ادا جینے کی سیکھو گردش حالات سے پہلے ۔ فرات غضنفر

ام اویس

محفلین
ادا جینے کی سیکھو گردشِ حالات سے پہلے
مکاں مضبوط کرلو موسمِ برسات سے پہلے

ازل کی صبح کا وعدہ لہو میں سنسناتا ہے
مجھے لبیک کہنا ہے شعورِ ذات سے پہلے

اب ان کے واسطے عصبیتوں کا زہر کافی ہے
مرا کرتے تھے انساں قدرتی آفات سے پہلے

یہی ڈر ہے کہ پھر دردِ جدائی گُنگ کردے گا
مجھے اک بات کہنی ہے تمہاری بات سے پہلے

ہماری صف میں کچھ ابن اُبی کے نام لیوا ہیں
یہ لشکر چھوڑ دیں گے آنے والی رات سے پہلے

ابھی تو معجزے کا لمحۂ امکان باقی ہے
کرو اک آخری کوشش یقینی مات سے پہلے
 
Top