اجتماعات پر پابندی مسترد، پی ڈی ایم کا پشاور میں تاریخی جلسہ کرنے کا اعلان

جاسم محمد

محفلین
اجتماعات پر پابندی مسترد، پی ڈی ایم کا پشاور میں تاریخی جلسہ کرنے کا اعلان
ویب ڈیسک 2 گھنٹے پہلے
2107942-fazal-1605979805-400-640x480.jpg

پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے آئندہ بھی جلسے جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے(فوٹو،فائل)

پشاور: سربراہ پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ پشاور میں عظیم الشان اور تاریخی جلسہ ہوگا جسے روکنے کی حکمرانوں کی کوششیں رائیگاں جائیں گی۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک میں اس وقت ناجائز اور نااہل حکومت کے خلاف تحریک جوبن پر ہے، یہ ناجائز حکومت سب سے بڑا کورونا ہے اس سے نجات مل جائے تو قوم تندرست ہوجائے گی، ہم ’’کوڈ 18‘‘ کے خلاف برسر پیکارہیں۔

فضل الرحمان نے کہا کہ ریاستی اداروں کو غیر جانب دار رہنا چاہیے کیوں کہ ملک ڈوب رہا ہے، یہ حکومت انہی کے سہارے آئی اور وہ یہ سہارا ختم کردیں، ہم قوم اور سٹیبلشمنٹ کو ایک ہی صفحہ پر لانا چاہتے ہیں، ملک کے مالک عوام ہیں اور کوئی نہیں، ملک کو خطرہ ہے توعوام، فوج اور ہم سب کو اکٹھا ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ بجٹ کی سالانہ شرح نمو اعشاریہ 4 پر پہنچ گئی، ملک معاشی انحطاط کا شکار ہو تو ملک کا وجود خطرے میں پڑ جاتا ہے، ریاستی ادارے اپنا کردار ادا کریں، ریاستی ادارے ایسی ناجائز حکومت کی پشت پناہی نہ کریں، کیا وہ بھی ریاست کے خطرے کے ذمہ دارہیں؟

واضح رہے کہ پشاور انتظامیہ نے تاحال اپوزیشن اتحاد کو جلسے کی اجازت نہیں دی جب کہ خیبر پختون خوا کے صوبائی وزرا نے اعلان کیا ہے کہ پی ڈی ایم کے جلسے کے بعد کورونا میں اضافہ ہوا تو اپوزیشن کے خلاف مقدمات درج کیے جائیں گے۔ وزیر اعظم عمران خان بھی اپنے ایک بیان میں کورونا وبا کے دوران اجتماعات کے انعقاد پر اپوزیشن پر کڑی تنقید کرچکے ہیں۔
 

جاسم محمد

محفلین
فضل الرحمان نے کہا کہ ریاستی اداروں کو غیر جانب دار رہنا چاہیے کیوں کہ ملک ڈوب رہا ہے، یہ حکومت انہی کے سہارے آئی اور وہ یہ سہارا ختم کردیں، ہم قوم اور سٹیبلشمنٹ کو ایک ہی صفحہ پر لانا چاہتے ہیں، ملک کے مالک عوام ہیں اور کوئی نہیں، ملک کو خطرہ ہے توعوام، فوج اور ہم سب کو اکٹھا ہونا چاہیے۔
تہتر کے آئین میں کہاں لکھا ہے کہ قوم اور اسٹیبلشمنٹ ایک پیج پر ہونی چاہئے؟
فضل الرحمان نے کہا کہ ریاستی اداروں کو غیر جانب دار رہنا چاہیے کیوں کہ ملک ڈوب رہا ہے، یہ حکومت انہی کے سہارے آئی اور وہ یہ سہارا ختم کردیں، ہم قوم اور سٹیبلشمنٹ کو ایک ہی صفحہ پر لانا چاہتے ہیں، ملک کے مالک عوام ہیں اور کوئی نہیں، ملک کو خطرہ ہے توعوام، فوج اور ہم سب کو اکٹھا ہونا چاہیے۔
ملک عوام اور فوج کا بھی اتنا ہی ہے جتنا حکومت اور اپوزیشن کا۔
انہوں نے کہا کہ بجٹ کی سالانہ شرح نمو اعشاریہ 4 پر پہنچ گئی، ملک معاشی انحطاط کا شکار ہو تو ملک کا وجود خطرے میں پڑ جاتا ہے، ریاستی ادارے اپنا کردار ادا کریں، ریاستی ادارے ایسی ناجائز حکومت کی پشت پناہی نہ کریں، کیا وہ بھی ریاست کے خطرے کے ذمہ دارہیں؟
پچھلی حکومت ختم ہونے کے بعد جو ریاستی اداروں کی معاشی چیخیں نکلیں تھی، ان کو یاد رکھتے ہوئے نہ چاہتے ہوئے بھی وہ اس حکومت کا ساتھ دینے پر مجبور ہیں۔








 

بابا-جی

محفلین
جلسوں سے حکُومتیں نہیں گِرتیں۔ حکُومت کارکردگی پر توجہ دے اور کوئی ایسا 'ایڈونچر' نہ کرے کہ اپنے بوجھ سے ہی گِر جائے۔ حکُومتی وُزراء کی اُچھل کُود سے اندیشے سر اُٹھا رہے ہیں۔
 
Top