایک طریقے ’احسان‘ کا مترادف قرار دیں اور پھر دعویٰ ٹھونک دیں کہ : یہ لفظ اور یہ فلسفہ عین اسلام ہے !!
بھائی پتا نہیں کیوں دین کے معاملے میں ہمیں قرآن و سنت کافی نہیں ہوتے جو یار لوگ نت نئے فلسفے تراش کر انہیں اسلام سے جوڑنے پر کمربستہ رہتے ہیں ۔۔۔۔ ؟؟ کب تک میرے مولا کب تک ؟؟
دوسرا جھوٹ یہ ہے کہ : اللہ تعالیٰ نے تصوف کا علم بذریعہ الہام نبی (ص) کو عطا کیا۔
اس کے ثبوت میں اہل تصوف کوئی صحیح حدیث پیش کرنے سے تاقیامت قاصر رہیں گے ، انشاءاللہ ۔
تیسرا جھوٹ : جبرئیل (ع) دو علم لے کر نازل ہوئے (علمِ شریعت اور علمِ حقیقت) ۔
علمِ شریعت کی بات قرآن اور حدیث سے ثابت ہے ۔ دوسری بات بھی کسی صحیح حدیث سے آپ ثابت کر دیں تو جزاک اللہ ۔

چوتھا جھوٹ : جس نے سب سے پہلے اس علم کا اظہار کیا وہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ ہیں ۔
اس قول پر آپ کی تاویل ہمارے نزدیک قبول نہیں ۔ آپ کی تاویل سے یہ نکلتا ہے کہ رسول اللہ (ص) نے دنیا پر نہیں بلکہ حضرت علی (رض) پر اس علم کا اظہار کیا ۔ کیونکہ حضرت علی (رض) کے نام کے ساتھ جڑے الفاظ ’سب سے پہلے‘ سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ : حضرت علی (رض) ہی نے سب سے پہلے دنیا پر اس علم کا اظہار کیا ۔
سوال یہ ہے کہ ۔۔۔ کیا نبی (ص) نے کسی علم کی چھپ چھپا کر بھی تبلیغ کی تھی ؟ ورنہ یہ کیا بات ہوئی کہ : نبی (ص) تو صرف تنہا حضرت علی (رض) کو علم سکھائیں اور حضرت علی (رض) ساری دنیا پر اس کا اظہار کریں ؟؟
تبلیغ کے میدان میں نبی (ص) کا منصب عظیم ہے یا صحابی (رض) کا ؟؟
تبلیغ کے میدان میں نبی (ص) کی ذمہ داری اولیت رکھتی ہے یا صحابی (رض) کی ؟؟
 

باذوق

محفلین
آخری جواب ۔۔۔

خرم نے کہا:
تمام اصحابِ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اپنے ظرف و طلب کے مطابق استفادہ کیا۔۔۔۔
تمام اصحابِ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اپنے ظرف و طلب کے مطابق استفادہ کیا اور ایسا نہیں تھا کہ تمام صحابہ کرامؓ کا علم ایک جیسا یا ایک جتنا تھا اور نہ ہی تمام اصحاب کو ایک جیسی تعلیم دی گئی تھی (یہاں میری مراد علوم لدنیہ سے ہے)۔ ثبوت کے طور پر صرف اتنا ہی کہوں گا کہ اصحاب کرام بھی اپنے معاملات میں قرآن سے رہنمائی کے لیے حضرات ابن عباسؓ اور عبد اللہ ابن مسعودؓ کے پاس آیا کرتے تھے کہ ان دونوں اصحاب کو قرآن اور اس میں پو شیدہ حکمتوں کا علمِ خاص بارگاہِ نبویؐ سے عطا ہوا تھا اور ان میں بھی حضرت ابن عباسؓ کا مرتبہ بلند تھا۔
آپ کے اس قول سے بالکل بھی انکار نہیں ہے ۔ صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ :
حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ ، سب سے زیادہ قرآن کو جاننے والے تھے
حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کو امتِ مسلمہ اولین مفسرِ قرآن کے طور پر جانتی ہے !
لیکن بہرحال یہ حوالے علمِ تصوف کو بالکل بھی ثابت نہیں کرتے ۔

6۔ ابن فارض کے جو نظریات آپ نے بیان کئے ہیں وہ فلسفہ وحدت الوجود کے زمرہ میں آتے ہیں اور مجھے یہ بھی علم نہیں کہ وہ واقعی کسی سلسلہ میں شامل بھی تھے یا صرف اپنے قیاس پر آپ نے انہیں صوفی گردانا ہے۔
تصوف کے معاملے میں اگر آپ کا مطالعہ زیادہ نہیں ہے تو میں بہت ہی ادب سے آپ سے گذارش کروں گا کہ یہ بار بار مجھ پر قیاس سے کام لینے کے الزامات مت دہرائیں ۔ میں خوابوں کی باتیں نہیں کر رہا ہوں ، باقاعدہ معروف کتابوں کے حوالوں کے ساتھ ثبوت دے رہا ہوں ۔

جس شعر کی آپ نے بات کی ہے اس کا میرے فہم کے مطابق تو یہ مفہوم بنتا ہے کہ فرشتوں نے حضرت آدم ؑ کی ذات کو ہی نہیں بلکہ تمام انسانیت کو بطورِ خلیفۂ خدا سجدہ کیا تھا۔ یہ بات تو کوئی اچنبھا نہیں ہے کہ انسان کو مسجود ملائک تو عموماً کہا ہی جاتا ہے۔
وہ شعر یہ ہے :
وفی شھدت الساجدین لمظھری :: فحققت انی کنت آدم سجدتی
شعر کے ترجمے سے قطع نظر ، اس کی تشریح بھی ملاحظہ فرمائیں ۔
اس شعر کی تشریح ، صوفیت کا ایک اور پیشوا قاشانی یوں کرتا ہے :
یعنی میں نے دیکھا کہ ملائکہ میرا سجدہ کر رہے ہیں ، لہذا مجھے معلوم ہو گیا کہ آدم کے سامنے فرشتوں نے جو سجدے کیے تھے ، وہ سجدے دراصل مجھے ہی کیے گئے تھے ۔ ملائکہ میرے سامنے سجدے کرتے ہیں اور وہ میری صفات میں سے ایک صفت رکھتے ہیں لہذا ہر سجدہ کرنے والا میری ہی صفت سے ہم آہنگ ہے جو میری ہی ذات کے لیے سجدہ ریز ہوتا ہے ۔
بحوالہ : کشف الوجوہ الغر ، شرح الدیوان کا حاشیہ ، جلد 2 ، ص 89 ، مطبوعہ 1310ھ ۔


ہر سجدہ کرنے والا ۔۔۔ اس میں ملائکہ بھی آتے ہیں اور حضرتِ انسان بھی ۔ انسان (مسلمان) تو اپنے رب کو سجدہ کرتا ہے ۔ اور تصوف کا پیشوا ہمیں سمجھا رہا ہے کہ ایک مسلمان کا سجدہ ابن فارض کی ذات کے لیے ہوتا ہے ۔
کیا یہ تشریح قبول کی جا سکتی ہے ؟؟

صوفی کا ہر عمل اگر اپنی دلیل قرآن، سنتِ نبویؐ یا عمل صحابہ سے نہیں لاتا تو نا وہ صوفی ہے اور نہ اس کے اعمال کا طریقت سے کوئی تعلق ہے۔
کچھ لوگوں کو ’صوفی‘ کہلانے کا شوق ہو تو ہو لیکن ۔۔۔ ہر مسلمان کو اس بات کی قطعاََ ضرورت نہیں ہے کہ وہ ’صوفی‘ کہلاتا پھرے ۔ اللہ اور رسول نے جتنے نام قرآن اور حدیث میں بیان فرمائے ہیں بس وہی کافی ہیں ۔ چاہے وہ ذاتی نام ہوں یا عرفی نام یا وصفی نام ۔
 

حسن نظامی

لائبریرین
السلام علیکم

محترمین اب قبلہ باذوق صاحب کا موقف واضح‌ہوتا نظر آتا ہے
ان کے نزدیک تصوف فلسفہ ابن فارض‌اور ابن عربی کا نام ہے

میرا خیا ہے ایسا نہیں‌

وضاحت قبلہ خرم صاحب اور قبلہ شاکرالقادری صاحب فرمائیں‌گے


نوٹ : زیادہ تفصیل میں‌نہیں‌بیان کر سکتا کیونکہ میں‌اس وقت ھاسٹل سے یہ جواب لکھ رہا ہوں‌
 

باذوق

محفلین
بحث کے نتائج ۔۔۔ ؟

سید حسن نظامی نے کہا:
السلام علیکم
محترمین اب قبلہ باذوق صاحب کا موقف واضح‌ہوتا نظر آتا ہے
ان کے نزدیک تصوف فلسفہ ابن فارض‌اور ابن عربی کا نام ہے
میرا خیا ہے ایسا نہیں‌
وضاحت قبلہ خرم صاحب اور قبلہ شاکرالقادری صاحب فرمائیں‌گے
نوٹ : زیادہ تفصیل میں‌نہیں‌بیان کر سکتا کیونکہ میں‌اس وقت ھاسٹل سے یہ جواب لکھ رہا ہوں‌
ان کے نزدیک تصوف فلسفہ ابن فارض‌اور ابن عربی کا نام ہے

وعلیکم السلام !
میں اس سے پہلے بھی کئی بار عرض کر چکا ہوں اور ایک بار پھر ۔۔۔ برادر حسن نظامی ، میں آپ سے بصد خلوص التجا کروں گا کہ ۔۔۔
جلدبازی کے ایسے نتائج اخذ مت کیا کریں ۔
باذوق کے نزدیک تصوف کیا ہے اور کیا نہیں ہے ۔۔۔ دنیا میں اس بات سے نہ تو کسی کو کوئی غرض ہے اور نہ ہی ہونی چاہئے ۔
اور ویسے بھی میں نے ابھی تک تصوف کے تعلق سے اپنی اصل بات شروع ہی نہیں کی ہے ۔
سمجھ میں نہیں آتا کہ آخر آپ کو اتنی جلدی کیوں ہے ؟ ایک فلسفہ کو قائم ہونے میں تو صدیاں لگ جائیں اور آپ چاہتے ہیں کہ بس چند دنوں کی بحث میں طے ہو جائے کہ یہ یہ اسلامی ہے اور یہ یہ غیراسلامی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بحث یوں نہیں ہوا کرتی بھائی ۔۔۔ آپ پہلے اطمینان سے اپنی پڑھائی میں لگے رہیں ۔
 

شاکرالقادری

لائبریرین
ميں اپنے فاضل دوست باذوق سے گزارش كروں گا كہ بار بار اھل تصوف كو قاديانيوں كے ساتھ نہ ملائيں ايك بار آپ كي بات كو نظر انداز كيا جا سكتا ہے دو بار تين بار ليكن بار بار اور بہ تكرار آپ كا ايسا كہناغير مناسب ہے آپ كو اھل تصوف سے جو اختلاف ہے آپ اسے كھل كر پيش كريں ليكن آپ كو يہ حق نہيں پہنچتا كہ آپ اھل تصوف اور اھل قاديان كو ايك رسي ميں باندھ كر گھسيٹنا شروع كرديں اس طرح ايك اكثريتي طبقہ كے جزبات مجروح ہوتے ہيں
اور ميرا خيال ہے كہ خوامخواہ ايسي صورت حال كو پيدا كرنا مناسب نہيں
ميں منتظمين سے بھي درخواست كرونگا كہ وہ اس بات كا نوٹس ليں قادياني غير مسلم قرار ديے جاچكے ہيں ليكن ابھي دنيا كي كسي عدالت نے اھل تصوف كو غير مسلم قرار نہيں ديا لہذا محترم ناظميں سے گزارش ہے كہ اس سلسلہ ميں مناسب لائحہ عمل اختيار كريں
ورنہ دوسري جانب سے بھي شديد رد عمل اردو محفل كي فضا كو خراب كر سكتا ہے۔
 

شاکرالقادری

لائبریرین
اب تك يہاں پر كئي بار يہ بات كہي جا چكي ہے كہ تصوف ايك ايسا لفظ ہے جس كا ثبوت قرآن وحديث ميں نہيں ملتا
اس سلسلہ ميں ذيل ميں كچھ معروضات پيش ہيں

اس سے تو کسی کو مجال انکار نہیں کہ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات کا نام ہے
اور یہ ضابطہ حیات قیامت تک کے لئے معین و مقرر ہے
اسلامی قانون کی سب سے بڑی کتاب قرآن حکیم قیامت تک آنے والے انسانوں کو ایسے قوانین فراہم کرتی ہے جس پر عمل پیرا ہو کر ہدایت یافتہ ہو ا جا سکتا ہے
مطلب یہ کہ حضرت انسان قیامت تک جو بھی اعمال کرے گا ان کے لئے ہدایت قرآن میں موجود ہے

اب اگر کوئی یہ کہے کہ علامہ صاحب یہ آپ نے کیسے کہا قرآن مجید میں تو بہت سارے کاموں کے بارے میں نہیں بتایا گیا کہ یوں کرنا چاہئے اور یوں نہیں کرنا چاہئے ؟

اچھا بھئی چلیں آپ نے ایسے کہا ہے کیا آپ کے پاس اس کی کوئی مثال بھی موجود ہے ؟

جی ہاں مثلا قرآن مجید ہمیں یہ نہیں بتاتا کہ خون دینا چاہئے یا نہیں یا اعضائے جسم کسی انسان کو دینا جائز ہیں یا نہیں ؟
وغیرہ وغیرہ

قرآن مجید بلاشبہ ایک جامع اور مفصل کتاب ہے قیامت تک ہونے والے ہر کام کی اصل اور اس کی طرف اشارہ قرآن حکیم میں موجود ہے اور ہر دور میں اس کا اظہار بھی ہوتا رہتا ہے

مثلا انسان کا خلا میں جانا اور چاند اور زمین کی سیر کرنا

قرآن نے کہا
یا معشر الجن والانس ان استطعتم ان تنفذو ا من اقطار السموات والارض فانفذوا لاتنفذوا الا بسلطان ۔۔۔۔۔۔
سورہ رحمن
قرآن نے یہ نہیں بتایا کہ راکٹ ہو گا انسان یوں کرے گا پھر چاند پر چلا جائے گا
صرف اشارہ دیا کہ تم زمین اور آسمان کی قطاروں سے تب ہی نکل پاو گے کشش زمین سے دور خلا میں تب ہی جا سکو گے جب تمہارے پاس بے تحاشا پاور ہو جو تمہیں دھکیلے

وغیرہ

مزید قرآن مجید میں ہر خشک و تر کا علم موجود ہے مگر ہر خشک و تر کی تفصیل نہیں

قرآن مجید ہمیں یہ نہیں کہتا

تم سائنس کی تعلیم حاصل کرو تم علم فلکیات حاصل کرو تم حیاتیات کی جملہ شاخوں کے بارے میں جانو

تمہیں چاہئے کہ تم آثار قدیمہ کا علم حاصل کرو

تمہیں ایٹم بم بنا کر رکھنا چاہئے

مگر قرآن اس انداز میں ضرور ہمیں کہتا ہے کہ

افلا تنظرون الی الابل کیف خلقت والی السماء کیف رفعت و الی الارض کیف سطحت


یہ ضرور کہتا ہے کہ
دشمن کے مقابلہ کے لیے اپنے گھوڑے تیار رکھو
تو کیا آج ہم یہ کہہ دیں کہ قرآن و سنت میں تیر تلوار اور گھوڑے کے علاوہ جنگی ہتھیاروں کا ذکر نہیں اس لیے جدید آلات جنگ کی اختراع غیر شرعی ہے اور ان کا ثبوت خیرالقرون میں نہیں ملتا

دراصل قرآن مجید ہمیں وہ بنیادی اصول و قوانین فراہم کرتا ہے جن سے ہم درست راہ میں گامزن ہو سکتے ہیں
اپنی عقل و دانش سے ہمیں ان اصول و قوانین کی رہنمائی میں خود ہی آگے بڑھنا ہوگا

یہ تو چند علمی معاملات تھے
اخلاقی اور مذہبی معاملات میں بھی ایسا ہی ہے
کہ بعض ایسے اعمال ہیں جن پر قرآن مجید میں نصوص وارد ہیں
بہت سی مثالیں دی جا سکتی ہیں
جیسے شراب کی حرمت خنزیر کی حرمت وراثت کے قوانین وغیرہ

اس کے بعد بعض ایسے اعمال ہیں جن کے بارے میں قرآن مجید میں تو صراحت نہیں
مگر حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ان میں رہنمائی مل جاتی ہے

مثلا نماز پڑھنے کا طریقہ سونے کا طریقہ وغیرہ اس بارے بھی بہت سی مثالیں دی جا سکتی ہیں

پھر بعض ایسے اعمال بھی ہیں کہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ان میں کامل رہنمائی نہیں فرمائی
مثلا حضرت عمر کا ارشاد کہ
اللہ تعالی کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جہان فانی سے پردہ کیا اور ہم پر ربو کے بارے میں مکمل وضاحت کر کے نہ گئے ﴿معدن الحقائق شرح کنزالدقائق ﴿باب ربو﴾﴾

پھر بعض اعمال ایسے ہیں جو کہ رسول اللہ کے زمانہ میں نہ تھے اور انہیں صحابہ کرام نے رائج کیا
مثلا جمع قرآن حکیم بین الدفتین
تراویح کا باقاعدہ اہتمام
جمعہ کی دوسری اذان
صبح کی اذان میں الصلوۃ خیر من النوم کا اضافہ
وغیرہ
کچھ ایسے معاملات ہیں جو صحابہ کے دور میں بھی نہ تھے اور ان کو تابعین کے دور میں جاری کیا گیا
اور کچھ معاملات اور امور تابعین کے دور مییں بھی نہ تھے اورتبع تابعین اور ان کے مابعد کے دور میں رائج ہوئے
مثلا قرآن حکیم پر اعراب لگانا رموز و اوقاف اور اجزا کی ترتیب وغیرہ

پھر بہت سے ایسے علوم ہیں جو نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں موجود تو تھے مگر ان کو باقاعدہ علم کی شکل بعد میں دی گئی مثلا
قرآن مجید کی تفسیر تو بیان کی جاتی تھی مگر
علم تفسیر اور اس کے قوانین بہت بعد میں بنا ئے گئے

جیسے صرف نحو اور گرائمر کا خیال تو رکھا جاتا تھا مگر

پہلی مرتبہ باقاعدہ قواعد حضرت مو لا علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے اسود دوئلی کو ایک پرچہ پر لکھ کر دیئے اور کہا کہ اس میں مزید اضافہ کرو

حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے اس علم کو باقاعدہ کوئی نام نہ دیا تھا بلکہ صرف رہنمائی فرمائی اور اساس مہیا کی
پھر اس کا نام نحو پڑ گیا کیونکہ
مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے فرمایا تھا
نحوت
کہ میں نے ارادہ کیا
اس کے علاوہ جب تدوین حدیث شروع ہوئی تو علم حدیث وجود میں آیا ۔ احادیث کی چانچ اور پرکھ کے لیے معیارات مقرر کیے گئے شرائط مقرر ہوئیں جرح و تعدیل کے قواعد اور علم رجال وجود میں آیا اور انہی معیارات کی روشنی میں مختلف روایات کو حسن ، صحیح ، متواتر، مرسل، مرفوع، موضوع اور ضعیف وغیرہ کے نام دیے گئے
اور اس قسم کی بے تحاشا مثالیں مل جائیں گی کہ اکثر کاموں کی ابتدا پہلے موجود تھی ان کو باقاعدہ منظم بعد میں کیا گیا
بہت سے ایسے کام ہیں جو پہلے سے موجود نہ تھے بعد میں شروع ہوئے مگر ان کی کوئی نہ کوئی بنیاد تھی جو قرآن و حدیث سے ہی اخذ کی گئی تھی
اب اگر کوئی بندہ یہ کہے کہ
علم نحو کا نام قرآن میں نہیں آیا اس لئے نحو کوئی علم نہیں
گرائمر نہیں تو پھر اس کا کیا کیا جائے ؟
یہی کہا جا سکتا ہے کہ ٹھیک ہے پھر آپ فعل اور فاعل کو ایک ہی سمجھتے رہیں ہمیں کوئی حرج نہیں جب آپ نحو کو ہی غیر شرعی سمجھتے ہیں

دراصل یہ تو کوئی بات ہی نہیں کہ لفظ تصوف قرآن میں موجود نہیں اس لئے یہ طور طریقہ ہی غیر شرعی ہے
یہ تو محدود ذہنی کی نشانی ہے
کمپیوٹر کی طرح سرچ لگائی لفظ تصوف نہیں ملا ٹھک سے لکھ دیا کہ بھئی چونکہ یہ لفظ قرآن میں موجود نہیں اس لئے یہ ایک غیر شرعی علم اور طریقہ ہے

ٹھیک ہے پھر سارے علوم ہی غیر شرعی ہو گئے کیونکہ قرآن مجید میں ان کے نام نہیں

اور پھر تصوف ایک نام نہیں ایک طرز عمل ہے اور اس طرز عمل کے حامل اشخاص کو صرف صوفیاء ہی نہیں بلکہ
مختلف علاقوں میں مختلف ناموں سے پکارا گیا ہے:
تاریخ کے مختلف ادوار میں انہیں مختلف نام دیے گئے
اھل شام انہیں فقراء کہتے تھے:
صوفیہ چونکہ صرف اتنی خوراک کھاتے تھے جو ان کی پشت سیدھی رکھنے کے لیے ضروری ہو اس لیے اہل سام کے ہاں انہیں "جوعیہ" یعنی "بھوکے" بھی کہتے تھے
اھل بصرہ نے انہیں"الفقریۃ" اور "الفکریۃ" کا نام دیا
خراسان مین انہیں "المعاربہ" کا نام دیا گیا اور عام طور سے یہ صوفیہ اور فقراء کہلاتے ہیں
شیخ ابو بکر کلاباذی کے بقول چونکہ اس طبقہ سے متعلق لوگوں نے اپنی جائیدادیں اور املاک ترک کی ہیں اس لیے انہیں "فقراء" کہا گیا۔
مفارقت اوطان یا ترک وطن کی بنا پر یہ"غرباء" کہلائے
کثرت اسفار کی وجہ سے لوگوں نے انہیں "سیاحین " کا نام بھی دیا
جنگلوں میں سفر کرنے اور بوقت ضرورت غاروں میں پناہ لینے کی وجہ سے انہیں لوگوں نے"شکفتیہ" کا نام بھی دیا کیونکہ ان لوگوں کی زبان میں"شکفت غارکو کہتے ہیں
چونکہ اللہ نے ان کے دلوں کو منور کیا اس لیے یہ نوریہ بھی کہلائے
اس کے علاوہ
انہییں"درویش" "خاصان خدا" دوستان خدا" "مردان خدا" "اھل نظر" "اھل دل" " اھل صفا" "اھل طریقت" "ارباب حال" "ارباب باطن""ارباب اصلاح" "اولیا" "صوفیا" "سالکین" "محققین" "عرفاء" "اخیار" "ابرار" وغیرھم بھی کہا گیا ہے
تاھم انہیں "ذکری" "باطنی" اور "رھبان" کا نام دینے سے پرھیز کیا جاتا ہے کیونکہ "ذکری" کے نام سے الگ فرقہ موجود ہے "باطنی" یا "باطنیہ" بھی ایک گمراہ فرقہ ہے اور "رھبان" کا لفظ عیسائی تارکین دنیا کے لیے آیا ہے۔

اس لیے یہ سوال بے معنی ہے کہ کیا خیرالقرون میں صوفیہ نام کا کوئی طبقہ پایا جاتا تھا
تصوف تو ایک طرز عمل کا نام ہے جس کے حاملین کو جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے مختلف علاقوں اور مختلف ادوار میں مختلف ناموں سے پکارا جاتا رہا ہے لہذا کسی ایک نام یا لفظ کو قرآن و سنت میں تلاش کرنا اور اس کا وجود نہ پاکر انکار کر دینا قرین انصاف نہیں
البتہ اگر ان خصوصیات کو قرآن و سنت میں تلاش کیا جائے جن کی وجہ سے اس گروہ کو متذکرہ بالا نام دیے گئے تو یہ خصوصیات بہ آسانی جا بجا قرآن و سنت میں آپ کو ملیں گی
چنانچہ
قلت طعام ، کم خوراکی ، فقرو فاقہ
سیاحت فی الارض
ترک وطن یا ہجرت
جنگلوں کا سفر اور غاروں میں ذکروفکر
وغیرہ متذکرہ بالا امور کے تذکرہ سے قرآن و سنت خالی نہییں
وما علینا الا البلاغ
 
بندہ اس طرح کے بحث ومباحثہ میں شرکت کرنے سے کنی کتراتا ہے کیونکہ سوائے اثبات ذات کے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔

مختصر عرض کروں گا باذوق بھائی اسلامی اور غیر اسلامی تصوف میں فرق کریں!
ابن تیمیہ رحمہ اللہ جنہیں مرجع اول گردانا جاتا ہے انکی آراء وافکار کا تصوف کے بارے میں مطالعہ کریں!
بقول آپکے اقوال الرجال تو بہت ہیں حدیث وسنت سے تصوف ثابت کردیا جائے!
آپ تصوف کو حدیث یا قرآن سے رد کردیں!!
یہاں ایک سؤال اٹھتا ہے کہ آیا ہر چیز قرآن وحدیث میں موجود ہے؟ کیا واقعی ہم قرآن سے یا صرف صحیح احادیث سے ہر مسئلے کا حل نکال سکتے ہیں؟؟

کئی ایسے مسائل ہیں جنکا حل قرآن وسنت نبویہ سے ڈھونڈنا مشکل ہے!

بھینس کا دودھ حلال ہے اس پر سبھی متفق ہیں پیتے بھی ہیں!
کیا اسکا ثبوت قرآن یا حدیث سے ملتا ہے کہ بھینس کا دودھ حرام یا حلال ہے؟

نوٹ: میں نے پورا مباحثہ نہیں پڑھا۔
جتنا پڑھا اسکے مطابق لکھا۔

والسلام!
 

باذوق

محفلین
کچھ اپنے گریبان میں ۔۔۔

شاکرالقادری نے کہا:
ميں اپنے فاضل دوست باذوق سے گزارش كروں گا كہ بار بار اھل تصوف كو۔۔۔۔
میں دلی معذرت چاہوں گا کہ اگر کسی قسم کے موازنے سے محفل کے ہمارے احباب کی دل شکنی ہوئی ہو ۔
لیکن کچھ میرے معروضات بھی ذرا سنجیدگی سے سن لیجئے ۔۔۔

صرف قادیانی کیوں ؟ ہندو بھی غیرمسلم ہیں ، یہودی بھی اور عیسائی ، مجوسی بھی ۔
تصوف کی بحث میں آگے چل کر ہندو ، یہودی ، عیسائی ، مجوسی وغیرہ سے اہلِ تصوف کا موازنہ ہونے والا ہے ۔۔۔ کیا اس وقت بھی اعتراض کھڑا کر دیا جائے گا ؟
تبلیغ کے میدان میں ایک اصطلاح ہے (مجھے اس کی اردو فی الوقت یاد نہیں آ رہی ہے ) : comparative religions
ماضی قریب میں اس میدان کے محترم احمد دیدات (رحمہ اللہ) ماہرِ مناظرِ اسلام رہ چکے ہیں اور دورِ حاضر میں ان کی جگہ ڈاکٹر ذاکر نائک نظر آتے ہیں ۔ اگر کسی نے ان دونوں کی تقاریر ( آڈیو / ویڈیو) سن یا دیکھ رکھی ہو تو معلوم ہوگا کہ ان کے سارے مباحث اسلام کے دیگر مذاہب سے تقابل و موازنہ کے دائرے میں گھومتے ہیں ۔ اگر ان محترمین کے مضامین یا تقاریر کو کانٹ چھانٹ کر پیش کیا جائے تو ایسا لگے گا جیسے یہ لوگ دیگر مذاہب کو قرآن و حدیث کی تعلیمات سے درست ثابت کر رہے ہوں ۔

کہنے کا مطلب یہ ہے کہ : حق کو ثابت کرنے کے لیے باطل کی تفصیل ، حوالہ اور موازنہ ۔۔۔ ایک ضروری امر ہے ۔
ایک حق کے مقابلے میں دس باطل افکار پیش کیے جاتے ہیں تو ایسے موازنے یا تقابل سے یہ ہر گز بھی ثابت نہیں ہوتا کہ : پیش کیے جانے والے دس کے دس باطل افکار بالکل ایک جیسے ہیں یا ان کا آپس میں کوئی ماں جایا یا قلبی رشتہ ہے ۔

اور یہ جو کہا گیا ہے :
اس طرح ايك اكثريتي طبقہ كے جزبات مجروح ہوتے ہيں
اس پر ہم ضرور اعتراض کریں گے ۔ یہ حق بھلا کس نے کس کو دیا اور کب دیا کہ دنیا بھر میں ایک خاص طبقہ ہی ’اكثريتي طبقہ‘ ہے اور باقی تمام مسلم طبقے ’اقلیت‘ میں ہیں ؟؟

قادیانی کو غیرمسلم قرار دینے سے بھی بہت پہلے یہود ، ہنود و نصرانی ۔۔۔ غیر مسلم مانے جاتے رہے ہیں ۔
اگر میں حوالوں سے ثابت کروں (جیسا کہ آگے چل کر کروں گا) کہ : اہلِ تصوف کا سب سے عظیم (گمراہ) فلسفہ ’وحدت الوجود‘ اہلِ ہنود سے مستعار لیا گیا ہے ۔۔۔ تو کیا اعتراض جڑ دیا جائے گا کہ : ایک غیرمسلم طبقے سے موازنہ کیا جا رہا ہے ؟؟

برادرِ محترم شاکر القادری ۔۔۔ سعودی عرب میں جو خاص طبقہ بستا ہے (اور جس کو وہابی ، سلفی ، اہل حدیث وغیرہ کا نام دیا جاتا ہے) ۔۔۔ کیا آپ کو معلوم نہیں کہ اس کو نیٹ پر کس کس طرح بدنام دیا جاتا ہے ؟؟ یہود و ہنود ، قادیانی و نصرانی اور نجانے کن کن گمراہ فرقوں سے موازنہ کر کے اس مخصوص طبقے کو بھی ایک گمراہ طبقہ قرار دیا جاتا ہے اور جی بھر کر گالیاں کوسنے دیے جاتے ہیں تنقید تو اس طبقے پر ایسی کی گئی ہے کہ ’وھابی‘ لفظ ہی بطور گالی استعمال ہوتا ہے ۔۔۔ دور کیوں جائیں ، یہ ایک مثال تو خود آپ کے اپنے فورم پر موجود ہے ! وہ لوگ جنہوں نے اردومحفل ہی کے احسان (’پی ایچ پی بی بی اردو‘) تلے اپنا قد اونچا کیا ہے آج کل یہی محترم حضرات ایک طبقے کے پیچھے لاٹھی گھما رہے ہیں اور جو غالباََ آپ کے نزدیک قابل اعتراض نہیں ۔

اگر ہم انصاف پسند ہیں تو دوسروں پر انگلی اٹھانے سے قبل ایک نظر اپنے گریبان میں بھی ڈال لینا چاہئے ۔ ایک جگہ عالمِ اسلام کے ایک طبقے کو مطعون کیا جائے تو وہ آپ کے نزدیک ’آزادیٴرائے‘ کا ایک اظہار ہے اور دوسری جگہ کسی مسلم طبقے پر دلیل کے ساتھ اعتراض کیا جائے تو وہ آپ کے نزدیک ’جذبات مجروح کرنے‘ کے زمرے میں آتا ہے ۔
ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ ۔۔۔ کیا یہی انصاف ہے ؟؟

ورنہ دوسري جانب سے بھي شديد رد عمل اردو محفل كي فضا كو خراب كر سكتا ہے
یہ ’شديد رد عمل‘ کا مظاہرہ اردو محفل پر ہی کیوں ؟ آپ کے اپنے فورم پر کیوں نہیں ؟
کم سے کم باذوق تو آپ جیسی سوچ نہیں رکھتا لہذا اسی سبب ایک متنازعہ اور اختلافی مسئلے پر یہاں علحدہ گفتگو کی جاتی ہے ۔
شاکر القادری صاحب ، میں اب بھی آپ کے متعلق حسنِ ظن رکھتا ہوں کہ آپ وسیع الذہنی کے ساتھ اپنے محبوب و مرغوب فلسفے کے متعلق اختلافی آراء سننے اور پڑھنے کا حوصلہ رکھتے ہیں !!
 
سوال:
پہلے کون لوگ تھے جنہوں نے مذہبی انتشار ڈالنے کے لئے کتابیں تصنیف کیں؟

وہ کون لوگ ہیں جو مقلدین کو نیچا دکھانے کے لئے کوئی نہ کوئی پمفلٹ یا کتاب شائع کرتے رہتے ہیں!

اگر سعودی عرب ہی کی بات کریں تو میں معذرت کے ساتھ یہ سوال کروں گا کہ حکومت کی آنکھوں میں دھول جھونک کر متعصبانہ کتابیں کون لکھتا ہے؟

جب سعودی حکومت (خدا اس پر سایہء دوام رکھے) کو حقیقت معلوم ہوتی ہے تو رد فعل ضرور دکھاتے ہیں!!

مسلمان مختلف المذاہب میں بٹ کر منہ کی کھا رہے ہیں!
انفرادی طور پر مسلمانوں کی حالت زار دیکھ لیں
ظاہر ہے اجتماعی طور پر تو اثر پڑے گا ہی۔
 

شاکرالقادری

لائبریرین
کچھ اپنے گریبان میں ۔۔۔

باذوق نے کہا:
برادرِ محترم شاکر القادری ۔۔۔ سعودی عرب میں جو خاص طبقہ بستا ہے (اور جس کو وہابی ، سلفی ، اہل حدیث وغیرہ کا نام دیا جاتا ہے) ۔۔۔ کیا آپ کو معلوم نہیں کہ اس کو نیٹ پر کس کس طرح بدنام دیا جاتا ہے ؟؟ یہود و ہنود ، قادیانی و نصرانی اور نجانے کن کن گمراہ فرقوں سے موازنہ کر کے اس مخصوص طبقے کو بھی ایک گمراہ طبقہ قرار دیا جاتا ہے اور جی بھر کر گالیاں کوسنے دیے جاتے ہیں تنقید تو اس طبقے پر ایسی کی گئی ہے کہ ’وھابی‘ لفظ ہی بطور گالی استعمال ہوتا ہے ۔۔۔ دور کیوں جائیں ، یہ ایک مثال تو خود آپ کے اپنے فورم پر موجود ہے ! وہ لوگ جنہوں نے اردومحفل ہی کے احسان (’پی ایچ پی بی بی اردو‘) تلے اپنا قد اونچا کیا ہے آج کل یہی محترم حضرات ایک طبقے کے پیچھے لاٹھی گھما رہے ہیں اور جو غالباََ آپ کے نزدیک قابل اعتراض نہیں ۔

اگر ہم انصاف پسند ہیں تو دوسروں پر انگلی اٹھانے سے قبل ایک نظر اپنے گریبان میں بھی ڈال لینا چاہئے ۔ ایک جگہ عالمِ اسلام کے ایک طبقے کو مطعون کیا جائے تو وہ آپ کے نزدیک ’آزادیٴرائے‘ کا ایک اظہار ہے اور دوسری جگہ کسی مسلم طبقے پر دلیل کے ساتھ اعتراض کیا جائے تو وہ آپ کے نزدیک ’جذبات مجروح کرنے‘ کے زمرے میں آتا ہے ۔
ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ ۔۔۔ کیا یہی انصاف ہے ؟؟

ورنہ دوسري جانب سے بھي شديد رد عمل اردو محفل كي فضا كو خراب كر سكتا ہے
یہ ’شديد رد عمل‘ کا مظاہرہ اردو محفل پر ہی کیوں ؟ آپ کے اپنے فورم پر کیوں نہیں ؟
کم سے کم باذوق تو آپ جیسی سوچ نہیں رکھتا لہذا اسی سبب ایک متنازعہ اور اختلافی مسئلے پر یہاں علحدہ گفتگو کی جاتی ہے ۔
شاکر القادری صاحب ، میں اب بھی آپ کے متعلق حسنِ ظن رکھتا ہوں کہ آپ وسیع الذہنی کے ساتھ اپنے محبوب و مرغوب فلسفے کے متعلق اختلافی آراء سننے اور پڑھنے کا حوصلہ رکھتے ہیں !!
بہت افسوس ہے قبلہ ۔۔۔۔۔ چلين يہ بھي اچھا ہے كہ آپ نے يہاں ربط فراہم كر ديا ہے ديكھنے والے خود ديكھ ليں گے كہ سائٹ ايڈمن كي جانب سے ايسي پوسٹ كي مكمل طور پر حوصلہ شكني كي گئي ہے اور پوسٹ كرنے والے سے كہا گيا ہے كہ وہ دلائل اور حسن اخلاق سے كام لے
حضرت كسي بھي چيز كو سياق و سباق سے عليحدہ كركے كچھ مطلب حسب مرضي اخذ كر لينا علمي خيانت ہوتي ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ميرا مطلب تھا آپ كي توجہ اس جانب مبذول كرانا كہ كسي كي دلازاري اچھي بات نہيں اس كے باوجود اگر آپ ايسا كرنا چاہتے ہيں تو آپ كي مرضي ہم آپ كو روك تو نہيں سكتے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آخري بات

ميرا موقف شروع سے اب تك يہ رہا ہے كہ تصوف ايك عملي طريقہ ہے جس كے ذريعہ اصلاح نفس تصفيہ اخلاق اور شريعت مطہرہ كے احكام و اعمال كے حقيقي اور باطني فوائد كا حصول ممكن ہے
اگر آپ كو اس طريقہ اور اس لائحہ عمل كے خلاف بحث كرنا ہے تو مييں حاضر ہوں
اور اگر آپ تصوف كو كوئي فلسفہ قرار ديكر فلسفيانہ مو شگافياں كرنا چاہتے ہيں تو ميں اس سلسلہ ميں معافي چاہتا ہوں كيونكہ تصوف صرف اور صرف عمل سے تعلق ركھتا ہے اس كي بنياد رياضات و مجاہدات اور ان كے روحاني ثمرات پر ہے نہ كہ فلسفہ و منطق پر
 

حسن نظامی

لائبریرین
السلام علیکم

میرا خیال ہے مزاج تلخ ہو رہے ہیں اس لئے میں
کچھ تفریح طبع کا سامان کردوں

ایک واقعہ سناتا ہوں اس میں مزاح کا پھلو بھی ہے اور سیاق و سباق کے بغیر کسی بات کو پکڑنے کا ذکر بھی ہے



ایک دفعہ ھمیں بادشاھی مسجد کی طرف جانے کا اتفاق ہوا

وہاں‌ اکثر بھنگی بیٹھے ہوتے ہیں

جب نماز کا ٹائم ہوا تو ان سے ہمارے کسی ساتھی نے کہا
جناب
چلیں نماز پڑھ لیتے ہیں

تو وہ کھنے لگا ابے جا اللہ تعالی خود قرآن میں‌کھتے ہیں
ولا تقربوا الصلوت

کہ نماز کے قریب مت جاو

تم نے کیا نماج نماج لگائی ہوئی ھے
جاوو

چھٹی کروو

ہم خوب ھنسے کہ دیکھو

کیسی قرآن سے دلیل لائے ہیں کہ
نماز کے قریب مت جاو
اگلی آیت نہیں دیکھتے

وانتم سکارا

یہ نتیجہ ہوتا ہے بغیر سیاق کے کسی کلام سے نتائج اخذ کرنے کا

والسلام
ویسے میرا خیال ہے بحث پھر موضوع سے ھٹ رھی ہے
باذوق صاحب سب کو الجھا رہے ہیں
اور ان کے بقول اصل موقف اتنی ہی صدیوں میں‌
‌بیان ہو گا جتنی صدیوں‌میں‌وہ فلسفہ بنا
 

باذوق

محفلین
جواب کا پہلا حصہ

شاکرالقادری نے کہا:
اب تك يہاں پر كئي بار يہ بات كہي جا چكي ہے كہ تصوف ايك ايسا لفظ ہے جس كا ثبوت قرآن وحديث ميں نہيں ملتا
اس سلسلہ ميں ذيل ميں كچھ معروضات پيش ہيں

محترم المقام شاکر القادری صاحب !
پیشگی معذرت ۔۔۔ مگر آپ کی اس پوسٹ میں اتنے مغالطے ہیں اور اتنے خلط مباحث ہیں کہ مجھے حیرت ہوتی ہے کہ ایک علمی و دینی شخصیت کا آخر اس طرح بار بار قارئین کو چکمے دینا کس کھاتے میں شمار ہوتا ہے ؟
اگر آپ میری اس بات کو طعنہ اور چھوٹا منہ بڑی بات نہ سمجھیں تو خاکسار عرض کرنا چاہے گا کہ : قرآن کے سامنے حدیثِ رسولِ مقبول کو گھٹا کر بیان کرنے والوں کے مقابلے میں آج اگر اردو سائیبر ورلڈ میں ایک باذوق نظر آتا ہے تو کل دس باذوق حدیثِ رسول (ص) کی پشت پناہی کے لیے آگے آئیں گے ! انشاءاللہ العزیز ۔

بحث ہے تصوف کے سلسلے میں ، مگر ہمارے قابل و فاضل دوست ہر بار دانستگی یا نادانستگی میں قرآن و حدیث کے تقابل پر بات کرنے لگ جاتے ہیں ۔ میں دیگر شرکاء سے معذرت کے ساتھ ، شاکر بھائی کی اس پوسٹ کے ایک ایک پیرا کا تفصیل سے جواب دینا ضروری سمجھتا ہوں ۔ امید کہ قارئین برداشت فرمائیں گے ، شکریہ ۔

===
اسلامی قانون کی سب سے بڑی کتاب قرآن حکیم قیامت تک آنے والے انسانوں کو ایسے قوانین فراہم کرتی ہے جس پر عمل پیرا ہو کر ہدایت یافتہ ہو ا جا سکتا ہے
---
اس کے بعد بعض ایسے اعمال ہیں جن کے بارے میں قرآن مجید میں تو صراحت نہیں
مگر حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ان میں رہنمائی مل جاتی ہے

---
کیا تمام کے تمام قارئین بس اتنے ہی معصوم ہیں کہ وہ ان دو جملوں کا تضاد معلوم نہ کر سکیں ؟
ایک طرف تو کہا جائے کہ قرآن ایسے قوانین فراہم کرتا ہے جس پر عمل پیرا ہو کر ہدایت یافتہ ہوا جا سکتا ہے پھر دوسری ہی سانس میں اس قول کی نفی کرتے ہوئے فرمایا جاتا ہے کہ : بعض ایسے اعمال ہیں جن کے بارے میں قرآن مجید میں تو صراحت نہیں ۔
انسان (مسلمان) اللہ کے نازل کیے ہوئے تمام قوانین پر عمل کر کے ہی ہدایت یافتہ ہو سکتا ہے ، جیسا کہ فرمایا کہ :
اسلام میں پورے کے پورے داخل ہو جاؤ ۔
اللہ نے عبادت اور عقائد کے معاملات ، انسانوں کی صوابدید پر چھوڑ نہیں دئے ہیں کہ جس کو جو قانون پسند آئے اس پر عمل کرلے اور جو ناپسند ہو وہ چھوڑ دے ۔ یہ تو عین نفس پرستی ہوگی ، اطیعواللہ و اطیعوالرسول نہیں !
اگر قرآن عقیدہ ، عبادت ، معاملات ، امر و نھی کے احکام وغیرہ کے تعلق سے ایک مکمل کتاب ہے تو ذرا بتائیے کہ :
نماز ، جو دین کا دوسرا اہم ستون ہے اور روزِ محشر جس کی پوچھ سب سے پہلے ہونے والی ہے ۔۔۔ اس کا مکمل طریقہ قرآن میں کس جگہ بیان فرمایا گیا ہے ؟ جبکہ اللہ تعالیٰ تو قرآن حکیم میں سات سو سے زائد دفعہ نماز کی تاکید کرتا ہے۔ بتائیے قرآن میں اتنی اہم تاکید کا کہاں ذکر ہے کہ کب کب پڑھی جائے ، کیسے پڑھی جائے اور کتنی پڑھی جائے ؟
اللہ تعالیٰ نماز کی پابندی کی سینکڑوں بار قرآن میں وارننگ دے مگر ایک بار بھی اسی قرآن میں نماز کی پوری ترکیب نہ بتائے ؟؟ کیا اس کے باوجود یہ دعویٰ کیا جا سکتا ہے کہ : قرآن ایک مکمل کتاب ہے ؟؟

بےشک قرآن میں خود اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ :
أَنْزَلَ إِلَيْكُمُ الْكِتَابَ مُفَصَّلاً (6:114)
لیکن ۔۔۔ قرآن ، ایک مفصل کتاب اجمالی معنوں میں ہے ، جزئی تفصیلات کے معنوں میں نہیں ۔ اور جزئیات کی ایک ایک تفصیل کے لیے اللہ تعالیٰ نے خود قرآن میں فرمایا ہے کہ : رسول کی اتباع کرو تو تم ہدایت یافتہ ہو جاؤ گے ! اب رسول کی اتباع کرنے کے لیے لازماََ رسول اللہ (ص) سے منسوب صحیح احادیث کی جانب رجوع ہونا پڑے گا ۔
لہذا خوب یاد رکھنا چاہئے کہ اللہ کی ذمہ داری صرف کلام اللہ (قرآن) نہیں بلکہ پوری شریعت کے نزول کی ہے ۔
اور شریعت صرف تنہا قرآن سے نہیں بنتی ۔۔۔ بلکہ قرآن اور حدیث دونوں سے مل کر بنتی ہے ! حدیثِ رسول (قول و فعل و تقریر) ۔۔۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذاتی ارشادات ( مع افعال و تقاریر) کا مجموعہ نہیں بلکہ حدیث بھی خود اللہ کی جانب سے نازل کردہ ہے (بشرطیکہ صحیح ثابت ہو جائے !)۔
قرآن خود کہتا ہے کہ :
نبی اپنی خواہش سے کلام نہیں کرتے ۔ (53:3)
حدیثیں (صحیح) بھی اللہ کی وحی ہیں جن کو وحی خفی کہا جاتا ہے ۔
خیر ، یہ ایک علحدہ موضوع ہے جس پر تفصیل سے لکھنا بھی آج کل کے ماحول میں ضروری ہوتا جا رہا ہے ۔۔۔ انشاءاللہ حسبِ توفیق للہ ۔۔۔ جلد !

===
پھر بعض ایسے اعمال بھی ہیں کہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ان میں کامل رہنمائی نہیں فرمائی

ایسے جو بھی اعمال ہیں وہ بہرحال شرعی اعمال نہیں ہیں ۔ کیونکہ شریعت تو نبی کریم (ص) کی زندگی ہی میں مکمل ہو گئی تھی ۔ اور ایسا دعویٰ تو ایک کافر ہی کر سکتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ادھوری شریعت چھوڑ کر گئے ہیں ۔
درج ذیل جو معاملات بیان کیے گئے ہیں :
جمع قرآن حکیم بین الدفتین
تراویح کا باقاعدہ اہتمام
جمعہ کی دوسری اذان
صبح کی اذان میں الصلوۃ خیر من النوم کا اضافہ


یہ تمام معاملات تدبیری امور سے تعلق رکھتے ہیں ۔ تدبیری امور سے مراد یہ ہے کہ کسی امر کے متعلق شرعی حکم موجود ہے لیکن دورِ نبوی (ص) میں اس کے اطلاق کا موقع نہیں آیا ۔ بلکہ جب بعد میں موقع آیا تو اس پر شرعی حکم کا اطلاق کر دیا گیا ۔

جمع قرآن :
اس کی تفصیل یہاں پڑھ لیں ۔
مزید تفصیل بھی جلد پیش کروں گا ، انشاءاللہ ۔

جمعہ کی دوسری اذان :
اذان کا مسئلہ شرعی بھی ہے اور تدبیری بھی ۔ شرعی اس لحاظ سے کہ اذان کے کلمات بذریعہ الہام طے ہوئے ۔ تدبیری اس لحاظ سے کہ اذان سے متعلق دورِ نبوی میں باقاعدہ مجلسِ مشاورت قائم ہوئی تھی ۔ اذان کے بعد مسجد میں جا کر خطبہ سننا فرض اور دوسرا کوئی بھی کام کاج کرنا حرام ہو جاتا ہے ۔ جب دورِ عثمانی میں مدینہ کی آبادی دور دور تک پھیل گئی اور یہ خطرہ پیدا ہو گیا کہ دور رہنے والے لوگ اگر اذان سن کر چلیں تو ان کے مسجد پھنچنے تک خطبہ جمعہ اور نمازِ جمعہ ختم ہی نہ ہوجائے اور لوگ بلاارادہ ہی ایک گناہ کے مرتکب نہ ہوں ، لہذا ایک اہم دینی ضرورت کی خاطر خطبہ جمعہ سے پہلے لوگوں کو بروقت متنبہ کرنے کے لیے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ایک اذان کا اضافہ کیا ۔ البتہ اذان کے الفاظ وہی رہے جو الہامی تھے ، ان میں کوئی ردّ و بدل نہیں کیا گیا ۔

صبح کی اذان میں الصلوۃ خیر من النوم کا اضافہ :
یہ ایک مغالطہ ہے جس کو ابتداء میں غلط طور پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب کر دیا گیا ہے ۔
موطا مالک اور سنن نسائی کی صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ صبح کی اذاں میں ان الفاظ کا اضافہ خود رسول اللہ کے حکم سے ہے ۔
موطا مالک کی حدیث کا عربی متن یہاں

موطا مالک کی جس روایت سے یہ مغالطہ پیدا ہوا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے الفاظ کا اضافہ کیا ۔ اس کی تشریح بھی اسی روایت میں ہے ۔ حضرت عمر (رض) کے پاس موذن نمازِ صبح کی خبر کرنے آیا تو آپ (رض) کو سوتا پاکر یہ الفاظ دہرائے تو آپ (رض) نے جواب دیا کہ اس کلمے کو صبح کی اذان میں کہا کرو ۔ حضرت عمر کا مطلب یہ تھا کہ اس کلمے کے کہنے کا اصل موقع صبح کی اذان کے اندر ہے نہ کہ اذان سے باہر ۔ کیونکہ اذان کے بعد کسی کے پاس جاکر یہ کلمہ کہنا قطعاََ درست نہیں اور یہ کلمہ دورِ نبوی میں صبح کی اذان میں ہی کہا جاتا تھا ۔

تراویح کا باقاعدہ اہتمام :
یہ معاملہ امدادی امور سے تعلق رکھتا ہے ۔ امدادی امور سے مراد ایسی باتیں ہیں جن کے متعلق اصولی طور پر واضح احکام موجود ہیں اور انہی واضح احکام کی تعمیل کو مزید تقویت پہنچانے کے لیے کوئی قدم اٹھایا جائے ۔
باقاعدہ اہتمام سے مراد اگر جماعت سے نماز کی ادائیگی ہے تو یہ سنتِ رسول سے ثابت ہے ۔ رسول اللہ نے خود تین ایام نماز تراویح باجماعت پڑھائی تھی ۔
اگر باقاعدہ اہتمام سے مراد پورا رمضان جماعتِ تراویح کا التزام ہے تو یہ حضرت عمر کا حکم نہیں تھا اور نہ ہی اس حکم پر صحابہ کا اجماع ہوا ۔ بخاری کی وہ روایت جس میں حضرت عمر کا یہ حکم ہے اگر غور سے پڑھی جائے تو معلوم ہوگا کہ خود حضرت عمر باجماعت نماز میں شامل نہیں ہوتے تھے بلکہ رات کے پچھلے پہر میں نمازِ تراویح ادا فرماتے تھے ۔ رمضان کا پورا مہینہ نمازِ تراویح کا التزام دراصل مسلمانوں کا اپنا پیدا کردہ ہے ۔

مثلا حضرت عمر کا ارشاد کہ
اللہ تعالی کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جہان فانی سے پردہ کیا اور ہم پر ربو کے بارے میں مکمل وضاحت کر کے نہ گئے ﴿معدن الحقائق شرح کنزالدقائق ﴿باب ربو﴾﴾

اس کی وضاحت ، مناسب موقعے پر تفصیل سے کروں گا ، انشاءاللہ ۔

(۔۔۔ جاری ہے !)
 
Top