کراچی اور دلّی

  1. کاشفی

    پیاس دریا کی نگاہوں سے چھپا رکھی ہے - اقبال اشہر

    غزل (اقبال اشہر) پیاس دریا کی نگاہوں سے چھپا رکھی ہے ایک بادل سے بڑی آس لگا رکھی ہے تیری آنکھوں کی کشش کیسے تجھے سمجھاؤں ان چراغوں نے میری نیند اُڑا رکھی ہے کیوں نہ آجائے مہکنے کا ہُنر لفظوں کو تیری چٹھی جو کتابوں میں چھپا رکھی ہے تیری باتوں کو چھپانا نہیں آتا مجھ سے تونے خوشبو میرے لہجے میں...
  2. کاشفی

    خفا ہے ہم سے بہت آسمان کی خوشبو - اقبال اشہر

    غزل (اقبال اشہر) ڈاکٹر بشیر بدر کی زمین میں خفا ہے ہم سے بہت آسمان کی خوشبو کہاں سے لائیں بلالی اذان کی خوشبو جُدا نہ کیجئے الفاظ کو صداقت سے کشش نہ کھو دے کہیں داستان کی خوشبو اس اعتبار سے کس درجہ مالا مال ہیں ہم ہمیں نصیب ہے اُردو زبان کی خوشبو کہ تم قفس کے نہیں، مصلحت کے قیدی ہو تمہیں نصیب...
  3. کاشفی

    نئے موسموں کی کوئی خوشی، نہ گئی رُتوں کا ملال ہے - اقبال اشہر

    غزل (اقبال اشہر) نئے موسموں کی کوئی خوشی، نہ گئی رُتوں کا ملال ہے تیرے بعد میری تلاش میں کوئی خواب ہے نہ خیال ہے وہ چراغ ہوں کہ جسے ہوا نہ جلا سکی نہ بجھا سکی میری روشنی کے نصیب میں نہ عروج ہے نہ زوال ہے یہ ہے شہرِ جسم وہ شہرِ جاں، نہ یہاں سکوں نہ وہاں سکوں یہاں خوشبوؤں کی تلاش ہے وہاں روشنی...
  4. کاشفی

    ٹھہری ٹھہری سی طبیعت میں روانی آئی - اقبال اشہر

    غزل (اقبال اشہر) ٹھہری ٹھہری سی طبیعت میں روانی آئی آج پھر یاد محبت کی کہانی آئی آج پھر نیند کو آنکھوں سے بچھڑتے دیکھا آج پھر یاد کوئی چوٹ پرانی آئی مدتوں بعد چلا اُن پہ ہمارا جادو مدتوں بعد ہمیں بات بنانی آئی مدتوں بعد پشیماں ہوا دریا ہم سے مدتوں بعد ہمیں پیاس چھپانی آئی مدتوں بعد کھلی...
  5. کاشفی

    یہ جگنوؤں کی قیادت میں چلنے والے لوگ - اقبال اشہر

    غزل (اقبال اشہر) یہ جگنوؤں کی قیادت میں چلنے والے لوگ تھے کل چراغ کی مانند جلنے والے لوگ ہمیں بھی وقت نے پتھر صفت بنا ڈالا ہمیں تھے موم کی صورت پگھلنے والے لوگ ہمیں نے اپنے چراغوں کو پائمال کیا ہمیں ہیں اب کفِ افسوس ملنے والے لوگ سمٹ کے رہ گئے ماضی کی داستانوں تک حدودِ ذات سے آگے نکلنے والے...
  6. کاشفی

    اُس کی خوشبو میری غزلوں میں سمٹ آئی ہے - اقبال اشہر

    غزل (اقبال اشہر) اُس کی خوشبو میری غزلوں میں سمٹ آئی ہے نام کا نام ہے، رسوائی کی رسوائی ہے دل ہے اک اور دوعالم کا تمنائی ہے دوست کا دوست ہے، ہرجائی کا ہرجائی ہے ہجر کی رات ہے اور اُن کے تصوّر کا چراغ بزم کی بزم ہے، تنہائی کی تنہائی ہے کون سے نام سے تعبیر کروں اِس رُت کو پھول مرجھائے ہیں،...
Top