عبدالرحمٰن

  1. محمد تابش صدیقی

    غزل: زمانے کو زمانے کی پڑی ہے ٭ عبد الرحمٰن مومن

    زمانے کو زمانے کی پڑی ہے ہمیں وعدہ نبھانے کی پڑی ہے یہ دنیا چاند پر پہنچی ہوئی ہے تجھے لاہور جانے کی پڑی ہے ذرا دیکھو! ادھر میں جل رہا ہوں تمھیں آنسو چھپانے کی پڑی ہے فسانہ ہی حقیقت بن گیا ہے حقیقت کو فسانے کی پڑی ہے ابھی جو شعر لکھا بھی نہیں ہے ابھی سے وہ سنانے کی پڑی ہے ترے مہمان واپس جا...
  2. ایم اے راجا

    مجھ پہ احساں نہ یہ کیا جائے

    ایک اور تازہ غزل آپ کی تنقیدی رائے کیلئے عرض ہے۔ مجھ پہ احساں نہ یہ کیا جائے زخم دے کر نہ پھر سیا جائے میں مسافر ہوں دشت و صحرا کا مجھ سے شہروں میں کب جیا جائے میں نے مانگا ہے تشنگی کا سفر سو نہ دریا مجھے دیا جائے شہرِ ظلمت میں روشنی کیسی ؟ مجھ کو بھی اندھا کر دیا جائے میری برداشت دے گئی ہے...
  3. ایم اے راجا

    پھر نیا عشق کر لیا جائے

    استاد محترم الف عین صاحب ایک اور غزل برائے آپریشن حاضر ہے ۔ پھر نیا عشق کر لیا جائے آنکھ میں حسن بھر لیا جائے وہ ملے یا نہیں ملے لیکن شہر میں اُس کے گھر لیا جائے روز کے مرنے سے تو بہتر ہے ایک ہی روز مر لیا جائے منزلِ عشق ہے بہت ہی دور زادِ رھ خوب دھر لیا جائے زندگی آگ کا سمندر...
Top