ابراج گروپ کے سربراہ عارف نقوی کو انٹرپول نے برطانیہ میں گرفتار کر لیا

جاسم محمد

محفلین
ابراج گروپ کے سربراہ عارف نقوی کو انٹرپول نے برطانیہ میں گرفتار کر لیا
ریاض سہیل بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
  • 47 منٹ پہلے
_106426030_abraaj.jpg

تصویر کے کاپی رائٹREUTERS
Image captionابراج گروپ کے سربراہ عارف نقوی
برطانیہ میں انٹرپول نے ابراج گروپ کے سربراہ عارف نقوی کو گرفتار کرلیا ہے۔ ان پر اپنے سرمایہ کاروں سے دھوکہ دہی کا الزام ہے۔

عارف نقوی پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کو بجلی فراہم کرنے والے ادارے ’کے الیکٹرک‘ کے سب سے بڑے شراکت دار ہیں۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کا کہنا ہے کہ عارف نقوی کے ساتھی عبدالودود کو امریکہ میں گرفتار کیا گیا ہے، دونوں پر پراسیکیوٹر نے الزام عائد کیا ہے کہ انھوں نے ہزاروں ملین ڈالرز کی سرمایہ کاری کا غلط استعمال کیا۔ امریکہ کے سیکیورٹی ایکسچینج کمیشن کی شکایت پر یہ کارروائی کی گئی ہے۔ عارف نقوی اپنے خلاف الزامات کی تردید کر چکے ہیں کہ انھوں نے ابراج ایکوٹی سےفنڈز کو ٹرانسفر کر کےکوئی غیر قانونی کام کیا ہے۔

عارف نقوی کون ہے؟
عارف نقوی سنہ 1960 میں کراچی کے ایک متوسط طبقے میں پیدا ہوئے، انھوں نے لندن اسکول آف اکنامکس سےگریجوئیشن کی، جس کے بعد کراچی میں امریکن ایکسپریس سے منسلک ہوگئے۔

سنہ 1994 میں عارف نقوی نے 50 ہزار امریکی ڈالر کی خطیر رقم سے دبئی میں سرمایہ کاری کا آغاز کیا۔ انھوں نے پہلے دبئی میں کپولا کے نام سے کمپنی بنائی اور اس کے ساتھ ابراج کے نام سے سرمایہ کار گروپ قائم کیا جو ابھرتی ہوئی منڈیوں میں سرمایہ کاری کرنے والا پہلا گروپ تھا۔

سنہ 2016 میں ابراج نے کریم کار میں بھی سرمایہ کاری کی اور دو سال کے بعد وہاں سے سرمایہ نکال لیا۔

_106426034__103923792_gettyimages-481995659.jpg

تصویر کے کاپی رائٹGETTY IMAGES
Image captionابراج گروپ مشرق وسطی اور شمالی امریکہ میں سب سے بڑا سرمایہ کار گروپ تھا
ابراج گروپ کا عروج اور زوال
ابراج گروپ مشرق وسطیٰ اور شمالی امریکہ میں سب سے بڑا سرمایہ کار گروپ تھا۔ سنہ 2002 میں قائم اس گروپ کے 25 ممالک کے ساتھ ساتھ دبئی، استنبول، میکسیکو سٹی، ممبئی، نیروبی اور سنگاپور میں ریجنل دفاتر ہیں۔

پوری دنیا میں گروپ کی 17 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری تھی جس میں سنہ2017 کے اختتام تک کمی آتی گئی اور یہ 3 عشاریہ 8 بلین ڈالر تک پہنچ گئی اور اس کی وجہ سرمایہ کاروں کی بےاعتمادی بنی جن میں عالمی بینک اور بل اینڈ ملینڈا گیٹس فاؤنڈیشن بھی شامل ہیں۔

دونوں اداروں نے بھارت، پاکستان اور نائیجریا میں سکول اور ہسپتالوں کے قیام کے لیے فنڈز فراہم کیے تھے، عارف نقوی پر الزام ہے کہ دونوں اداروں کے فنڈ ابراج گروپ کے اکاؤنٹ میں منتقل ہوئے جس کے بعد عارف نقوی کے اکاؤنٹ میں منتقل کردیئے گئے اور سرمایہ کاروں کو اس سے آگاہ نہیں کیا گیا۔

ابراج گروپ اور کے الیکٹرک
ابراج گروپ نے سنہ 2009 میں 1.4 بلین ڈالرز کی سرمایہ کاری سے کے الیکٹرک کے اکثریتی شیئر خرید کر انتظامی اختیار حاصل کیا۔ پاکستان کے سب سے گنجان آبادی والے شہر کراچی کو بجلی فراہم کرنے والے اس ادارے کے 25 لاکھ صارفین ہیں اور یہ ادارہ نہ صرف بجلی کی پیداوار کرتا ہے جبکہ بجلی کی فراہمی اور منتقلی بھی اسی کے ذمے ہے۔

ابراج گروپ نے جب کے الیکٹرک کا انتظام سنبھالا تو اس وقت بجلی کے بحران کا سامنا تھا۔

کے الیکٹرک‘ کی فروخت کی کوشش

یہ بات بھی دلچسپ ہے کہ ابراج گروپ جب مالی بحران کا شکار ہوا، تو ان ہی دنوں یہ بات بھی سامنے آئی کہ گروپ اپنے 66 فیصد شیئر ایک ارب 70 کروڑ ڈالر میں چین کی شہنگائی الیکٹرک کمپنی کو فروخت کرنا چاہتا تھا، جس کی کوششیں گزشتہ دور حکومت سے جاری ہیں۔

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جنرل نے اپنی ایک رپورٹ میں الزام عائد کیا تھا کہ کے الیکٹرک کی فروخت میں وزیراعظم میاں نواز شریف کے تعاون کے لیے ابراج گروپ کے سربراہ عارف نقوی نے ایک بزنس مین کو 20 بلین ڈالر کی پیشکش کی تھی تاہم میاں نواز شریف اور عارف نقوی ان الزامات کو مسترد کرچکے ہیں۔

عارف نقوی کی گرفتاری سے قبل وزیر اعظم عمران خان اور شہنگائی الیکٹرک کمپنی کے سربراہ میں ملاقات ہوچکی ہے جس میں عارف نقوی بھی شریک تھے۔ کے الیکٹرک کی فروخت سے قبل کمپنی کو نجکاری کمیشن سے نیشنل سکیورٹی سرٹیفیکیٹ مطلوب ہے جبکہ مختلف سرکاری محکموں کے کمپنی پر واجبات بھی ہیں۔

_106426037__103923796_gettyimages-481995679.jpg

تصویر کے کاپی رائٹGETTY IMAGES
عارف نقوی اور ستارہ امتیاز

عارف نقوی نے اپنی پاکستانی شہریت برقرار رکھی ہے۔ وہ پاکستان کے سب سے بڑے بزنس اسکول انسٹیٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹرینش کے طلب علموں کی مالی معاونت کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ انھوں نے کراچی میں امن فاؤنڈیشن کے نام سے فلاحی ادارا قائم کیا ہے، جو نہ صرف جدید ایمبولینس کی سہولت فراہم کرتا ہے بلکہ نوجوانوں کو جدید فنی تعلیم بھی دیتا ہے۔ عارف نقوی کے ساتھ ان کی اہلیہ فائزہ نقوی بھی اس ادارے کو چلاتی ہیں۔

حکومت پاکستان نے سنہ 2011 میں ان کی خدمات کے اعتراف میں انھیں ستارہ امتیاز سے نوازا تھا۔ اس کے علاوہ انھیں اوسلو بزنس فار پیس ایوارڈ دیا گیا۔ وہ انٹرپول فاؤنڈیشن کے ٹرسٹی اور اقوام متحدہ کے بعض بورڈز کے رکن بھی ہیں۔
 

احمد محمد

محفلین
ابراج گروپ نے سنہ 2009 میں 1.4 بلین ڈالرز کی سرمایہ کاری سے کے الیکٹرک کے اکثریتی شیئر خرید کر انتظامی اختیار حاصل کیا۔
:applause:

ایک رپورٹ میں الزام عائد کیا تھا کہ کے الیکٹرک کی فروخت میں وزیراعظم میاں نواز شریف کے تعاون کے لیے ابراج گروپ کے سربراہ عارف نقوی نے ایک بزنس مین کو 20 بلین ڈالر کی پیشکش کی تھی
:rollingonthefloor:
 
اندازہ کریں۔ یہ یہ بی بی سی اردو کا صحافتی معیار۔ ملین کو بلین کر دیا :)
اس نکتے کی وضاحت مجھے بھی چاہییے لیکن آپ شاید سب کچھ بی بی سی پر ڈال کر بری الذمہ ہو گئے ہیں۔

آپ جب کوئی خبر شئیر کرتے ہیں تو کیا پہلے پڑھتے نہیں ہیں ؟
 

جاسم محمد

محفلین
آپ جب کوئی خبر شئیر کرتے ہیں تو کیا پہلے پڑھتے نہیں ہیں ؟
مالی اعداد و شمار میں کچھ اغلاط ہیں مگر باقی کی خبر درست ہے۔ ابراج گروپ ایک وقت میں ۱۴ ارب ڈالر کے اثاثے مینیج کر رہا تھا۔ لیکن پھر ایک دن بل گیٹس نے پکڑوا دیا :) نیچے مستند فوربز کی خبر:
Naqvi, a Pakistani expatriate who lived in Dubai for nearly 25 years, created Abraaj in 2002 with around $60 million, mostly from his own money. He was known as a pioneer of emerging-market private equity and impact investing in countries from Africa to southeast Asia. At its height, Abraaj managed $14 billion thanks to organic growth, with 25 offices worldwide
Dubai Emerging Market Maverick Abraaj Gets A Lifeline

 

جاسم محمد

محفلین
ماضی میں بھی پاکستان ا ایک مالیاتی ادارہ بی سی سی آئی 20 ارب ڈالرز کے اثاثوں کے ساتھ دنیا کا ساتواں بڑا نجی بینک ہوا کرتا تھا۔ وہ بھی اسی طرح عالمی بینک فراڈ کے جرم میں مغربی حکومتوں کو جبرا بند کرنا پڑا۔ ہماری قوم کے ماشاءاللہ سے کرتوت ہی اتنے اعلیٰ ہیں۔ ہم دوسروں کو کیا کہیں۔ ہر شاخ پر ایک چور ڈاکو بیٹھا ہے۔
حیرت انگیز طور پر اس بینک کا سربراہ بھی ایک "نقوی" ہی تھا۔
Former B.C.C.I. Chief Given 8-Year Jail Term
 
آخری تدوین:
Top