تعارف از زین

طالوت

محفلین
خوش آمدید زین ۔
مگر حضرت یہ بتائیے کہ جالوت کے بارے میں کچھ جانتے بھی ہیں یا محض طالوت جالوت کا ذکر سن کر یہ نام اختیار کر لیا ؟

سورہ بقرہ کی آیت 249 کا مفہوم ملاحظہ ہو ۔

پھر جب طالوت لشکروں کو لے کر شہر سے جدا ہوا بولا بیشک اللہ تمہیں ایک نہر سے آزمانے والا ہے تو جو اس کا پانی پئے وہ میرا نہیں اور جو نہ پیئے وہ میرا ہے مگر وہ جو ایک چلُو اپنے ہاتھ سے لے لے (ف506) تو سب نے اس سے پیا مگر تھوڑوں نے (ف507) پھر جب طالوت اور اس کے ساتھ کے مسلمان نہر کے پار گئے بولے ہم میں آج طاقت نہیں جالوت اور اس کے لشکروں کی بولے وہ جنہیں اللہ سے ملنے کا یقین تھا کہ بارہا کم جماعت غالب آئی ہے زیادہ گروہ پر اللہ کے حکم سے، اور اللہ صابروں کے ساتھ ہے (ف508 )
پھر جب چلا طالوت لشکر لے کر تو اس نے کہا بیشک اللہ آزمائش کرے گا تمہاری ایک دریا سے سو جو شخص پئے گا (پانی) اس میں سے تو وہ نہیں ہے میرا ساتھی اور جو نہ پیئے گا اسے تو ہو بیشک میرا ساتھی ہے ہاں اگر کوئی بھرلے چلّو بھر (پانی) اپنے ہاتھ سے (خیر) مگر پی لیا انہوں نے اس میں سے (سیر ہوکر) سوائے گروہ قلیل کے ان میں سے۔ پھر جب پار ہوا دریا سے وہ خود اور اہلِ ایمان جو اس کے ساتھ تھے تو کہنے لگے نہیں ہے مقابلے کی طاقت ہم میں آج، جالوت اور اس کے لشکر سے۔ کہنے لگے وہ لوگ جو سمجھتے تھے کہ انہیں حاضر ہونا ہے اللہ کے سامنے، کہ بارہا ایک گروہ قلیل غالب آیا ہے بڑے گروہ پر اللہ کے حُکم سے۔ اور اللہ ساتھ ہے صبر کرنے والوں کے “

اگر چہ بہت سے نام ایسے موجود ہیں جو ہم رکھتے ہیں اور اسلام کے بدترین دشمنوں میں شمار ہوتے ہیں ، مگر جالوت ایک ہی ایک اب تک پایا ہے ۔ ویسے اس پر محفلین کی رائے بھی چاہوں گا کہ اس عرفیت کو اختیار کرنا کیسا ہے ؟
(زین : اب اس پر بات مکمل ہو تو پھر ہی عرفیت بدلنا)
وسلام
محفلین ، میرا مقصد اس دھاگے کو اکھاڑا بنانا ہرگز نہیں ۔ ایک سطری رائے چاہتا ہوں ۔
وسلام
 
Top