جون ایلیا ابھی اک شور سا اٹھا ہے کہیں۔۔۔۔جون ایلیا

قرۃالعین اعوان

لائبریرین
ابھی اک شور سا اٹھا ہے کہیں​
کوئی خاموش ہوگیا ہے کہیں​
ہے کچھ ایسا کہ جیسے یہ سب کچھ​
اس سے پہلے بھی ہوچکا ہے کہیں​
تجھ کو کیا ہوگیا کہ چیزوں کو​
کہیں رکھتا ہے ڈھونڈتا ہے کہیں​
جو یہاں سے کہیں نہ جاتا تھا​
وہ یہاں سے چلا گیا ہے کہیں​
آج شمشان کی سی بو ہے یہاں​
کیا کوئی جسم جل رہا ہے کہیں​
ہم کسی کے نہیں جہاں کے سوا​
ایسی وہ خاص بات کیا ہے کہیں​
تو مجھے ڈھونڈ میں تجھے ڈھونڈوں​
کوئی ہم میں سے رہ گیا ہے کہیں​
کتنی وحشت ہے درمیانِ ہجوم​
جس کو دیکھو گیا ہوا ہے کہیں​
میں تو اب شہر میں کہیں بھی نہیں​
کیا مرا نام بھی لکھا ہے کہیں​
اسی کمرے سے کوئی ہوکے وداع​
اسی کمرے میں چھپ گیا ہے کہیں​
مل کے ہر شخص سے ہوا محسوس​
مجھ سے یہ شخص مل چکا ہے کہیں​
 

فاتح

لائبریرین
واہ واہ کیا ہی خوبصورت انتخاب ہے قرۃالعین اعوان
زندہ باد
خصوصاً یہ اشعار تو جان نکال لینے والے ہیں
آج شمشان کی سی بو ہے یہاں
کیا کوئی جسم جل رہا ہے کہیں

تو مجھے ڈھونڈ میں تجھے ڈھونڈوں
کوئی ہم میں سے رہ گیا ہے کہیں​
 

قرۃالعین اعوان

لائبریرین
واہ واہ کیا ہی خوبصورت انتخاب ہے قرۃالعین اعوان
زندہ باد
خصوصاً یہ اشعار تو جان نکال لینے والے ہیں
آج شمشان کی سی بو ہے یہاں​
کیا کوئی جسم جل رہا ہے کہیں​
تو مجھے ڈھونڈ میں تجھے ڈھونڈوں​
کوئی ہم میں سے رہ گیا ہے کہیں​
بے حد شکریہ بھیا!
 
Top