میر اب اپنے قدِ راست کو خم دیکھتے ہیں ہائے - میر تقی میر

حسان خان

لائبریرین
اب اپنے قدِ راست کو خم دیکھتے ہیں ہائے​
ہستی کے تئیں ہوتے عدم دیکھتے ہیں ہائے​
​
سنتے تھے کہ جاتی ہے ترے دیکھنے سے جاں​
اب جان چلی جاتی ہے ہم دیکھتے ہیں ہائے​
​
کیا روتے ہیں یارانِ گذشتہ کے لیے ہم​
جب راہ میں کچھ نقشِ قدم دیکھتے ہیں ہائے​
​
کچھ عشق کی آتش کی لپٹ پہنچی ہمیں زور​
سب تن بدن اپنے کو بھسم دیکھتے ہیں ہائے​
​
دل چاک ہے جاں داغ جگر خوں ہے ہمارا​
ان آنکھوں سے انواعِ ستم دیکھتے ہیں ہائے​
​
مایوس نہ کس طور جہاں سے رہیں ہم میر​
اب تاب بہت جان میں کم دیکھتے ہیں ہائے​
​
(میر تقی میر)​
 
محفل فورم صرف مطالعے کے لیے دستیاب ہے۔
Top