اردو محفل سالانہ عالمی اردو مشاعرہ ۔ اعلان 2016

ادریس آزاد

محفلین
السلام علیکم احباب!

مدت بعد خود کو اردو محفل میں پا کر جو خوشی محسوس ہورہی ہے اس کا اندازہ صرف مجھے ہی ہے۔ اپنے ، بہت ہی پیارے دوست فاتح الدین بشیر کی یاددہانی اور مشاعرے کی دعوت پر آج اردو محفل میں حاضری کا موقع ملا اور یوں ایک بار پھر فاتح نے اپنا ممنون کرلیا۔ مشاعرے کی مبارکباد اور انشااللہ بھرپور شرکت رہیگی۔ اللہ آپ سب احباب کو سدا سُکھی رکھے۔ آمین
اردو محفل کا سالانہ مشاعرہ 2016
شعر و ادب سے تعلق رکھنے والے احباب کو یہ جان کر خوشی ہوگی کہ اردو محفل کی گیارہویں سالگرہ کی تقریبات
جاری ہیں ۔ اس سلسلے میں اردومحفل کے عالمی مشاعرے
کا انعقادکیا جارہا ہے۔
شعراء کرام کو ، باقاعدہ دعوت نامہ ارسال کیا جائے گا البتہ محفلین سے گزارش ہے کہ وہ ذاتی طور پر اسی لڑی میں اپنی دلچسپی کا اظہار فرمائیں اور اپنی شرکت کا اعلان فرمائیں۔

مشاعرے میں نشت و برخاست کا مکمل تہذیبی پاس رکھتے ہوئے
صدرِ مشاعرہ، مہمانان خصوصی کی مسند بھی رہے گی۔
سامعین (قارئین ) داد ، پسند کی ناب سے ہی ادا کرپا ئیں گے، البتہ
تبصرہ جات کے لیے الگ لڑی کا اہتمام کیا جائے گا،
صدر و مہمانان باقاعدہ مشاعرے کےبارے میں اپنے تاثرات بھی بیان کریں گے
یوں ایک یادگار عالمی مشاعرہ محفل کے حسن کو چار چاند لگانے میں اپنا حصہ ملائے گا۔
درخواست ہے کہ شعراء کرام اپنی شمولیت سے
آگاہ فرماکر ہمیں ممنون و متشکر ہونے کا موقع دیں۔

انتظامیہ اردو محفل مشاعرہ:



مقدس (اسٹیج سکریٹری)
حسن محمود جماعتی (اسٹیج سکرٹری)
محمد بلال اعظم
محمد تابش صدیقی (ناظمِ مشاعرہ)
محمد خلیل الرحمن
 
السلام علیکم احباب!

مدت بعد خود کو اردو محفل میں پا کر جو خوشی محسوس ہورہی ہے اس کا اندازہ صرف مجھے ہی ہے۔ اپنے ، بہت ہی پیارے دوست فاتح الدین بشیر کی یاددہانی اور مشاعرے کی دعوت پر آج اردو محفل میں حاضری کا موقع ملا اور یوں ایک بار پھر فاتح نے اپنا ممنون کرلیا۔ مشاعرے کی مبارکباد اور انشااللہ بھرپور شرکت رہیگی۔ اللہ آپ سب احباب کو سدا سُکھی رکھے۔ آمین
و علیکم السلام!
آمین۔ جزاک اللہ محترم، آپ کو یہاں پا کر نا قابلِ بیان خوشی محسوس ہو رہی ہے۔
مشاعرہ میں آپ کی شرکت ہمارے لئے باعثِ سعادت ہے۔ :)
 

محمد وارث

لائبریرین
السلام علیکم احباب!

مدت بعد خود کو اردو محفل میں پا کر جو خوشی محسوس ہورہی ہے اس کا اندازہ صرف مجھے ہی ہے۔ اپنے ، بہت ہی پیارے دوست فاتح الدین بشیر کی یاددہانی اور مشاعرے کی دعوت پر آج اردو محفل میں حاضری کا موقع ملا اور یوں ایک بار پھر فاتح نے اپنا ممنون کرلیا۔ مشاعرے کی مبارکباد اور انشااللہ بھرپور شرکت رہیگی۔ اللہ آپ سب احباب کو سدا سُکھی رکھے۔ آمین
خوش آمدید محترم ادریس صاحب، آپ کو یہاں دیکھ کر ہم سب کو بھی خوشی ہوئی :)
 

فاتح

لائبریرین
السلام علیکم احباب!

مدت بعد خود کو اردو محفل میں پا کر جو خوشی محسوس ہورہی ہے اس کا اندازہ صرف مجھے ہی ہے۔ اپنے ، بہت ہی پیارے دوست فاتح الدین بشیر کی یاددہانی اور مشاعرے کی دعوت پر آج اردو محفل میں حاضری کا موقع ملا اور یوں ایک بار پھر فاتح نے اپنا ممنون کرلیا۔ مشاعرے کی مبارکباد اور انشااللہ بھرپور شرکت رہیگی۔ اللہ آپ سب احباب کو سدا سُکھی رکھے۔ آمین
ادریس بھائی، ممنون تو ہم ہیں آپ کی محبتوں پر اور مان رکھنے پر۔
یہ رہیں مشاعرے اور مشاعرے پر ہونے والے تبصروں لی لڑیاں:
آپ ابھی تک کی کاروائی یہاں ملاحظہ فرما سکتے ہیں.
یہاں مشاعرے پر تبصرے ہیں۔ اور یہاںمشاعرہ ہو رہا ہے۔
 

فىصل انس

محفلین
کامل محبت

تو دور بھلے ہی مجھ سے ہے
پر یاد میں میری ہر دم ہے
تو سوچ میں میری ہر لمحہ
تو دل کی دھڑکن ہے ہمدم
تو خون کی میرے سرخی ہے
تو ہاتھ کی میرے حرکت ہے
تو راہ کی میرے رہبر ہے
تو ہر شب خواب کی رؤیت ہے

آتجھکو بتاؤں اے جاناں
تو فکر میں میری کیسی ہے
تو چھوئی موئی کا پودا ہے
میں ہاتھ لگاؤں کھل جائے
میں گر تجھے چھوڑوں مرجھانے
میں تجھکو نہاروں شرمائے
میں کچھ تجھے بولوں اترائے
پھر تو مجھے دیکھے للچائے
پھر تو جو چلے تو بل کھائے
پھر وہ ہمیں دیکھے غصائے
یہ کیسی محبت اُف ہائے

تیرا حسن تو ایک معمہ ہے
تجھے دیکھ کے دل نہیں بھرتا ہے
تجھے جتنا دیکھتا رہتا ہوں
تجھے اتنا سوچتا رہتا ہوں
تو قابل دید مجسم ہے
تو قابل فکر وہ خلقت ہے
دو سجدے کروں اس خالق کو
وہ جس نے تجھکو بنایا ہے

اللہ کو ناظر سمجھوں میں
اور بات یہ کھل کر کہدوں میں
جب تو نہیں دکھتی اے جاناں
تب دل یہ گویا دل ہی نہیں
اور رات قیامت ہوتی ہے

اب تو جو بضد ہے جانے پر
جا شوق سے جا پر وعدہ کر
کل خواب میں تجھکو آنا ہے
اور کان میں میرے آہستہ
ایک بات تجھے پھر کہنی ہے
فیصل! یہ محبت کامل ہی
پر، وصل میں قسمت حائل ہے

فیصل أنس
 
مدیر کی آخری تدوین:
کامل محبت

تو دور بھلے ہی مجھ سے ہے
پر یاد میں میری ہر دم ہے
تو سوچ میں میری ہر لمحہ
تو دل کی دھڑکن ہے ہمدم
تو خون کی میرے سرخی ہے
تو ہاتھ کی میرے حرکت ہے
تو راہ کی میرے رہبر ہے
تو ہر شب خواب کی رؤیت ہے

آتجھکو بتاؤں اے جاناں
تو فکر میں میری کیسی ہے
تو چھوئی موئی کا پودا ہے
میں ہاتھ لگاؤں کھل جائے
میں گر تجھے چھوڑوں مرجھانے
میں تجھکو نہاروں شرمائے
میں کچھ تجھے بولوں اترائے
پھر تو مجھے دیکھے للچائے
پھر تو جو چلے تو بل کھائے
پھر وہ ہمیں دیکھے غصائے
یہ کیسی محبت اُف ہائے

تیرا حسن تو ایک معمہ ہے
تجھے دیکھ کے دل نہیں بھرتا ہے
تجھے جتنا دیکھتا رہتا ہوں
تجھے اتنا سوچتا رہتا ہوں
تو قابل دید مجسم ہے
تو قابل فکر وہ خلقت ہے
دو سجدے کروں اس خالق کو
وہ جس نے تجھکو بنایا ہے

اللہ کو ناظر سمجھوں میں
اور بات یہ کھل کر کہدوں میں
جب تو نہیں دکھتی اے جاناں
تب دل یہ گویا دل ہی نہیں
اور رات قیامت ہوتی ہے

اب تو جو بضد ہے جانے پر
جا شوق سے جا پر وعدہ کر
کل خواب میں تجھکو آنا ہے
اور کان میں میرے آہستہ
ایک بات تجھے پھر کہنی ہے
فیصل! یہ محبت کامل ہی
پر، وصل میں قسمت حائل ہے

فیصل أنس
آپ ابھی تک کی کاروائی یہاں ملاحظہ فرما سکتے ہیں.

یہاں مشاعرے پر تبصرے ہیں۔ اور یہاںمشاعرہ ہو رہا ہے۔
 
Top