مظر وارثی

  1. نوآموز

    وہی خدا ہے۔ (مظفر وارثی)

    کوئی تو ہے جو نظام ہستی چلا رہا ہے وہی خدا ہے دکھائی بھی جو نہ دے، نظر بھی جو آ رہا ہے وہی خدا ہے وہی مشرق، وہی مغرب سفر کريں سب اُسی کی جانب ہر آئینے میں جو عکس اپنا دِکھا رہا ہے وہی خدا ہے تلاش اُس کو نہ کر بتوں میں وہ ہے بدلتی ہوئی رُتوں میں جو دن کو رات اور رات کو دن بنا رہا ہے وہی خدا ہے...
Top