بشیر بدر آنکھوں میں رہا دل میں اتر کر نہیں دیکھا

شمشاد خان نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اپریل 22, 2020

  1. شمشاد خان

    شمشاد خان محفلین

    مراسلے:
    1,807
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    آنکھوں میں رہا دل میں اتر کر نہیں دیکھا
    کشتی کے مسافر نے سمندر نہیں دیکھا

    بے وقت اگر جاؤں گا سب چونک پڑیں گے
    اک عمر ہوئی دن میں کبھی گھر نہیں دیکھا

    جس دن سے چلا ہوں مری منزل پہ نظر ہے
    آنکھوں نے کبھی میل کا پتھر نہیں دیکھا

    یہ پھول مجھے کوئی وراثت میں ملے ہیں
    تم نے مرا کانٹوں بھرا بستر نہیں دیکھا

    یاروں کی محبت کا یقیں کر لیا میں نے
    پھولوں میں چھپایا ہوا خنجر نہیں دیکھا

    محبوب کا گھر ہو کہ بزرگوں کی زمینیں
    جو چھوڑ دیا پھر اسے مڑ کر نہیں دیکھا

    خط ایسا لکھا ہے کہ نگینے سے جڑے ہیں
    وہ ہاتھ کہ جس نے کوئی زیور نہیں دیکھا

    پتھر مجھے کہتا ہے مرا چاہنے والا
    میں موم ہوں اس نے مجھے چھو کر نہیں دیکھا
    (بشیر بدر)
     
    • زبردست زبردست × 1

اس صفحے کی تشہیر