میر آہِ سحر نے سوزشِ دل کو مٹا دیا

حسان خان

لائبریرین
آہِ سحر نے سوزشِ دل کو مٹا دیا
اِس باد نے ہمیں تو دیا سا بجھا دیا
سمجھی نہ بادِ صبح کہ آ کر اٹھا دیا
اُس فتنۂ زمانہ کو ناحق اٹھا دیا
پوشیدہ رازِ عشق چلا جائے تھا سو آج
بے طاقتی نے دل کی وہ پردہ اٹھا دیا
اِس موج خیز دہر میں ہم کو قضا نے آہ
پانی کے بلبلے کی طرح سے مٹا دیا
تھی لاگ اُس کی تیغ کو ہم سے سو عشق نے
دونوں کو معرکے میں گلے سے ملا دیا
سب شورِ ما و من کو لیے سر میں مر گئے
یاروں کو اِس فسانے نے آخر سلا دیا
آوارگانِ عشق کا پوچھا جو میں نشاں
مشتِ غبار لے کے صبا نے اڑا دیا
اجزا بدن کے جتنے تھے پانی ہو بہہ گئے
آخر گدازِ عشق نے ہم کو بہا دیا
کیا کچھ نہ تھا ازل میں نہ طالع جو تھے درست
ہم کو دلِ شکستہ قضا نے دلا دیا
گویا محاسبہ مجھے دینا تھا عشق کا
اِس طَور دل سی چیز کو میں نے لگا دیا
مدت رہے گی یاد ترے چہرے کی جھلک
جلوے کو جس نے ماہ کے جی سے بھلا دیا
تکلیف دردِ دل کی عبث ہمنشیں نے لی
دردِ سخن نے میرے سبھوں کو رلا دیا
اُن نے تو تیغ کھینچی تھی پر جی چلا کے میر
ہم نے بھی ایک دم میں تماشا دکھا دیا
(میر تقی میر)
 

طارق شاہ

محفلین
پوشیدہ رازِ عشق چلا جائے تھا، سو آج
بے طاقتی نے دل کی، وہ پردہ اٹھا دیا

تھی لاگ اُس کی تیغ کو ہم سے، سوعشق نے
دونوں کو معرکے میں گلے سے ملا دیا
مدت رہے گی یاد ترے چہرے کی جھلک!
جلوے کو جس نے ماہ کے، جی سے بھلا دیا
کیا کہنے صاحب!​
بہت عمدہ انتخاب پر ڈھیر ساری داد قبول کیجئے​
تشکّر​
بہت خوش رہیں​
 

احمد بلال

محفلین
واہ ۔ بہت زبردست۔ بہت اعلیٰ۔ کیا شاندار کلام ہے۔ ہر شعر کمال کا ۔ ہر لفظ تعریف کے لائق۔
اگر دس بار بھی ریٹنگ کی آپشن ملتی تو میں اسے دس بار ہی زبردست ریٹنگ کرتا۔
 
Top