"آسیب پر یقین رکھتے ہو؟ "

عرفان سعید

محفلین
ہر انسان کے اندر ایسے ہی غیر مرئی اجسام کا احساس، ڈر، خوف کہیں نہ کہیں جا گزیں ہے اسلیے کہ ہم لوگ اگرکسی محفوظ مقام پر ہو تب بھی اندھیرے مین ...اکیلے پن میں ایک خوف لاحق رہتا ہے. .....کسی بھی چیز کی آہٹ بھی ہمیں خوفزدہ کرنے کو کافی ہوتی ہے ۔
ڈر تو انسان شہد کی مکھی سے بھی جاتا ہے۔
 

جاسم محمد

محفلین
میری دلچسپی یہ ہے کہ اگر جن توانائی کی کسی شکل سے پیدا کیے گئے ہیں تو جس طرح توانائی کی مختلف شکلوں کی جانچ ہم کئی طرح کے آلات سے کر سکتے ہیں، اسی طرح ممکن ہے کہ مستقبل میں ایسے آلات ایجاد ہو جائیں جو جنوں کا سراغ لگا سکیں۔
آپ کی بات سے یہ تاثر ملتا ہے جیسے جن کوئی مادی مخلوق ہیں جن کا مستقبل کے سائنسی آلات 'سراغ' لگا سکیں گے۔ جبکہ ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔ کیونکہ شیاطین و جنات کا آگ سے پیدا کرنا تمثیلی ہے۔ جیسے انسان کو مٹی سے پیدا کرنا بطور مثال ہے کہ کیونکہ انسان میں فطری طور پر مٹی جیسی کوئی بھی شکل و صورت اختیار کرنے کی خاصیت موجود ہے۔ اسی طرح شیاطین و جنات کی خاصیت بتلانے کی غرض سے آگ کا حوالہ دیا۔ اور آپ اسے مادی دنیا کی طرف لے گئے۔ یہیں سے دین و سائنس کا ٹکراؤ جنم لیتا ہے۔ اور دین و سائنس دونوں میدانوں میں گمراہی کی طرف لے جاتا ہے۔ براہ کرم آئندہ احتیاط کریں۔
 

جاسم محمد

محفلین
ہر انسان کے اندر ایسے ہی غیر مرئی اجسام کا احساس، ڈر، خوف کہیں نہ کہیں جا گزیں ہے اسلیے کہ ہم لوگ اگرکسی محفوظ مقام پر ہو تب بھی اندھیرے مین ...اکیلے پن میں ایک خوف لاحق رہتا ہے. .....کسی بھی چیز کی آہٹ بھی ہمیں خوفزدہ کرنے کو کافی ہوتی ہے ۔
اس غیرمرئی خوف کو انسان کی حیاتیاتی تاریخ کے حوالہ سے سمجھا جا سکتا ہے۔ لاکھوں سال قبل ہمارے اباؤاجداد غاروں میں رہتے تھے۔ رات کو اندھیرا گھپ کبھی سانپ لڑ گیا تو کبھی زہریلا بچھو۔ چوہوں، مکڑیوں، کیڑوں مکوڑوں سے بلاوجہ کا خوف ہمیں حیاتیاتی ورثہ میں ملا ہے۔
گو کہ اب انسان نے پکے مکانات بنا کر ان خوفناک چیزوں سے پناہ حاصل کر لی ہے۔ مگر ارتقائی خوف تاحال جاری و ساری ہے۔
 
خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ كَالْفَخَّارِ (14)
اس نے انسان کو ٹھیکری کی طرح بجتی ہوئی مٹی سے پیدا کیا۔
وَخَلَقَ الْجَآنَّ مِنْ مَّارِجٍ مِّنْ نَّارٍ (15)
اور اس نے جنوں کو آگ کے شعلے سے پیدا کیا
ایک مسلمان ہونے کے ناتے ہم جنات کے وجود سے انکار نہیں کرسکتے،
لیکن میں اس بات پر بلکل یقین نہیں کرتا کہ کسی پر جنات کا سایہ ہے ٗ
جنات بھی اللہ ﷻ کی مخلوق ہیں اور وہ بھی اللہ کی عبادت کرتے ہیں انسان سے اس کا کوٸی لینا دینا نہیں ہیں
 

یاسر شاہ

محفلین
جی بالکل -یہ سنّت جاری و ساری ہے -لیکن اجتماعی شکل میں اکتساب فیض کے لئے خفیہ ایجنٹس کی طرح اپنی جنّاتی شناخت بالکل چھپا دیتے ہیں جیسے مدرسوں اور دعوت و تبلیغ کی چلت پھرت وغیرہ میں -لیکن ہمارے ہاں کے تاڑنے والے تاڑ لیتے ہیں -کچھ آنکھوں وغیرہ میں فرق ہوتا ہے -و اللہ اعلم -
 

عرفان سعید

محفلین
جی بالکل -یہ سنّت جاری و ساری ہے -لیکن اجتماعی شکل میں اکتساب فیض کے لئے خفیہ ایجنٹس کی طرح اپنی جنّاتی شناخت بالکل چھپا دیتے ہیں جیسے مدرسوں اور دعوت و تبلیغ کی چلت پھرت وغیرہ میں -لیکن ہمارے ہاں کے تاڑنے والے تاڑ لیتے ہیں -کچھ آنکھوں وغیرہ میں فرق ہوتا ہے -و اللہ اعلم -
عین ممکن ہے کہ حقیقت میں ایسا ہوتا ہو۔ لیکن قرآن کی درج ذیل تصریح کے بعد اس پر چند سوالات ضرور پیدا ہوتے ہیں۔

يٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ اَلَمْ يَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ
’’اے ہمارے گروہ جن وانس ، کیا تمہارے پاس خود تم میں سے ایسے رسول نہیں آئے تھے (سورۃ الانعام 130)
یعنی جنات کے لیے رسول انہی میں سے مبعوث ہوئے۔ پھر اس اکتسابِ فیض کی کیا حاجت ہے؟
ایک برأت نامہ بھی داخل کر دوں۔ نہ تو کوئی تنقید مقصود ہے نہ بحث برائے بحث۔ چند تشنہ سوالات ہیں اس لیے بات آگے بڑھا رہا ہوں۔
 

یاسر شاہ

محفلین
عرفان بھائی آپ کو کسی برات نامے کی قطعا ضرورت نہیں -میں نے بہت سی چیزیں مباحث سے سیکھی ہیں - چونکہ میں عالم تو ہوں نہیں اس آیت کے نکتے پہ میں تحقیق کرونگا ان شاء اللہ -البتہ اتنا تو ضرور جانتا ہوں کہ نبیﷺ سے جنّات کا اکتساب فیض ثابت ہے -
 

سحرش سحر

محفلین
اہل عرب کے اس بارے میں خیالات کیا ہیں؟ ؟؟ اکثر ایسی ویڈیوز اور خبریں سنتے رہتے ہیں کہ حج کے موقع پر کسی جن کو دیکھا گیا تھا؟
 

نور وجدان

لائبریرین
جنات کے متعلق دھواں دھار بحث چل رہی ہے .... جن ہوتے ہیں، جن کیسے ہوتے ہیں؟ وغیرہ وغیرہ ... انسان سے بڑا جن بھی ہے کوئی اس روئے ارض پر:) جنات کے متعلق اتنی حقیقت سمجھ میں آتی ہے کہ چاہے کہ جن موجود ہیں:)
 

با ادب

محفلین
سحرش بہت خوب لکھا ....موضوع دلچسپ تھا طوالت بالکل محسوس نہیں ہوئی ۔
امید ہے حاضرین محفل یہاں جنات کے متعلق اپنی آراء سے مستفید فرماتے رہیں گے ۔
اسی طرح کچھ مختلف خیالات سے ہوسکتا ہے جنوں کا سراغ لگ جائے
 

S Aamir

محفلین
سلام
موضوع زبردست ہے
میرے دو پوائنٹس ہیں اس پر
1۔کیا آپ جنّات اور آسیب پر یقین رکھتے ہیں
اگر جواب نہیں میں ہوگا تو پھر حامل جواب کو خاموشی سے سننا چاہے۔ جہاں دلیل کے ساتھ بعد رد کر سکتا ہو۔ وہاں اسکو حق ہے
اور اگر اس سوال کا جواب ہاں میں ہو تو آگے پھر 2 قسم کے لوگ ہوں گے
A. جن کا کبھی واسطہ ایسی چیزوں سے نہیں پڑا اور وہ سنی سنائی پر ہی یقین رکھتنے ہیں
B.وہ لوگ کے جن کا واسطہ کسی نا کسی شکل میں ان سے پڑ چکا ہو
اب میں تمام قابل احترام ممبران کے جواب کا منتظر ہوں
 

ام اویس

محفلین
جنوں سے واسطہ پڑا یہ تو بعد میں بتاؤں گی البتہ پچھلے ہفتہ لندن سے آئی لینڈ آف وائٹ کی دو روزہ سیر کا موقع ملا ۔ بہن بہنوئی ان کے بچے ہم تقریبا آٹھ افراد تھے وہاں کاٹیج بُک کروایا ۔
دروازے کا لاک کھولتے ہی چھوٹی سی لابی تھی جہاں ریفریجریٹر پڑا تھا اس پر بلیوں کے مختلف پوزز میں سٹکرز لگے تھے سامنے باورچی خانہ نظر آرہا تھا جس کے دروازے پر بھی ڈھیر ساری بلیوں کی تصویریں تھیں ۔ پہلا خیال یہی گزرا کہ صاحبِ خانہ کتوں کی بجائے بلیوں کا شوقین ہے ۔
کچن میں داخل ہوئے تو ہر دیوار پر عجیب وغریب چیزیں ٹنگی نظر آئیں اگلا دروازہ کھولا تو چٹخنی میں اٹک گئے عجیب طرح کی چٹخنیاں تھیں باہر سے سیاہ لوہے کی ٹائی سی بنی ہوئی اسے جب نیچے کو دبایا جاتا تو کڑک کی آواز آتی اور اندر کی جانب سے ایک سیدھی پتری اوپر اٹھ جاتی اور دروازہ کُھل جاتا ۔۔۔ سب دروازوں میں ایسی ہی چٹخنیاں لگی تھیں یعنی کوئی دروازہ اندر سے لاک نہیں ہو سکتا تھا بیڈ روم بھی باہر سے کھلتے تھے۔
باتھ روم میں اندر کی طرف ایک اضافی چٹخنی لگی دیکھ کر الله کا شکر ادا کیا ورنہ اندر جا کر گانا گانا پڑتا ۔۔۔
خیر کچن کے بعد سٹنگ روم یا ڈرائنگ روم جیسا کمرہ تھا سامنے پرانے زمانے کا بڑا سا آتشدان تھا جو دھویں کی وجہ سے سیاہ ہوچکا تھا یا شاید اس پر ایسا پینٹ کیا گیا تھا اس میں جدید انداز کا آتشدان رکھا گیا تھا جس میں لکڑیاں ڈال کر آگ جلائی جاتی ہے اور سامنے سے بند کر دیا جاتا ہے ۔ آتشدان کے کارنس پر عجیب شکل کی بلی ، بد ہئیت اُلو ، بد شکل پِگ ، موم بتیوں کے لومڑی جڑے سٹینڈ ، مختلف خشک جڑی بوٹیوں کی پلیٹیں جن کے پیچھے دیوار پر جادوئی ہیبت ناک فریم شدہ تصویر لگائی گئی تھی ۔ آتشدان کے ساتھ کی دیوار پر پرانے انداز کی ایک شیلف بنی تھی جس پر لکڑی کا شیطانی کُھلا منہ ٹنگا تھا ساتھ ہی چین کی کہانیوں کے خوفناک کردار چوکور فریم میں کاڑھے ٹنگے تھے اس کے ساتھ گول ڈراؤنی شکل والا لکڑی کا کتبہ رکھا تھا ۔ بالمقابل دیوار پر تین بلیک اینڈ وائٹ پینٹنگز لگی تھی جو ٹوٹے ، خستہ ، روحوں والے سمندری جہاز ، تنہائی ، ڈر اور خوف کی علامت کا مکمل اظہار تھیں ان کے نیچے لکڑی کا نوکدار بھالا سا ٹانگا گیا تھا جو چڑیل یا ڈریکولا کو مارنے کے لیے بنایا جاتا ہے ۔ حسب روایت بیڈ روم اوپر تھے سیڑھیوں کے ساتھ ہی گول آئینہ لگا تھا جس پر موٹی سی چھپکلی دم پھیلائے لپٹی تھی ۔ ہمارے حصے میں جو بیڈ روم آیا اس کی ایک دیوار پر کتابوں کی شیلف کسی قدیم لائبریری کا منظر پیش کر رہی تھی ۔ تمام کتابیں جادو ، قتل ، ہو ، ہاؤ اور ہاؤنٹ کے موضوع پر تھیں ۔ دوسری دیوار پر دو موٹی موٹی چھپکلیاں چمٹی ہوئی تھیں تو تیسری دیوار پر خون آلود چہرے والی تجریدی آرٹ کا نمونہ ٹنگا تھا ۔۔۔۔۔
نہ جانے صاحب مکان نے کیسے شوق پال رکھے تھے کہ ہر مذہب و غیر مذہب کی شیطانی طاقتوں کا منظر گھر کے ہر کونے سے جھانک رہا تھا
 
Top