آیتِ حق

نور وجدان نے 'آپ کی تحریریں' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏دسمبر 2, 2019

  1. نور وجدان

    نور وجدان مدیر

    مراسلے:
    5,306
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Asleep
    یہ سَچی الوہی کیفیت ہے جو ازل سے عطا کردہ ہے... یہ دھیان کی قوت ہے نا جس نے نا جانے کتنی تمناؤں کے سینے چاک کیے، تو کتنے یار فنائیت سے دار بقا کو چلے .. دل میں جو نور ہوتا ہے وہ خود اک تجلی ہوتا ہے . گرد رہ ہوتے دل جانے کتنی بار ٹوٹتا ہے. جب یکجائی کا پیالہ ٹوٹتا ہے تو حق کے سِوا کچھ نَہیں بچتا.. حق کی موج سینے میں پیوست ہوجاتی ہے

    الم نشرح لک صدرک


    یہ دل میں جو آیات ہوتی ہیں، یہ حق کی روشنی ہوتی ہے. یہ نشانِ ھُو ہیں ... ان آیات میں حق ظاہر ہوتا ہے ..یہ ھو اسکی بات ہے. جب دل فنا ہوجاتے ہیں تو کچھ نَہیں بچتا ہے، تب دل کی بقا پہ ھو فائز ہو جاتی ہے.

    عشق کا قصہ صدیوں پر محیط ہے. یہ قصہ اتنا مقدس ہے جتنا کہ اک مجذوب کا دل ... عشق ماشاء اللہ قصہ ہے، یہ داستان ہے کٹھ پتلیوں کی ... یہ تماشائے الفت سَرِ بازار لگاتا ہے کون؟


    صدائے ھو، ساز میں بجتی ہے،تار کو پکڑا جاتا ہے تو بُو علی کا نقارہ سُنا جاتا ہے تو کبھی امیر خسرو کی بات سُنی جاتی ہے. تو کوئی صابر پیا کی طرح عالمِ سکر سے گزر جاتے ہیں ... کچھ ایسے ہوتے ہیں جن کے لیے زمانہ کٹھ پتلی جیسا رقص کرتا ہے. یہ شہباز قلندر پرواز کرتے ہیں ..عشق کا کلمہ کسی کی تسکین اوسط نہیں مگر یہ ساز صدیوں سے قلندروں سے بجتا آیا ہے


    قلندر مثلِ نور ہست ، مجاز کے پرندے، مٹی میں قید ہوتے ہیں ... جذب ان کو مسحور کرتا ہے ..یہ ایسے نسخہ ء کیمیا کی پیداوار ہوتے ہیں جن کے لیے والزیتون کا لفظ استعمال ہوتا ہے. خشک انجیر رگ و پے میں سرائیت کیے ہوئے، والتین کہتے قسم کھائی جاتی ہے. سودا، جنون خاک کو سلگائے رکھتا ہے .. باہر کی آگ کی حیثیت کچھ نہیں ہوتی جو آگ من کو آنچ دیے رکھتی ہے .باہر کے آبلے کچھ نہیں ہوتے، جو اند کا شیشہ چور چور ہو


    عشق میں فنائیت کیسے ملتی ہے؟ جب سچی آیات مل جاتی ہیں، یہی نشانیاں راہ دکھاتی رہتی ہیں ... راہ ہجر دکھا دی جاتی ہے، وصلت کے شوق کو تپش بڑھا دی جاتی ہے.... یہ آیات تن من میں تڑپ، شوق کو ہوا دیے رکھتی ہیں ... دل کے میل دھل جاتے ہیں، آئنے صیقل ہو جاتے ہیں .. جو علم حاصل کیا جاتا ہے وہ اُڑ جاتا ہے اور اک نَیا علم مل جاتا ہے. صحرا کی دھوپ کوئلے پر اس قدر تیز ہو جاتی ہے کہ ہیرا برآمد ہوجاتا ہے .... روشنی جب وجود کا حصہ بننے لگے تو اک پکار یہی ہوتی ہے

    عشق حیدری ہوتا ہے
    قلندر غلام ہوتا ہے
    غلام،کو کام ہوتا ہے
    لا الہ کہنا عام ہوتا ہے
    شاہا کی تسبیح ہوتی ہے
    کہیں یسین، کہیں حم
    کہیں مزمل، کہیں طسم
    کہیں مدثر، کہیں الم
    وہ حرف اول بقا چاہے
    وہ حرف ابد اک راز ہے


    عشق مانند برق لَہو میں دوڑ رہا رَہا ہے. یہ اصل مقناطیس کی قطبی کشش ہے. یہ جمال مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم جن میں انسان کھویا رہتا ہے ..قربانے کے مقررہ وقت پر سب سے قیمتی جوہر لٹادیا جاتا ہے ..لٹا کے، لٹانے والے کہتے ہیں ..

    حیدری ہیں، حسینی ہیں
    چراغ میں روشنی عالی
    یا علی کہتے جلا ہے پائی
    اندھیرے نے زندگی پائی
     

اس صفحے کی تشہیر