سرفروشی کی تممنا

  1. مغزل

    ’’سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے ‘‘ -------- رام پرسادبسمل عظیم آبادی

    نظم ’’سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے ‘‘ (اردو: نستعلیق ) سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے کیوں نہیں کرتا ہے کوئی دوسرا کچھ بات چیت دیکھتا ہوں میں جسے وہ چپ تیری محفل میں ہے اے شہید ملک و ملت میں ترے اوپر نثار اب تیری ہمت کا چرچہ غیر کی محفل میں ہے...
Top