آہ جیدی !!!

پروفیسر شوکت اللہ شوکت نے 'آپ کے کالم' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جولائی 30, 2020

  1. پروفیسر شوکت اللہ شوکت

    پروفیسر شوکت اللہ شوکت محفلین

    مراسلے:
    308
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    معروف و عہد ساز ڈرامہ نگار ، اداکار اور مزاحیہ شاعر اطہر شاہ خان جیدی رمضان المبارک کی سترہ تاریخ کو وفات پا گئے۔ آپ کی وفات سے مزاح و فن کا ایک باب بند ہو گیا۔ آپ طویل عرصے سے شوگر اور گردوں کے عارضے میں مبتلا تھے۔ ڈرامہ سیریل’ انتظار فرمایئے‘ میں جیدی کے کردار سے شہرت کی بلندیاں چھونے والے اطہر شاہ خان یکم جنوری 1943 ء کو رام پور ( بھارت ) میں پیدا ہوئے۔ پاکستان بننے کے بعد آپ اپنے اہل و عیال کے ساتھ لاہور آگئے جہاں ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ بعد ازاں ثانوی تعلیم پشاور ، اُردو سائنس کالج کراچی سے گریجویشن اور پنجاب یونیورسٹی سے شعبہ صحافت میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی۔ آپ لاہور میں اپنی انتھک محنت سے تھیٹر اور فلم انڈسٹری میں نمایاں مقام حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ آپ نے کئی اُردو فلمیں لکھیں اس کے علاوہ پنجابی فلموں کے مکالمے اور کہانیاں بھی تحریر کیں جو سپر ہٹ ہوئیں۔ انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن کراچی سینٹر سے انتظار فرمایئے ، ہیلو ہیلو ، رفتہ رفتہ جیسے سپر ہٹ ڈرامہ سیریلز میں جیدی کے کردار سے ملک گیر شہرت پائی۔ اس کے علاوہ اُن کے مقبول سیریلز میں جانے دو ، برگر فیملی ، آشیانہ ، آپ جناب ، جیدی اِن ٹربل ، پرابلم ہاؤس ، ہائے جیدی ، کیسے کیسے خواب ، باادب با ملاحظہ ہوشیار اور دیگر ڈرامے شامل ہیں۔ انہوں نے ریڈیو پاکستان کے لئے بھی کام کیا جہاں انہوں نے بطورِ ڈرامہ فن کار اور براڈ کاسٹر پروگرام کئے۔ اطہر شاہ خان جیدی کی علمی و نشریاتی فہرست نہایت طویل ہے ۔ وہ ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے جو ایک شاعر ، ادیب ، ڈرامہ نگار ، اسکرپٹ رائٹر سے لے کر براڈ کاسٹر اور اداکار تک پر مشتمل ہے۔ آپ دو ٹوک بات کرنے والے شخص تھے اور معاشرتی مسائل کو مزاحیہ انداز میں بیان کرنے میں کمال کا ملکہ رکھتے تھے۔ یہاں اُن کے ایک ڈرامے سے لیے گئے چند مکالمے پیش خدمت ہیں: (۱) معاشرہ امیر اور غریب طبقات میں بٹا ہوا ہے۔ امیروں ، سرمایہ داروں اور اعلیٰ عہدوں پر فائز افراد کے پاس غریبوں کے داد رسی اور ملاقات کا وقت نہیں ہے لیکن اس عارضی و فانی دنیا وی زندگی کی آخری آرام گاہ سب کی ایک ہے۔جس کی حقیقت کو کچھ یوں پیش کیا:
    جیدی : اچھا، میں معافی چاہتا ہوں ۔ میں یہاں آنے سے پہلے دراصل ایک بہت بڑے سرمایہ دار کے پاس انٹرویو کا وقت لینے گیا تھالیکن انہوں نے ملنے سے انکار کر دیا۔
    گورکن : تو سرمایہ داروں کے پاس جانے کی کیا جارورت ہے۔ یہیں رہیں ، سب نے ایک دن یہیں تو آنا ہے۔
    (۲) معاشرتی حقیقت اور اس کی تلخیوں کو مزاح مزاح میں کچھ یوں بیان کرتے ہیں:
    جیدی ( ہاہاہا۔۔ نام دہراتے ہوئے ): چراغ دین گورکن ۔ بڑی خوشی ہوئی آپ سے مل کر۔
    گورکن ( تالی بجاتے اور مسکراتے ہوئے ) : کیا کہہ رہے ہیں آپ ۔ آپ پہلے زندہ آدمی ہیں جس کو گورکن کے ساتھ مل کر خوشی ملی ہے۔
    جیدی ( ٹہلتے ہوئے ) : اچھا آپ سے مسٹر لیمپ۔ چراغ دین ایک سوال ہے کہ آپ لوگ قبر اندازاً کتنی گہری کھودتے ہیں۔
    گورکن : یہی کوئی ایک فٹ۔
    جیدی (حیرت سے ) : صرف ایک فٹ۔
    گورکن : اگر زیادہ کھودیں تو نیچے والے مردے کو اعتراج ہووے۔
    جیدی :کیا؟ نیچے بھی ، نیچے بھی مردہ ہوتا ہے؟
    گورکن : او جی ، مردے کے نیچے بھی ۔۔۔ہاں مردہ ہووے۔
    (۳) ملاؤٹ ، جعلی ادویات، غریبوں کی حالت زار اور نظام صحت کی مخدوش صورت حال کی عکاسی اپنے مکالمے یوں کرتے ہیں:
    گورکن ( بات کاٹتے ہوئے ) : جناب ! وہ مجبوری ہے اماری۔ہم دیکھ نہیں رہے کہ یہاں کتنا رش ہے ۔
    جیدی : رش ہے۔ تو کیوں ہے یہاں اتنا رش؟
    گورکن : کھانے پینے کی چیزوں میں ملاوٹ ، نقلی دوائیں ،پر غریب لوگ تو بڑے ڈاکٹر کے پاس پہنچ نہیں پاتے۔ سمجھ گئے میری بات کو۔
    جیدی : جی جی ۔
    گورکن ( بات جاری رکھتے ہوئے ) : اور وہ جو اپنی بجٹ ہے نا، اُس میں صحت کے سلسلے میں کیا رقم رکھی جاتی ہے ؟ ساڈ ے کو پتہ ہے۔سڑک پہ لوگ ایکسیڈنٹ میں مرجاتے ہیں۔سارا پتہ ہے تواڈے کو۔
    (۴) ٹھیکے داری نظام اور ٹینڈروں کی حقیقت سے متعلق کچھ یوں فرماتے ہیں:
    جیدی : آپ نے صحیح کہا۔ اچھا، آپ یہ بتایئے کہ قبرستانوں کی حالت اتنی خراب کیوں ہے؟
    گورکن : ہاں ۔جیندہ آ باد یوں کی حالت تو بہت اچھی ہے نا۔
    جیدی : نن۔۔۔ نہیں۔ میرا مطلب یہ تھا کہ آپ لوگ اتنی کمزور قبریں کیوں بناتے ہیں؟ کہ ایک بارش میں بیٹھ جاتی ہیں۔
    گورکن : جناب ! یہ بتائیں کہ آپ نے کبھی سنا کہ اَم نے بجری یا وہ سیمنٹ کو استعمال کی ہو قبر میں ؟
    جیدی : نہیں ، نہیں
    گورکن : کول تار؟
    جیدی : نہیں۔
    گورکن : اور کبھی ٹینڈر کا سنا ہے قبرکا جو اَمارے نام کا نکلا ہو؟
    جیدی : نہیں ، نہیں۔
    گورکن : یہ جو بڑے بڑے کروڑ پتی ہیں نا ۔ یہ بڑے بڑے ٹینڈر پاس کراکے سڑکیں بناتے ہیں اور ایک بارش ہوئی اور سڑک ہوئی ختم ۔اُن سے تو کسی کو کوئی تکلیف نہیں۔ سارے اَم کوسنے پیٹنے کے لئے آجاتے ہیں۔
    آخر میں جیدی کا مزاحیہ شاعر جو ضرب المثل بن گیا ، عرض ہے۔
    میں نے پھولوں کی آرزو کی تھی
    آنکھ میں موتیا اُتر آیا
    آپ کی وفات سے پاکستان ٹیلی ویژن اور آپ کے چاہنے والوں کی آنکھوں میں ہر گزرتے وقت کے ساتھ ضرور موتیا اُتر آئے گا۔
     

اس صفحے کی تشہیر